خوشی کے لیل و نہاراور مستقبل کا منظر نامہ
16 اگست 2019 2019-08-16

ذی الحج کے مہینہ میں پہلا عشرہ اللہ کی رحمتوں اور بر کتوں کا عشرہ ہے۔اس عشرے میں پوری دنیا سے مسلمان بیت اللہ میں جمع ہو کر حج ادا کرتے ہیں۔حج مسلمانوں میں ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے۔صاحب استطاعت سے مراد وہ مسلمان ہیں جو بیت اللہ تک آنے جانے ،وہاں قیام کرنے اور جتنے دن وہاں قیام کریں اپنے اہل و عیال کے لئے نان و نفقہ کا بندوبست رکھتا ہو۔چونکہ ہر مسلمان کی خواہش ہو تی ہے کہ وہ اللہ کی گھر کی زیارت کرے۔ محمدؐ کے روضہ مبارک پر حاضری دے، اس لئے بعض لوگ سالوں سے روپیہ جمع کرکے حج کی سعادت حا صل کر تے ہیں۔حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ہے۔ اس دن حاجی میدان عرفات میں کھلے آسمان تلے جمع ہو جاتے ہیں اور اللہ سے اپنے لئے مغفرت کی دعائیں کر تے ہیں۔یہی وہ دن ہے کہ جس میں اللہ انسانوں کے دعائوں کو رد نہیں کرتا۔ ہر مسلمان چا ہے وہ میدان عرفات میں مو جود ہو یا نہیں ،جو بھی اسی دن اللہ کے سامنے ہاتھ اٹھتا ہے ،اللہ ان ہاتھوں کو خالی نہیں لٹاتا۔یوم عرفہ کے دن روزہ کا حکم بھی ہے۔ خوش قسمت ہے وہ مسلمان جو عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں اور پھر روزہ ہی کی حالت میں اللہ سے اپنے لئے مغفرت کی دعائیں کرتا ہے۔انہی ایام میں تکبیرات پڑھنے کا بھی حکم ہے۔ہر نماز کے بعد مرد باآواز بلند اور عورتیں آہستہ تکبیرات پڑھ کر سنت ابراہیمی کو زندہ کرتی ہیں۔پھر عید الاضحی کے دن قربانی کی جاتی ہے۔یہ قربانی بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔پوری دنیا میں مسلمان اس سنت کو ہر سال زندہ کرتے ہیں۔بہت سارے لوگ اس پر اعتراض بھی کرتے ہیں لیکن مسلمان ان اعتراضات کی پروا کئے بغیر اس سنت کو زندہ کرتے ہیں۔بلا شبہ جانور قربان کر نے سے سنت ابراہیمی زندہ کرنے سے اجر ملتا ہے ،لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ قربانی کے فلسفے کو سمجھ کر اس سنت پر عمل کیا جائے۔عید الاضحی کے دن جانور کی قربانی ضروری ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ اسی دن انسان اپنے تما م انائوں، تعصبات، دشمنیوں، ضد اور ہٹ دھرمیوں کو بھی ذبح کر دے۔ اگر عید الاضحی کے دن انسان جانور کو قربان کرتا ہے لیکن ان امور کو قربان نہیں کر تا جس سے اللہ نے منع کیا ہے تو ممکن ہے کہ اس کی قربانی ہو جائے لیکن وہ فلسفہ جس کے تحت یہ قربانی دی جاتی ہے ساری زندگی وہ اس کے ثمرات سے محروم رہے۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ قربانی کر تے وقت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت کا مطا لعہ کیا جائے اور اپنے اندر ابراہیمی صفات پیدا کر نے کی کوشش کی جائے۔ ابراہیم علیہ السلام کی سب سے پہلی صفت جو اللہ نے بیان کی ہے وہ ہے ’’ یکسوہونا‘‘ اور ’’شرک‘‘ نہ کرنا۔ ابراہیم علیہ السلام اس عقیدہ پر یکسو تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ آج کا مسلمان بھی اللہ کی ذات پر یکسو ہو جائے۔ دوسرے استانوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی عبادت کی جائے اور صرف اسی ہی سے مدد طلب کی جائے۔اگر قربانی والے دن بھی مسلمان یہ عہد نہ کر سکے تو بڑی بد بختی کی بات ہو گی۔قربانی کے بعد جانوروں کی الائشوں کو کھلے مقامات پر پھینک دینا بھی زیادتی ہے۔ ضروری ہے کہ قربانی کے بعد الائشوں کو ٹھکانے لگا یا جائے۔دیکھنے میں آیا ہے کہ عام طور پر قربانی کرنے والے اس معاملے میں لا پرواہی برتتے ہیں۔

عیدلاضحی کے بعد 14 اگست کا دن بھی مسلمانان پاکستان کے لئے خوشی کا دن ہے۔ہر سال یہی دن قومی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی لوگ تیاریوں میں لگ جاتے ہیں۔بنیادی طور پر 14 اگست کا دن تجدید عہد وفا کا دن ہے۔اس سال چونکہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خود مختار حیثیت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ وہاں کی عوام بھارت کے اس فیصلے کو ماننے سے انکاری ہے، اس لئے وہاں گزشتہ کئی دنوں سے کرفیو نا فذ ہے۔اخبارات پر پابندی ہے۔ انٹر نیٹ سروس کو بند کر دیا گیا ہے۔ ٹیلی فون کے نظام کو بھی غیر فعال کیا گیاہے۔الیکٹرانک میڈیا پر پابندی ہے۔وادی میں لوگ گھر وں میں محصور ہیں۔ اس لئے اس ظلم اور جبر کے خلاف پاکستان نے14 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کے ساتھ یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا ،جبکہ بھارت کی یوم آزادی15اگست کویوم سیاہ کے طور پر منایا۔یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کو یہ پیغام دیا گیاکہ پاکستان مقبوضہ وادی کی عوام کے ساتھ ہے۔یوم سیاہ سے بھارت کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان ،بھارت کے ظالمانہ اور غیر منصفانہ اقدامات کا مخالف ہے۔ان دو ایام میں پاکستان نے پوری دنیا کو پیغام دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ظلم اور بربریت کا نوٹس لیں۔ دہلی کو یک طرفہ اقدامات سے روکیں۔اس لئے کہ ان کا یہ فیصلہ صرف پاکستان اور بھارت کے لئے خطرات کا باعث نہیں بن سکتا بلکہ اس پورے خطے کے لئے باعث تباہی بن سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ خطے کے ممالک اور عالمی دنیا بھارت کے اس یک طرفہ اقدام کا نو ٹس لیں۔ بھارت پر دبائو ڈالیں کہ وہ متعلقہ فریقیں یعنی پاکستان اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی مر ضی کے خلاف اس مسئلے کو حل کرنے سے گریز کریں۔

پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان میں بھی قیام امن کے لئے متعلقہ فریقین،امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان مذاکرات آخری پڑائو میں ہیں۔افغانستان میں صدارتی انتخابات میں مہینہ باقی ہے۔امکان تو یہی ہے کہ صدارتی انتخابات سے قبل یعنی اسی مہینے میں صورت حال واضح ہو جائے گی۔اگر دونوں فریقین کے درمیان امن معاہدہ ہو جاتا ہے تو پھر امن اس خطے کا مقدر ہے۔ اس کے برعکس اگر مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں،تو پھر صورت حال کسی اور سمت جاسکتی ہے۔اس لئے کہ ایک طرف افغانستان میں محاذ گرم ہو گاتو دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات خراب ہونگے۔پڑوس میں ایران کو بھی امریکا کے ساتھ کشیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔ اس تمام صورت حال کو سامنے رکھتے ہو ئے کہا جاسکتا ہے کہ رواں مہینہ تعین کریگا کہ حالات بہتری کی طرف جاسکتے ہیں یا خرابی کی طرف۔پاکستان میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیاں بھی شدید تنائو موجود ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حزب اختلاف اس وقت انتشار کا شکار ہے۔مسلم لیگ (ن) کسی اور کشتی میں سوار ہے۔پیپلز پارٹی نے اپنے انڈے کسی اور ٹوکری میں ڈال دئیے ہیں۔ جمعیت العلماء اسلام ٖ(ف) کسی اور سمت جارہی ہے۔غرض اس وقت حکومت کا پلڑا بھاری ہے۔گرمی کی شدت میں کمی آنے کے بعد پیپلز پارٹی ممکن ہے تھوڑا بہت احتجاج کر لیں۔ اگر اس دوران آصف علی زرداری اور فریال تا لپور کی ضمانت ہو جاتی ہے تو پھر پیپلز پارٹی خاموش ہی رہے گی۔لیکن ابھی تک جو سیاسی صورت حال بن رہی ہے وہ یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی،جے یو آئی (ف) پارلیمنٹ کے اندر ہی ماحول کو گرم رکھیں گے۔ محمود خان اچکزئی اور اسفند یار ولی حسب معمول قوم پرستی کا چورن بیچنے پر گزرا کریں گے۔


ای پیپر