قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت ،،،تحریک پاکستان سے نئے پاکستان تک !

16 اگست 2018 (22:16)

ہمایوں سلیم: معروف دانشور ، ادیب اور نقا د خواجہ افتخار ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ ”پاکستان کے جلیل القدر بانی قائد اعظم محمد علی جناح“ کا نام نامی اور اسم گرامی جب حافظے کی سطح پر اُبھرتا یا قلم کی زبان پر آتا ہے تو میری آنکھوں کے سامنے تحریک پاکستان کے جیتے جاگتے متحرک اور عہد آفریں ایام گھومنے لگتے ہیں اور میں بسا اوقات اس سوچ میں ڈوب جاتا ہوں کہ خاکم بدہن اگر برصغیر کے مسلمانوں کو قائد اعظم ؒ کی ولولہ انگیز قیادت میسر نہ آتی اور حکیم الامت علامہ اقبال ؒ ان کو لیاقت علی خان کی وساطت سے مسلمانوں کی قیادت کے لیے لندن سے واپس نہ لاتے تو جہاں ہمیں آزادی کی نعمت حاصل نہ ہوتی وہاں ہمارا حال بھی بھارت کے سکھوں اور دوسری اقلیتوں جیسا ہوتا، جن پر بنیا سامراج نے جینا تک محال کر رکھا ہے، قدرت جب کسی قوم پر مہربان ہوتی ہے یا اسے کسی قوم کی تقدیر سنوارنا مقصود ہوتی ہے تو وہ اس قوم میں ایسے بے لوث اور سرفروش قائد پیدا کر دیتی ہے جو اس قوم کی ڈگمگاتی کشتی کو اپنے حسنِ تدبر سے ساحل مراد تک لے جاتے ہیں“ بلا شبہ یہ ہماری خوش بختی تھی کہ ہمیں ایک ایسے مرد آئین کی بصیرت افروز قیادت نصیب ہوگئی جس نے ٹوٹی ہوئی مالا کے دانوں کی طرح منتشر اور بکھرے ہوئے مسلمانوں کو مسلم لیگ کے سبز ہلالی پرچم تلے متحد کر دیا۔ اور ہمیں آزادی کی ایک ایسی انمول نعمت سے ہمکنار کیا جو صدیوں کی جدوجہد کے بعد کسی قوم کا مقدر بنا کرتی ہے۔ قدرت نے قوم کے اس عظیم محسن کو بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا اور وہ بلا شک و شبہ انسانی خوبیوں کا ایک نہایت خوبصورت مرقع تھے۔ ہمارے آج کے قائدین جو قائدعوام ثانی اور قائد اعظم جیسے القابات کو اپنائے ملک و قوم کی تقدیر سے کھیلتے رہے، اپنے اندر ایک بھی قائد اعظم ؒ جیسی خوبی رکھتے تو یہ قوم واقعی ایک قوم اور یہ ملک بلا شبہ کوئی ملک کہلانے کا اہل ہوتا۔ ملک کے اندر آج ایک ایسا طبقہ خصوصیت کے ساتھ پیدا ہو چکا ہے یا پھر ایک بدترین سازش کے تحت یہ طبقہ پیدا کر دیا گیا ہے جو قائد اعظم ؒکی کردار کشی کرنے اور پاکستان کے وجود میں آنے کو انگریز کی سازش قرار دے رہا ہے۔ ان کی نظر میں قائد اعظم ؒ فقط انگریز کے ایک کارندے تھے جن کے ذریعے یہ کام کروایا گیا لہٰذا قائد اعظم ؒ کا پاکستان کے بنانے میں کوئی کردار نہیں اور یہ کہ پاکستان کو وجود میں لانا انگریز کی ضرورت تھی۔


چنانچہ انگریز نے اپنی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے قائد اعظم ؒ کو میدان عمل میں لا کھڑا کیا اور اپنی اس ضرورت کو محمد علی جناحؒ کے ذریعے پورا کر لیا۔ حیف صد حیف ایسے لوگوں کی اس غلیظ سوچ پر جو یہودیوں و نصرانیوں کے آلہ کار بن کر اخلاقی و قومی مجرم کے طور پر اس گھناﺅنے کھیل میں مصرروف عمل ہیں ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ جس عظیم المرتبت شخصیت کے اوصاف حمیدہ کی تعریفیں ہمارے بدترین دشمن بھی کرنے پر مجبور ہیں، اس کے برعکس ہم خود ہی اپنے محسن کی کردار کشی کرنے اور ان کی اہمیت کو کم کرنے اور گرانے میں اپنی تمام تر قوتیں صرف کیے ہوئے ہیں۔ نہرو خاندان کے چہیتے اور فیملی ممبر لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے قیام پاکستان کے کئی برس بعد بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے قائد اعظم ؒکی عظمت و شکوہ کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”مجھے صرف اس مقصد کے تحت ہندوستان بھیجا گیا تھا کہ میں ہندوستان کو کسی طور پر متحد رکھ سکوں اور ایک متحد ہندوستان ہی کو اقتدار منتقل کروں۔ میں نے اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے بڑ ی کوششیں کیں اور دن رات ایک کر دیئے، میں نے اپنی راتوں کی نیندیں حرام کیں مگر میرے مقصد کی راہ میں ایک ایسا شخص حائل تھا جو چٹان کی طرح رکاوٹ بنا رہا اور وہ تھا محمد علی جناحؒ.... !“ یہ تھا ماﺅنٹ بیٹن کا خراج تحسین اور اعتراف شکست جو نہ صرف نہرو خاندان کا نہایت چہیتا تھا بلکہ مسلمانوں کا بدترین دشمن اور بد خواہ بھی تھا کہ جس نے پھر اپنی شکست پر پاکستان کے حصے میں آنے والے اکثریتی مسلم علاقوں کو بھارت کی جھولی میں ڈال دیا۔ اور قیام پاکستان کی راہ میں قدم قدم پر رکاوٹیں ڈالنے اور مکروہ سازشیں کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ پنڈت جواہر لعل نہرو کی ہمشیرہ وجے لکشمی پنڈت نے بھی قائد اعظم ؒ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اگر ایک سو گاندھی ،ایک سو نہرو اور ایک سو پٹیل مسلم لیگ کے پاس ہوتے اور کانگریس کے پاس صرف اور صرف محمد علی جناحؒ ہوتا، تو پاکستان کبھی نہ بنتا“۔ لہٰذا یہ چند ایک مثالیں ہیں جو ایسے مکروہ عزائم رکھنے والے افراد کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہیں کہ شائد وہ مدہوشی کی اس دنیا سے نکل کر ہوش مند انسانوں کی دنیا میں اپنی آنکھ کھول سکیں۔ ثبوت کے طور پر ایک اور حقیقت بھی درج کرنا چاہتا ہوں ایسے افراد کے اس باطل نظریے کہ ”پاکستان کا قیام قائد اعظم ؒکی کاوشوں کا نتیجہ نہیں بلکہ انگریز کی ایک سازش تھی، کو دفن کر دینے کے لئے کافی ہے ۔ پاکستان کے اےک ممتاز دانشور ، محقق اور بین الاقوامی سطح پر معروف ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر اکبر احمد نے قائد اعظم ؒ کی ولولہ انگیز قیادت ، اعلیٰ سیاسی بصیرت بلاکی فکر، صاف گوئی اور ارادے کی پختگی پر ایک دستاویزی فلم بنانے پرکام شروع کیا تاکہ ان کے صحیح مقام و مرتبہ کو اجاگر کیا جا سکے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ اہل ہندوستان قائد اعظم کو اپنا ایک بدترین دشمن خیال کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ خود ہندوستان کی آزادی بہت حد تک قائد اعظم ؒکی فہم و فراست کی مرہون منت ہے اور جب اس خاص پہلو کو ہم ان ٹھوس شواہد کے ساتھ منظر عام پر لائیں گے تو اہل ہندوستان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور یہ لوگ قائد اعظم ؒ کو اپنا دشمن سمجھنے کی بجائے اپنا محسن اور دوست خیال کرنے لگیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایسی دستاویزی فلم کا حصہ حاصل کر لیا ہے جس میں پنڈت جواہر لعل نہرو ، مہاتما گاندھی اور لارڈ ماﺅنٹ بیٹن قائد اعظم ؒکو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیںکہ اگر وہ قیام پاکستان کا مطالبہ ترک کر دیں تو انہیں پورے ہندوستان کا تاحیات وزیراعظم نامزد کر دیا جائے گا۔ مگر قائد اعظم ؒنے اقتداراعلیٰ کی اس پیشکش کو حقارت سے ٹھکراتے ہوئے کہا کہ ”خود ہندوستان کی سالمیت کے لئے ایک مضبوط پاکستان کا قیام از حد لازم ہے“۔ قائد اعظم ؒکی زندگی ایک صاف و شفاف اور بے داغ آئینہ کی طرح تھی۔ ان کی بلند سیرت اور پاکیزہ کردار کی ہزاروں مثالیں تاریخ کے اوراق پر نمایاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ خرید و فروخت کا ایک ایسا ہی واقعہ کیمبل جانسن کی ڈائری میں آج بھی محفوظ ہو گا جس میں انہوں نے لکھا کہ ”لارڈ ریمزے میکڈونلڈ نے ایک مرتبہ قائد اعظم ؒ کو خریدنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اگر سہنا ایک صوبے کا گورنر بن سکتا ہے تو دوسرا کیوں نہیں بن سکتا ۔ اگر سہنا لارڈ کا خطاب حاصل کر سکتا ہے تو کوئی اور کیوں نہیں حاصل کر سکتا۔ اس پر قائد اعظم ؒ بغیر کوئی بات کئے لارڈ ریمزے کے کمرے سے اٹھ کر باہر نکل گئے۔ قائد اعظم ؒ کا یہ فعل برطانوی وزیر اعظم کے لئے انتہائی باعث تعجب تھا۔ چنانچہ وہ بھی حیرانگی کے عالم میں قائد اعظم ؒ کے پیچھے دروازے تک آیا اور الوداع کہنے کے لئے قائد اعظم ؒ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا مگر قائد اعظم ؒ نے اس سے ہاتھ ملانے سے انکارکر دیا، جس پر برطانوی وزیر اعظم شرم اور خجالت کے باعث پسینے سے شرابور ہو گیا اور بڑی ندامت کے ساتھ پوچھا۔ آخر ایسا کیوں؟ جس پر قائد اعظم ؒنے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا۔ آئندہ میں آپ سے کبھی نہیں ملوں گا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ میں کوئی بکاﺅ مال ہوں“سر فریڈرک جیمزنے قائد اعظم ؒکے اس ناقابل تسخیر کردار کو اپنے ان الفاظ میں تحریر کیا ہے کہ ” قانون ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے جناح کا کوئی ہمسر نہیں۔


وہ بحث و استدلال کی غیر معمولی صلاحتیں ہیں اور وہ عملی سیاست کے داﺅ پیچ کے زبردست ماہر ہیں۔ ان میں قیادت کے اعلیٰ جوہر موجود ہیں۔ وہ نہ کسی سے مرعوب ہوتے ہیں اور نہ کسی قیمت پر خریدے جا سکتے ہیں۔“ معروف برطانوی صحافی بیورلی نکلس قائد اعظم ؒ کی عظیم قائدانہ صلاحیتوں اور ان کے اعلیٰ و ارفع کردار کو خوبصورت الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” قائد اعظم ؒ نے مجھے آدھا گھنٹہ ملاقات کا وقت دیا مگر یہ ملاقات تین گھنٹے تک جاری رہی۔ میرے سامنے ایشیا کی عظیم ترین شخصیت تھی، جس کے ساتھ میں محو گفتگو تھا اور اس مدبرکو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں کہ ان کی شخصیت واقعی تمام ایشیا میں سب سے زیادہ اہمیت کی مالک ہے۔ ایشیا کا یہ اہم ترین انسان اس وقت 67 برس کی عمر میں ہے دراز قد، چھریرابدن، وضعدار سلک سوٹ پہنے، یک چشمی عینک لگائے اور ایک سخت سفید، کالر گلے میں، جسے وہ سخت گرمی میں بھی استعمال کرنے کے عادی ہیں۔ وہ شرفائے ہسپانیہ کی طرح معلوم ہوتے ہیں، سیاسی مسلک میں کہنہ مشق و مدبر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی باعظمت شخصیت ”سینٹ جیمس“ کلب میںبیٹھی ہوئی لطیف مشروب نوش جاں کر رہی ہو اور جریدہ ”لی ٹپس “ کے مطالعہ میں منہمک ہو۔ میں نے مسٹر جناح کو ایشیا کی اہم ترین شخصیت قرار دیا ہے تاکہ آپ کے ذہن میں ان کا تصور روشن اور قطعی ہو جائے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ تعبیر صداقت سے کسی طرح بعید نہیں۔ ہندوستان شاید چند ہی سال میں دنیا کا اہم ترین مسئلہ بن جائے گا اور مسٹر جناح اس بات میں عدیم النظیر اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق جس طرف چاہیں جنگ کا رخ بدل سکتے ہیں، دس کروڑ مسلمان ان کے ابرو کے ذرا سے خم پر حرکت کرنے کے لئے تیار ہیں اور یہ مقام کسی اور کو حاصل نہیںہے۔ ہندو لیڈروں کی پوری صف میں بھی یہ بات نہیں ہے۔ اگر گاندھی چل بسیںتو ان کی جانشینی کے لئے نہرو ہیں، راج گوپال اچاریہ ہیں، پٹیل ہیں اور اسی صنف کے کوئی ایک درجن اشخاص موجود ہیں، لیکن جناح کے بعد کوئی ایک شخص ان کے مقام پر کھڑا ہونے کا اہل نہیں ہے“۔ بیورلی نکلس کی دوراندیشی اور حقیقت پسندی آج ایک شفاف آئینے کی طرح ہمارے سامنے ہے کہ قائد اعظم ؒ کی رحلت کے بعد سے آج تک کوئی ایک قیادت بھی اس ملک اور قوم کو نصیب نہ ہو سکی جس کا تدبر، استقلال اور ثابت قدمی ملک وملت کو وہ مقام بخش سکتی ہو جس کے تحت پاکستان کا وجود عمل میں آیا۔ یہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو قائد اعظم ؒ کو اسلام اور اس کی حقانیت سے نابلد وناآشنا قرار دیتے نہیں تھکتا۔ اسلامی تاریخ اور قائد ؒکی شخصیت سے بے زار اور حقائق سے بے بہرہ یہ لوگ جو دشمنان ملک وملت کے لئے سرگرم عمل ہیں انہیں قائد اعظم ؒ کے اس خطبے کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے جو انہوں نے پوری قوم کے لئے بالخصوص تحریر فرمایا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ حال اور مستقبل کی طرف متوجہ ہوئے اور ساتھ ساتھ اپنی قوم کے لئے ایک خطبے کی تیاری شروع کی۔ وہ جب بھی سرکاری کاموں سے فارغ ہوتے خطبے کی تیاری میں لگ جاتے۔ یہ تاریخی خطبہ تیارکرنے کے بعد وہ قوم سے مخاطب ہوئے۔ خطبے کے الفاظ تھے۔”اب تم سب آزاد ہو اور پاکستان میں تمہیں اس بات کی پوری آزادی ہے کہ اپنے مندروں، مسجدوں اور دوسری عبادت گاہوں میں جا کر اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرو۔ ہمارا یہ بنیادی اصول ہے کہ ہم سب ایک مملکت کے شہری اور مساوی حقوق کے مالک ہیں۔ یہ اُصول مذہب، معتقدات اور ذات پات کے امتیاز سے بالاتر ہے۔ اگر ہم سب اس اصول کو اپنا معیار بنا لیں تو مجھے یقین ہے کہ کچھ عرصے بعد نہ ہندو ہندو رہیں گے نہ مسلمان مسلمان۔ اس سے میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ اپنے اپنے مذہب پر قائم نہ رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ سیاسی اعتبار سے اور پاکستان کے شہری ہونے کی حیثیت سے سب برابرہوں گے جہاں تک مذہب کا تعلق ہے یہ ہرفرد کے ذاتی اعتماد کا معاملہ ہے۔“


جناحؒ کے ان الفاظ کی تہہ میں وہی جذبہ کار فرما تھا جس کا اظہار تیرہ سو برس پہلے پیغمبر اسلام حضرت محمد نے یوں کیا تھا۔ ”خدا کی نظر میں سب انسان برابر ہیں اور تم میں سے ہر ایک کی جان ومال واجب احترام ہے تم پر لازم ہے کہ کسی حالت میں بھی ایک دوسرے کی جان و مال پر حملہ نہ کرو۔ آج میں ذات، نسل اور قومیت کے تمام امتیاز اپنے پاﺅں تلے روند کر مٹا رہا ہوں۔“ قائد اعظم ؒکا یہ تاریخی خطبہ ان کا اسلام کے ساتھ گہری رغبت اور علمیت کا بڑا واضح ثبوت ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں اسلام کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ یقینا وہ اس پر شرمسار ہوں گے بانی پاکستان کو یہ اعزاز بھی اس طرح سے حاصل ہے کہ انسانی تاریخ کے عہد جدید میں قوموں کی آزادی اور اتحاد میں فوجوں نے بہت نمایاں حصہ لیا۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں واشنگٹن نے امریکا کو فوج کے ذریعے آزاد کرایا، انیسویں صدی عیسوی میں بس مارکس نے جرمنی کو اور کاوور نے اٹلی کو فوجوں کی مدد سے متحد کیا۔ مگر ان کے برعکس قائد اعظم ؒ ؒمحمد علی جناح نے فوج کی مدد کے بغیر قوم کو متحد کیا اور آزاد کروا لیا ۔
٭٭٭

مزیدخبریں