فوٹو بشکریہ فیس بک

منی لانڈرنگ کیس، آصف زرداری کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد
16 اگست 2019 (12:31) 2019-08-16

اسلام آباد:اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری کے پارک لین کیس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مستر د کرتے ہوئے انہیں تین روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل راولپنڈی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے جیل حکام کو حکم دیا ہے کہ آصف علی زرداری کو 19اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔ جبکہ عدالت نے آصف زرداری کو اپنی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقات کی اجازت بھی دے دی۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کیس میں ایک نئی پیش رفت ہوئی ہے اس لیے آصف علی زرداری کا مزید چار روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ایک ملزم نے بیان دیا ہے ، آصف زرداری سے کنفرنٹ کروانا ہے اس لئے آصف زرداری کا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ دوران سماعت آصف علی زردار ی خود روسٹرم پر آگئے اور احتساب عدالت کے جج سے مخاطب ہو کر کہا کہ نیب والے نماز بھی نہیں پڑھنے دیتے اور عید کی نماز بھی نہیں پڑھی، اگر ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی یہاں ہوں تو ان سے پوچھتا کہ یہ کونسی اسلامی ریاست ہے۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ عدالت کی اجازت کے باوجود میری بیٹی کو مجھ سے ملنے نہیں دیا گیا، یہ کیسا قانون ہے؟ آصف زرداری نے عدالت سے استدعا کی مجھے میری بیٹی سے ملنے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے آصف زرداری کو اپنی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری سے ملنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے 62 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر آصف زرداری کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ آصف زرداری کے وکیل سردار لطیف خان کھوسہ نے احتساب عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ آصف زرداری کو اپنے اہلخانہ اور وکلاء سے ہفتے میں تین روز ملاقات کی اجازت دی جائے۔ جبکہ آصف زرداری کے وکلاء نے آصف زرداری کو جیل میں اے کلاس دینے اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کہ بھی استدعا کی ہے۔

عدالت نے درخواست پر نیب حکام سے 19 اگست کو جواب طلب کر لیا ہے۔


ای پیپر