Source : File Photo

ایران امریکہ کشیدگی اور عالمی امن!
16 اگست 2018 (22:22) 2018-08-16

امتیاز کاظم:ایران کے ساتھ حقیقی سمجھوتے کے دروازے کھلے ہیں“ یہ بیان دے کر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ اُس نے گیند ایران کے کورٹ میں پھینک دی ہے اور ایران اس کا مثبت جواب دے حالانکہ ایسا نہیں ہے، ایران کا جوہری روّیہ شروع ہی سے مثبت ہے، سابقہ امریکی حکومت کے ایران سے معاہدہ کرنے کے بعد سے لے کر اب تک ایران اس معاہدے کی پاس داری کرتا چلا آرہا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری امریکہ کی بجائے ایران کا ساتھ دے رہی ہے لیکن ٹرمپ جیسا ضدی امریکی صدر اس بات پر اڑا ہوا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں ترک کرنے کی یقین دہانی کرائے تو اس کے ساتھ حقیقی اور دیرپا معاہدہ ہوسکتا ہے۔ یہ لچک دار بیان بھی 24 اور 25 جولائی کو ٹویٹر کشیدگی کے بعد جاری ہوا ہے۔ امریکہ ایران سے خفا کیوں ہے؟ اس کے پیچھے کون کون سے ہاتھ کارفرما ہیں اور امریکہ کیا چاہتا ہے؟

آسٹریلیا بین الاقوامی انٹیلی جنس اتحاد ”فائیوآئینز“ کا رُکن ہے۔ ایک آسٹریلوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اگست میں ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ فائیو آئینز کا رُکن ہونے کے ناطے آسٹریلیا امریکہ سے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کر سکتا ہے لیکن امریکہ یہ کیوں چاہتا ہے جب کہ ایران یورینیم کی افزودگی تقریباً بند کرچکا ہے جس کی عالمی ادارے (AEIA) تصدیق بھی کرچکے ہیں۔ ترکی علی الاعلان ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ یورپی ممالک اور عالمی برادری کا ووٹ بھی ایران کے حق میں ہے، کیا امریکہ اگر ایسا کر رہا ہے تو وہ اسرائیل کو آشیر باد دے رہا ہے یا یمنی حوثیوں کے خلاف خود فرنٹ لائن پر آنا چاہ رہا ہے؟ یمنی حوثیوں کا بحیرہ احمر میں تیل بردار سعودی جہاز پر حملہ ایران کی کامیاب حکمت عملی کی طرف بڑھتا ہوا ایک قدم دکھائی دیتا ہے۔

جہازکو اگرچہ معمولی نقصان پہنچا ہے لیکن اس سے شدید ماحولیاتی تباہی اور آلودگی کا خطرہ بھی بہت بڑھ گیا ہے جب کہ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ سعودی جہازوں پر حملے سے عالمی تجارت مخدوش ہو کر رہ گئی ہے۔ کیا امریکہ ایران کی سرگرمیوں کو محدود کر کے بحیرہ احمرکو محفوظ بنانا چاہ رہا ہے کیونکہ یمنی حوثیوں کی مدد کا الزام بھی ایران کے سر تھونپا جارہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل ایرانی میزائلوں اور کچھ ایٹمی ہتھیاروں کی زد پر بھی ہے۔ ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کروا کے اسرائیل ایران کو زچ کرنا اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہ رہا ہے۔ ترکی کے وزیرخارجہ چاﺅش روغلو نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل درآمد کو خارج ازامکان قرار دیا ہے اور ترکی نے اپنے فیصلے سے امریکہ کو آگاہ بھی کر چکا ہے۔ جس کے بعد نیٹو اتحادیوں اور ترکی کے درمیان تناﺅ میں اضافے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

ایران تیل اور قدرتی گیس سے مالامال ملک ہے اور ترکی اپنی ضروریات کے لیے ایران پر انحصار کرتا ہے جب کہ امریکہ کی طرف سے ایٹمی معاہدے میں توسیع نہ کرنے اور ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد ہونے کے باعث ترکی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایران ترکی اور شام سمیت دو بڑی ایٹمی طاقتوں روس اور چین کا حمایت یافتہ بھی ہے۔ شام میں ایران اور روس کا کردار امریکہ کے مقابلے میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں جب کہ امریکہ کا سعودی ممالک کو تحفظ فراہم کرنا بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے یہ کوشش ہو رہی ہے کہ وہ نیٹو جیسا اتحاد عرب ممالک میں بھی بنائیں جسے ”عرب نیٹو“ جیسا ہی کوئی نام دے دیا جائے۔ امریکہ کم ازکم چھ خلیجی ریاستوں کے ساتھ مصر اور اُردن کے ساتھ آٹھ ممالک کا اتحادی نیٹو قائم کرنے کے لیے رواں برس خود میزبانی کرنے کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق ممکنہ طور پر12اکتوبر کو واشنگٹن میں دو روزہ کانفرنس ہونا متوقع ہے جس میں امریکہ کے اتحادی عرب ممالک کے سربراہان شریک ہوں گے اور ظاہر ہے کہ یہ عرب اتحاد /عرب نیٹو ایران کے خلاف ہی بنے گا جس میں تیل کا فیکٹر بھی اہم کردار ادا کرے گا جب کہ یمنی حوثیوں کی مدد اور شام میں ایران کا کردار بھی امریکہ کے مد نظر ہے۔ عرب اتحادی فوج پہلے سے ہی یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں مشغول ہے۔ 27 اور 28 جولائی کو عرب اتحادی فوج کی معاونت سے یمنی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے نصف درجن حوثی کمانڈروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس کی تصدیق کی ہے یعنی عرب اتحادی فوج پہلے سے ہی یمن میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے اور سعودیہ حوثیوں کی ٹریننگ کا الزام ایرانی پاسدارانِ انقلاب پر لگا رہا ہے۔

امریکہ جب فلسطین کے خلاف اسرائیل کا دارالحکومت بنانے میں مدد کر رہا تھا تو اُس وقت عرب ممالک کا ایک متحدہ کردار سامنے آنا چاہیے تھا تاکہ وہ امریکی عزائم کے آگے بند باندھ دیتے لیکن اُس وقت سوائے کچھ مذمتی بیانات کے اور کوئی بات سامنے نہیں آئی جب کہ سعودی ممالک متحد ہو کر امریکہ کو اُس کے بُرے عزائم سے دُور رکھ سکتے تھے۔ اُس وقت عرب اتحادی فوج بھی اپنا کردار فلسطین کی حمایت کے لیے ادا کرسکتی تھی لیکن اُس وقت کی خاموشی اب نموشی میں بدل رہی ہے۔ ایران چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے افغانستان تک بھی رسائی حاصل کر رہا ہے جسے بھارت اپنی مصنوعات اور دیگر سامان کی نقل وحرکت کے لیے بھی استعمال کرے گا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ امریکی اتحادی افغان جنگ کو ایران میں منتقل کرنا چاہ رہے ہیں اور اس میں بھارت بھی ان کا مددگار بنے کیونکہ امریکہ بہرحال ایشیا سے نکلنا نہیں چاہ رہا جب کہ جولائی کے آخر میں ہونے والے چار فریقی مذاکرات ( امریکہ ، افغان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ایک ایسا ملک جو عراق پر بغیر تحقیق کے حملہ کرسکتا ہے، افغانستان کو رگید سکتا ہے اُس کے لیے ایران پر کوئی بھی الزام دھرنا کون سا مشکل کام ہے لیکن ایک بات بڑی قابلِ غور ہے کہ امریکہ یہ جنگ ایٹمی طاقت پاکستان کے اردگرد ہی رکھنا چاہ رہا ہے اور ٹارگٹ بھی اسلامی ممالک ہیں جبکہ محفوظ ٹھکانوں کا بھونڈا الزام بھی پاکستان پر ہی آرہا ہے۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ سعودی عرب، مصر اور عرب امارات کے ساتھ مل کر بحیرہ احمر میں ”ایگل رسپانس 2018ئ“ کے نام سے جنگی مشقیں بھی جولائی کے آخر میں کرچکا ہے جس میں پاکستان بطورِ مبصر شریک رہا ہے۔ 8 مئی 2018ءکو جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تو اس نے اپنے اتحادیوں کو پریشان کر دیا تھا۔ فیڈریکاموگرینی اور ایرانی جواد ظریف کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کو ”گروپ آف ورلڈ پاور“ کے پانچ ممالک سمیت 8 ممالک کی حمایت حاصل تھی جس میں یورپی یونین بھی شامل تھی اور یہ معاہدہ 2اپریل 2015ءکو سوئٹزرلینڈ میں طے پایا تھا جسے اب ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا بہانہ بنا کر ایران پر چڑھائی کی کوشش کی جارہی ہے۔ امریکی وزیردفاع جنرل جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ ” امریکہ ایران کی حکومت گرانا نہیں چاہتا، امریکہ ایران میں روّےے اور پالیسیوں کی تبدیلی چاہتا ہے۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ ایران خطے میں اپنی فوج، خفیہ اداروں اور ”پراکسی“ کا استعمال بند کرے کیونکہ اس قسم کے اقدامات سے مشرق وسطی کو خطرہ ہے“۔

ایران سے مشرق وسطیٰ کو خطرہ جب کہ امریکہ سے پوری دُنیا کے امن کو خطرہ ہے۔ امریکہ اپنے روّےے پر غور کیوں نہیں کرتا۔ یہ امر بھی انتہائی تشویش ناک ہے کہ امریکہ کے اپنے لیے معیارات الگ ہیں جبکہ دُنیا کے ممالک کے لیے الگ ہیں۔ امریکہ کسی بھی ملک پر حملہ کردے یا پابندیاں لگا دے، سودے منسوخ کر دے اُس کا وہ کوئی نہ کوئی جواز تلاش کر لے گا جب کہ دُنیا کا کوئی دوسرا ملک ایسا رویہ اختیار نہیں کرسکتا لہٰذا امریکہ کو ایران پر حملے کے لیے جواز تلاش کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے بس اُسے کچھ ممالک کی حمایت چاہیے ہوتی ہے جس میں روس اور چین کی بھی اہمیت ہے لیکن روسی صدر پیوٹن نے گزشتہ دنوں جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ایرانی جوہری معاہدہ ایک بہترین عالمی معاہدہ ہے۔

اس جوہری معاہدے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔ غیر ملکی میڈیا بھی روس کی طرف سے اسی بات پر زور دے رہا ہے کہ مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے اور اب تک کی تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ ٹرمپ ایرانی صدر سے ملاقات کے تیار ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ نے ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ غیرمشروط ملاقات کا عندیہ دیا ہے 30 جولائی کو وائٹ ہاﺅس میں اطالوی وزیراعظم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی رہنما جب چاہیں اور جس مقام پر چاہیں میں ان سے ملاقات کے لیے تیار ہوں۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مخالفین سے ملاقاتیں کرنے پر یقین رکھتے ہیں تاکہ معنی خیز پیش رفت کی راہ نکل سکے۔ لیکن امریکہ کی سابق نائب وزیرخارجہ وینڈی شرمن کا کہنا ہے کہ ایرانی قوم امریکی دھمکیوں اور پابندیوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی کیونکہ ٹرمپ ایران کی مزاحمتی طاقت سے واقف نہیں جب کہ ایرانی قوم مزاحمت کی ثقافت سے شرمسار ہے ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ زبانی جمع تفریق کررہے ہیں اور وہ ایران اور شمالی کوریا کے بارے میں خام خیالی کا شکار ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دُنیا اس وقت ایک ایسے عالمی صدر کی نا مناسب اور غیر معقول پالیسیوں کی زد پر ہے جو گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ ہے۔ ایسے صدر پر دُنیا کا کوئی ملک اعتبار کرنے کو تیار نہیں لہٰذا ایران بھی اس پر اعتبار نہ کرے۔

٭٭٭


ای پیپر