اعلیٰ درجے کے خوش آمدی اور مودی کی رسوائی…؟؟
16 اگست 2019 2019-08-16

مجھے خوش آمد کرنے والوں سے محبت ہوتی جا رہی ہے۔میں سمجھتا ہوں یہ خوش آمد کرنے والے ’’ تمام‘‘ انسان نہیں ہوتے ویسے یہ ’’خاص‘‘ بھی نہیں ہوتے؟؟ پچھلے دنوں اِک دن مرید نے مجھ سے رابطہ کیا ’’ اور عرض‘‘ کی ۔۔حضور والا ہم بھی خوش آمدوں کی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیںیا نہیں ؟؟!!!’’ (آپ یہاں پر تصور نہ کریں کہ ہم بھی ان مریدوں کی صف میں کھڑے ہیں؟!!)

آپ حیران نہ ہوں۔۔ ’’رن مرید‘‘ درجے میں خالص خوش آمدی سے نہیں بچے کے درجے پر فائز ہیں کیونکہ ’’رن مرید‘‘ نے صرف بیوی کی خوش آمد کا بیڑہ اٹھا رکھا ہوتا ہر دم بیوی کو خوش کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔بیوی جتنی بھی ظالم ہو اُس نے بہر حال رن مرید کو آخر کار اپنے ’’ پیروں کے نیچے چھپا‘‘ ہی لینا ہوتا ہے (اخلاقیات بھی تو کوئی چیز ہے؟) ویسے یہ ’’ رن مریدی‘‘ بھی اِک عرصہ تک چلتی ہے اُس کے بعد مرد کے اندر سے اکھڑ قسم کا نہایت بدتمیز مرد باہر نکل آتا ہے اور عورت بیچاری مُنہ دیکھتی رہ جاتی ہے اور مرد ۔۔۔۔۔ کے طور پر کہنے لگتا ہے۔’’ آخر اسلام نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت بھی تو دے رکھی ہے؟؟‘‘ یہ وہ مردانہ ہتھیا ر ہے جس کا مقابلہ کسی ۔۔۔۔ یا تلوار سے ہونا ممکن نہیں؟؟

ایک آدمی جو جوانی میں رن مرید رہا تھا اور بیوی کی فرمانبرداری میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔۔ بڑھاپے میں پہنچا تو ایک دن اِک بچپن کا دوست کھانے پر آیا۔۔وہ یعنی سابقہ رن مرید۔۔بیوی کو ہر بات پر ’’جانو‘‘ کہ کر محبت سے پکارتا۔ جانو یہ پکڑو۔۔جانو یہ دیکھوں۔۔جانو یہ کھائو۔۔ یہ پہنو جانو؟؟!!!

بچپن کے دوست نے حیرت سے پوچھا۔۔ارے بھائی اب تو یہ خوش آمد یا رن مریدی سے کنارہ کشی اختیار کر لو۔۔ کیا جانو۔۔ جانو لگا رکھی ہے تم نے۔؟!!

’’ دوسرے نے مسکراتے ہوئے۔۔پہلے کے کان میں آہستہ سے کہا۔۔۔اصل میں گھبرائو مت بتاتا چلوں کہ میں بیوی کا نام بھول چکا ہوں اِس لئے ’’جانو ‘‘، ’’جانو‘‘ کہہ کر پکارتا ہوں۔

ہاں تو میں عرض کر رہا تھا کہ۔۔ رن مرید صرف اِک عدد یا کہیں کہیں دو عدد بیویوں کے تا بعداری کا فریضہ سر انجام دیتا ہے جبکہ خوش آمدی نے عادت سے مجبور ہر اک کی خوش آمد کرنا ہوتی ہے۔ہمارے دوست جن کے ہاں جب بھی ہم گئے۔اُنہوں نے کھانا اصرار کر کے کھلایا اور آپ سُن کر خُوش ہوں گے کہ ہر بار ہمیں کھانے میں ’’ساگ‘‘ ہی پیش کیا گیا ۔۔کیونکہ ہماری بھابھی صاحبہ کے ابّو جان کے ۔۔ گائوں میں ’’ ساگ کے باغ‘‘ ہیں ۔ بھا بھی صاحبہ کے ساتھ ساتھ سُسر صاحب کو بھی خُوش کر ڈالتے ہیں ۔ اِک ۔۔۔۔ یعنی اپنی رن مریدی کا فریضہ بھی سرانجام دے ڈالا اور سُسر صاحب کی خوش آمد بھی لگے ہاتھ کر ڈالی۔۔ وہ الگ بات ہے کہ جب بھی اُس کے اصرار پر کھانا کھایا۔دو تین دن پیٹ میں گڑ گڑ گڑ گڑ ہوتی رہی اور ہم ’’ ساگ‘‘ کے فیض و برکات اور ساگ کی موجودہ صدی میں اہمیت و افادیت پر لیکچر بھی سنتے رہے۔حالانکہ درپردہ اِک رن مرید خوش آمدی اپنی عادت پوری کر رہا تھا۔

گائوں میں اِک خوش آمدی ہمارے دوست خاصے بڑے زمیندار ہیں لیکن گائے بھینس کے لیئے ( پٹھے) لانے کے لیئے انہوں حسب دستور گدھا گاڑی بھی رکھی ہوتی ہے۔نئے ماڈل کی کالے رنگ کی کرولا کے ساتھ اُن کی ’’ کھوتی‘‘ بھی بندھی ہوتی ہے۔اِک دن ہم نے دیکھا موصوف گدھا گاڑی پر چارہ (پٹھے) لاد کے کھوتی ریڑھی پر گائوں کی طرف آرہے تھے۔جانور نے ذرا سُستی کا مظاہرہ کیا اور کچی سڑک پر آگے جانے سے انکار کر دیا۔۔انہوں نے وہاں بھی خوش آمد کا دامن نہیں چھوڑا اور آہستہ سے اُس کے کان کے پاس مُنہ کر کے بولے۔۔

’’چل میری بہن۔۔ جلدی سے گائوں لے جا۔۔ یہ لاہور سے آئے ہوئے تماش بین قسم کے لوگ کیا کہیں گے۔‘‘ ’’ گائوں میں کھوتی بھی اِن کی بات نہیں مانتی۔۔؟!! چل شاباش جلدی چل۔۔ چل میری بہن شاباش‘‘۔جس کی خوش آمد ہو رہی ہوتی ہے۔۔ اُس کی گردن میں سریا کیوں نہ آئے۔۔؟؟!! لوگ یعنی خوش آمدیوں کا نمول جس کے گرد ہوگا۔۔وہ اپنی اوقات تو پھر دکھائے گا ناں؟؟!!!

جس کی بلاوجہ خوش آمد کی جائے وہ ضرورت سے زیادہ Liberty لے جاتا ہے اور ایسی ایسی عجیب حرکت کر جاتا ہے کہ جس پر خوش آمد نہیں چھترول ہونا ضروری ہو جاتی ہے بھارتی گائے بھینس پارٹی کے ہندوئوں نے مودی کو بلا وجہ سر پر چڑھا لیا ہے جس پر وہ ظالم گائے کا پیشاپ ثواب سمجھ کر پیتا چلا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو تنگ کرنے میں مگن ہے لاکھوں فوجی اُس کی اِس جاہلانہ حرکت پر سرتسلیم خم کئے مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتے چلے جا رہے ہیں اس کا الٹا اثر یہ ہوا کہ دنیا بھر میں نہ صرف مودی ذلیل و خوار ہو رہا ہے بھارتی فوج بھی رسوا ہوتی دکھائی دینے لگی ہے اور ہندو ازم اور وہ بھارت جو ایک سیکولر ملک کہلانے پر بضد تھا وہ ایک فاشسٹ سٹیٹ کے طور پر جانا جانے لگا ہے۔


ای پیپر