سندھ میں سیاسی صف بندی کا نیا موڑ

16 اگست 2018

سہیل سانگی

پیپلزپارٹی سندھ میں بغیر کسی اور جماعت یا گروپ کی مدد کے اکیلے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اس کے گلے میں ایم کیو ایم کی گھنٹی بھی نہیں ہے جس کی پیپلزپارٹی کے رہنما اکثر شکایت کیا کرتے تھے۔ اب اس پر مخلوط حکومت بنانے کا بھی دباؤ نہیں۔ اس کو سندھ میں فری ہینڈ مل گیا ہے۔ مخلوط حکومت چاہے سیاسی مصلحت کی بناء پر بنائی جائے یا مطلوبہ اراکین کی تعداد کے لئے کی جائے، اس کو پالیسی اور فیصلہ سازی پر عمل درآمد میں بہرحال مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مرتبہ سرکاری بینچوں پر کئی نئے چہرے ہیں تو کئی پرانے بھی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اسمبلی پارٹی کیڈرمثلا نثار کھڑو، منظور وسان ، پیر مظہرالحق جیسے پرانے رہنماؤں سے تقریبا خالی ہوگئی ہے جو محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ تھے۔ یا پرانا پارٹی کیڈر تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ انہی خاندانوں کے نوجوان اب اسمبلی میں ہیں۔ لہٰذا سمبلی میں خاندانی تسلسل تو رہا، لیکن سیاسی جدوجہد کا تسلسل نہیں رہا۔ یہ درست ہے کہ اسمبلی میں بالکل نئے چہرے کم ہیں ، مگر اکثریت ان اراکین کی ہے جن کا براہ راست سیاسی تحریکوں یا جدوجہد سے تعلق نہیں رہا ہے۔ 
پیپلزپارٹی نے الیکٹ ایبلز کی سیاست کی حکمت عملی کے تحت حالیہ انتخابات میں حصہ لیا ۔ سندھ بھر میں تمام الیکٹ ایبلز کو اپنی گود میں لے لیا۔ پارٹی ٹکٹ دینے پر اختلافات سامنے آئے تو اس غلطی کا احساس ہو ا اور اسکو حکمت عملی تبدیل کری پڑی۔ پارٹی نے پچھڑی ہوئی برادریوں کو اہمیت دینا شروع کی۔ کرشنا کولہی کو سینیٹر منتخب کیا۔ میگھواڑ برادری کو اپنے ساتھ ملایا۔ تنزیلہ شیدی کو خواتین کی مخصوص نشست پر لے آئی۔ان برادریوں کو حکمران جماعت میں شمولیت سے شراکت داری کا احساس پیدا ہوا۔ نتیجے میں صوبے کے زیریں اضلاع میں پارٹی کے امیدواروں کی پوزیشن مضبوط ہو گئی۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پارٹی امیدواروں کی یقینی جیت کی وجہ یہی بنی جب نتائج آئے تو پارٹی کی نشستوں میں اضافہ ہی نہیں ہوا بلکہ جیتنے والے امیدواروں کے ووٹوں میں اضافہ ہوا۔ اس کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ پارٹی قیادت نے ان الیکٹ ایبلز کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ کتنے ہی بڑے اور بااثر کیوں نہ ہوں، پارٹی کی حمایت کے بغیر وہ جیت نہیں سکتے۔ اس کی مثال بڑے بڑے ہیوی ویٹ پیر پگاڑا کے بھائی پیر صدرالدین شاہ، غلام مرتضیٰ جتوئی اور ارباب غلام رحیم کی شکست ہے۔ 
پیپلزپارٹی نے سابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو بطور وزیراعلیٰ نامزد کیا ہے۔ لیکن ان کی کابینہ میں بعض پرانے چہرے نہیں ہونگے۔فریال تالپور کی سندھ اسمبلی میں موجودگی سے یہی سمجھا جارہا ہے کہ حکومت سندھ اور اسمبلی کے معاملات وہی دیکھیں گی۔ نامزد وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے یوم آزادی کے موقع پر میڈیا کو بتایا کہ سندھ کابینہ میں بہتر افراد لئے جائیں گے۔ کراچی کے جن لوگوں کو عوام نے مسترد کیا ہے ان کے ساتھ بھی بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے۔ صوبے میں انفراسٹرکچر کی بہتری، صحت، تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات لانے اور غربت کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ کراچی کو مزید ترقی دلائیں گے۔ 
ڈھائی سال قبل جب پیپلزپارٹی نے سید قائم علی شاہ کو ہٹا کر مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ مقرر کیا تھا تو انہوں نے صاف ستھرا کراچی شہر، سر سبز تھر اور محفوظ سندھ کا ایک خوبصورت نعرہ دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تعلیم، صحت اور امن وامان ان کی ترجیحات ہونگے۔ بعد میں انہوں نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی بھی نافذ کی۔ ترجیحات اور عزم کل بھی قابل تحسین تھا اور آج بھی جو کہہ رہے ہیں وہ بھی قابل تحسین ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ یہ اہداف کس حد تک پورے کر پائے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کہ نہ صرف ملک میں شرح خواندگی کم ہے بلکہ یہاں کا تعلیمی نظام موجودہ تقاضوں سے 60 سال پیچھے ہے۔ فاٹا اور بلوچستان کو چھوڑ کر سندھ کا تعلیمی معیار ملک کے باقی صوبوں اور علاقوں میں بہت پیچھے ہے۔ یہاں تک کہ کشمیر اور بلتستان میں بھی تعلیمی معیار کے حوالے سے سندھ سے آگے ہیں۔ 
تحریک انصاف کے نامزد گورنرعمران اسماعیل کے تقرر پر پیپلزپارٹی خوش نہیں۔ وہ سمجھتی ہے کہ اپوزیشن کی قیادت پی ٹی آئی کے پاس ہونے کے ساتھ ساتھ اگر گورنر بھی اسی پارٹی کا ہوگا اور اسی طرح سے سخت سیاسی موقف رکھنے والا ہوگا تو صوبائی حکومت کے لئے مشکلات ہونگی۔ ان کابلاول ہاؤس کی دیواریں گرانے سے متعلق بیان پیپلزپارٹی کے لئے جذباتی مسئلہ بھی ہے لیکن اس کو اگر سیاسی معنوں میں لیا جائے تو پارٹی کے لئے وارننگ ہے۔ پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف سے وضاحت طلب کی ہے اور درخواست کی ہے کہ انہیں گورنر مقرر نہ کیا جائے۔ 
وفاق کے ساتھ تعلقات کا معاملہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں قربت نظر آرہی ہے۔ پیپلزپارٹی کے دو مقاصد ہوں گے۔ ایک یہ کہ اس کی سندھ حکومت کو ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ پارٹی کے بڑے رہنماؤں کے خلاف کرپشن، منی لانڈرنگ وغیرہ کے حوالے سے کوئی کارروائی نہ ہو۔ اس کے عوض پیپلزپارٹی وفاق میں خود بھی رہے گی اور اپوزیشن کو بھی فرینڈلی رکھنے میں کردار ادا کرے گی۔ تحریک انصاف کے لئے یہ صورتحال فائدہ مند ہوگی کہ اپوزیشن منقسم رہے۔وہ پیپلزپارٹی کو یہ سمجھانے کی کوشش کرے گی کہ نواز لیگ دونوں کی مشترکہ دشمن ہے۔ اس صورتحال میں نہیں لگتا کہ پارلیمنٹ میں وسیع تر اپوزیشن کا اتحاد زیادہ عرصہ چلے یا کوئی موثر کردار ادا کرے۔ آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمن کی حلف نہ اٹھانے اور اسمبلی کے بائیکاٹ کرنے کی تجویز کو مسترد کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو حالیہ انتخابات کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہوتی۔ 
صوبے کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی اس مرتبہ ایک مختلف قسم کی اپوزیشن کا سامنا ہوگا۔اس اپوزیشن کی قیادت وفاق میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے پاس ہوگی۔ سندھ کو اس طرح کی صورتحال کا اس سے پہلے کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ گزشتہ دور حکومت میں نواز لیگ وفاق میں حکومت میں تھی لیکن سندھ میں اپوزیشن ایم کیو ایم کی تھی۔ لہٰذا وفاق میں حکمران جماعت صوبائی حکومت کو سیاسی طور پر ہینڈل کرنے کے لئے ایم کیو ایم کی محتاج تھی۔ ماضی میں اپوزیشن وہی کرتی رہی جو ایم کیو ایم چاہتی تھی۔ تحریک انصاف یقیننا چاہے گی کہ وہ سندھ کے باقی علاقوں میں بھی اپنے پاؤں جمائے۔
پیپلزپارٹی کراچی کے بارے میں نرم گوشہ رکھے ہوئے ہے، نامزد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا یہ بیان اہم ہے کہ ایم کیو ایم مخلوط حکومت میں آسکتی ہے بشرطیکہ وہ علحدہ صوبے کے مطالبے سے دستبردار ہو ۔اپوزیشن میں خود کو منوانے کے لئے تحریک انصاف زیادہ سرگرم اور فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس کے اشارے نامزد گورنر سندھ کے بیانات سے بھی مل رہے ہیں۔ تحریک انصاف کو ایک دقت کا یقیناًسامنا کرنا پڑے گا کہ اس کے اراکین اسمبلی کراچی کو چھوڑ کر باقی سندھ سے صرف ایک ہی ممبر یعنی شہریار شر ہیں۔ لہٰذا سندھ میں اپوزیشن کے پاس کوئی منجھا ہوا پارلیمنٹرین نہیں۔ لگ بھگ یہی صورتحال پیپلزپارٹی کے ساتھ بھی ہے۔ نثار کھوڑو، منظور وسان، پیر مظہرالحق، جام مہتاب ڈہر اب اسمبلی میں نہیں۔ سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ ہیں لیکن وہ کوئی سرگرم کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔ تحریک انصاف کو ایک طرف اسمبلی میں پیپلزپارٹی کا سامنا کرنا ہے دوسری طرف ایم کیو ایم کے ساتھ بھی چلنا ہے اور آئندہ وقت میں اپنے لئے کراچی میں مزید جگہ بھی بنانی ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کراچی میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے یہ تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے مقابلے میں ہونگی۔

مزیدخبریں