Source : File Photo

معاشی چیلنجز،معدنی وسائل اور زراعت ہمیں بھنور نکال سکتے ہیں
16 اگست 2018 (22:09) 2018-08-16

حافظ طارق عزیز:ہمارے ہاں یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ یہاں جو کام کرنا چاہتا ہے اُسے اس قدر متنازعہ بنا دیا جاتا ہے کہ تھوڑے عرصے بعد روایتی سیاست دانوں کے رنگ میں رنگ دیا جاتا ہے اور پھر وہ بھی لپالپ کمیشن کھانے کی دوڑ میں سب سے آگے پہنچ جاتا ہے۔ اور پھر کہتا پایا جاتا ہے کہ کرپشن کی ہے تو ثابت کرو ورنہ الزام نہ لگاﺅ.... یہی حال آج کل نئی نویلی متوقع حکومت تحریک انصاف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ابھی وہ اقتدار میں نہیں آئی کہ بھات بھات کی بولیاں بول کر نت نئے انکشافاتی بیانات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے قرض لینے کی افواہیں اُڑا کر انہیں بلاوجہ تنازعات میں گھسیٹا جا رہا ہے۔

کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ حکومتی خزانوں میں کیا پڑا ہے؟ سابقہ حکومت کرپشن کے نام پر جو اس ملک میں لوٹ مار کرکے گئی ہے کیا کوئی سوچ سکتا ہے جس ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر محض 12ارب ڈالر رہ جائیں اور اگلے چند دنوں میں امپورٹ بل کی مد میں بقول متوقع وزیر خزانہ اسد عمرکے12ارب ڈالر ہی چاہیے ہیں تو ایسے میں حکومت کیا کرے گی؟ لہٰذاکسی کے ہاتھ باندھنے نہیں چاہیے بلکہ ہمیں قومی مفاد میں ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اگر ملک کو سابقہ حکمرانوں نے صحیح سمت میں ڈالا ہوتا تو یقینا پاکستان اپنے ریسورسز استعمال کرکے امپورٹ بل سے بچا رہتا .... مثلاً پاکستان 11ارب ڈالرکا سالانہ تیل باہر سے منگواتا ہے۔ اگر پاکستان سے تیل نکالنے اور ریفائن کرنے پر خاطر خواہ توجہ دی جاتی تو ہم سالانہ بڑے نقصان سے بچ سکتے تھے۔ اس حوالے سے نگران وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون کا بیان خوش آئند ہے کہ تیل نکالنے والی غیر ملکی کمپنی کے مطابق پاکستان ایران بارڈر کے قریب تیل کا ایک بڑا ذخیرہ دریافت ہونے کے قریب ہے جس کا تخمینہ کویت کے ذخائر سے بھی بڑا ہوگا۔


میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ عمرا ن خان کی حکومت آنے کے بعد فوری طور پر مقامی ذخائر پر شفٹ ہو جائیں گے۔ لیکن عمران خان کے سامنے چیلنجزکے پہاڑ کھڑے ہیں اور اگر اگلے پانچ سال انہوں نے ان پہاڑوں کو کرید کر مسائل کا حل تلاش کر لیا تو وہ یقینا سرخرو ہوں گے۔ اور جتنی اس عوام نے اُن سے اُمیدیں لگائی ہیں وہ یقینا مایوس نہیں کریں گے۔ کیوں کہ عمران خان اپنی وکٹری تقریر میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ہم مقامی معدنی ذخائر پر کام کریں گے.... اگر ہم پاکستان میں معدنیات کے حوالے سے بات کریں تو یہاں معدنیات قدرتی دولت ہیںجو زیرِزمین دفن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھرپور معدنی وسائل کی دولت سے نوازا ہے۔ یہ معدنی وسائل تیز رفتار اقتصادی اور صنعتی ترقی کے فروغ میں بہت اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ دورِ جدید میں معدنی تیل ایک اہم قیمتی سرمایہ ہے۔

یہ توانائی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ معدنی تیل خام حالت میں پایا جاتا ہے۔ جس کو تیل صاف کرنے کے کارخانہ (آئل ریفائنری) میں صاف کیا جاتا ہے اور اس سے پیٹرول اور دیگر مصنوعات یعنی مٹی کا تیل، ڈیزل، پلاسٹک اور موم بتی وغیرہ حاصل کی جاتی ہے۔ پاکستان میں ملکی ضروریات کا صرف 15 فیصد تیل پیدا ہوتا ہے بقیہ 85 فیصد حصہ دوسرے ممالک سے درآمد کرکے ملکی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں تیل کے ذخائر سطع مرتفع، پوٹوہار، کھوڑ، ڈھلیاں، کوٹ میال،ضلع اٹک میں سارنگ، ضلع چکوال میں بالکسر، ضلع جہلم میں جویامیر اور ڈیرہ غازی خان میں ڈھوڈک اور سندھ میں بدین، حیدرآباد، دادو اور سانگھڑکے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ تیل او گیس کی تلاش کے لئے ملک میں تیل اورگیس کی ترقیاتی کارپوریشن (OGDC) بنائی گئی ہے۔ یہ ادارہ تیل کے مزید ذخائر تلاش کرنے میں کوشاں ہے۔ اسی طرح سوئی گیس کے بارے میں کون نہیں جانتا۔


کوئلے کی بات کریں تو پاکستان میں کوئلہ بہت سے مقامات پر دریافت ہوا ہے اور مزید کیا جا رہا ہے۔ خام لوہا بہت زیادہ مقدار میں دستیاب ہے۔ یہ انتہائی اہم معدن ہے جو لوہا، فولاد، مشینری اور مختلف قسم کے اوزار بنانے کے کام آتا ہے۔کالا باغ کے علاقے میں خام لوہے یا لوہے کی معدن کے سب سے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔دوسرے ذخائر ضلع ہزارہ میں ایبٹ آباد سے 32 کلومیٹر جنوب میں لنگڑبال اور چترال میں دستیات ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں خام لوہے( لوہے کی معدن)خضدار، چل غازی اور مسلم باغ میں پایا جاتا ہے۔کرومائیٹ بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ ایک سفید رنگ کی دھات ہے جو فولاد سازی، طیارہ سازی، رنگ سازی اور تصویر کشی کے لوازمات بنانے میں کام آتی ہے۔ دنیا میں کرومائیٹ کے سب سے بڑے ذخائر پاکستان میں ہیں۔ اس کا زیادہ حصہ برآمد کرکے زرمبادلہ کمایا جاتا ہے۔ اس کے ذخائر بلوچستان میں مسلم باغ، چاغی اور خاران اور صوبہ سرحد اور آزاد قبائلی علاقوں میں مالاکنڈ، مہمند ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں پائے جاتے ہیں۔


تانبا برقی آلات سازی میں استعمال ہوتا ہے۔ برقی تار بھی تانبے سے بنایا جاتا ہے۔ بلوچستان میں ضلع چاغی میں تانبے کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ جپسم سفید رنگ کا ایک چمکیلا پتھر ہے۔ یہ سیمنٹ، کیمیائی کھاد، پلاسٹر آف پیرس اور رنگ کا پاﺅڈر بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ نمک کے ذخائر لاتعداد میں موجود ہیں، چونے کا پتھر، سنگ مرمر سمیت بہت سی معدنیات پاکستان میں کثرت سے موجود ہیں جنہیں صرف استعمال میں لانے کی ضرورت ہے۔ اور آنے والی حکومتیں محض اس پر انحصار ہی کرنا شروع کر دیں تو پاکستان کے بہت جگہوں پر خود کفیل ہو سکتا ہے۔


اور شاید بہت کم لوگوںکو علم ہے کہ تیل وگیس کے نئے ذخائر کی سال 2017 ءکے دوران دریافت سے پاکستان نئے ذخائر دریافت کرنے والے دنیا کے 5 بڑے ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے۔ امریکہ کی کمپنی گلوبل آئل اینڈ گیس ڈسکوریز ریویو2017ءکی رپورٹ کے مطابق سال 2017ءکے دوران پاکستان نے تیل وگیس کے کئی بڑے ذخائر دریافت کیے جس کی وجہ سے نئے ذخائر تک رسائی حاصل کرنے والے 5 بڑے ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے۔ اور یہ بات امریکی ادارے ای آئی اے کی رپورٹ میں درج ہے کہ پاکستان کا 70 فیصد علاقہ شیل گیس کے ذخائر سے مالا مال ہے، جو زیر زمین باریک ریت کے ذروں اور مٹی سے بننے والی تہہ دار چٹانوں سے حاصل کی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت گیس کی مجموعی پیداوار 4 ارب20 کروڑ کیوبک فٹ اور تیل کی پیداوار 70 ہزار بیرل یومیہ ہے۔


یقین مانیں کہ پاکستان میں گیس اور تیل کے ذخائرکا بروقت کھوج لگایا جاتا تو آج ملک توانائی کے شدید بحران کا شکار نہ ہوتا۔ اور اب جب کہ عمران خان اور اُن کی ٹیم کو نئی حکومت ملنے والی ہے تو اس وقت جن چیلنجزکا سامنا ہے اُن میں مالی ادائیگیوں کے توازن کا بحران ہے۔ جنوبی ایشیا کی یہ ریاست، جو ایک ایٹمی طاقت بھی ہے، مالی ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ یہ ممکنہ بحران اس ملک کی کرنسی یعنی پاکستانی روپے کے استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو سکتا ہے اور یوں پاکستان کی اپنے ذمے قرضوں کی ادائیگی اور درآمدات کے لیے مالی ادائیگیاں کرنے کی صلاحیت بھی بُری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ میں بے تحاشہ خسارہ ہے ۔ بہت مہنگی درآمدات کی جا رہی ہیں جنہیں اس ملک کی ضرورت بنا دیا گیا ہے۔ جب کہ برآمدات میں اضافہ غیر تسلی بخش ہے جو گھٹتے گھٹتے دم توڑتا جا رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا بہت بڑا چیلنج سامنے موجودہے۔ روپے کی قدر میں کمی جیسا چیلنج بھی موجود ہے .... اور سب سے اہم یہ کہ پچھلے پانچ سالوں کی غلطیاںہمارے سامنے پڑی ہیں۔ ہم نے پچھلے چار پانچ سالوں میں پاگلوں کی طرح نئے قرضے لیے۔ اب ان قرضوں کی واپسی کا وقت ہے لیکن ہمارے پاس اب زر مبادلہ کے اتنے ذخائر تو ہیں نہیں کہ ہم یہ قرضے واپس کر سکیں۔ اربوں ڈالر مالیت کے یہ قرضے واپس تو کیے ہی جانا ہیں اور پاکستانی ریاست کے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان قرضوں کی واپسی ممکن کیسے ہو گی؟


ملک کو معاشی بحران کی دلدل سے نکالنے کے لئے معدنیات کے ساتھ ساتھ زراعت پر بھی توجہ درکار ہے۔ ملکی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے مگت بد قسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ مسلسل غفلت کا شکار ہے۔ سابقہ حکومت کی ”کسان دوست“ پالیسیوں نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ وہ ملک جس کا زیادہ تر رقبہ فصلوں کی صورت میں سونا اگلنے کا اہل ہو، وہاں کا کسان کسمپرسی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہو۔ اس کو مہنگی کیڑے مار ادویات، کھاد، تیل اور دیگر لوازمات مہیاکئے جائیں، اس کے باوجود وہ دن رات محنت کرے اور پھر بھی اسے اس کی محنت کا پھل ملنے کی بجائے فاقوں پر مبنی زندگی ملے، تو ایسے کسانوں کے ”محافظ“سیاست دانوں اور پالیسی سازوں کوکیاکہیں گے۔گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لئے آنے والی حکومت کو حقیقت میں کسان دوست پالیسان بنانا ہوں گی اور قوی امید ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔


ان تمام مسائل کے بعد میں یہ نہیں کہتا کہ آنے والی حکومت اپنے دعوﺅں سے پھر جائے گی، یا اُس سے پاکستان کی معیشت ہینڈل نہیں ہوگی۔ ہمیں یقین کامل ہونا چاہیے کہ عمران خان کی ٹیم جیسی بھی ہوگی مگر سابقہ ”ایکسپرٹ “ سے بہتر ہی کام کرے گی۔ اور ملک کو مسائل سے نکالنے میں دن رات کام کرے گی۔اور اگلے پانچ سالوں میں عوام ضرور خود فیصلہ کریں گے کہ کیا تحریک انصاف نے ڈلیورکیا ہے یا نہیں؟


ای پیپر