سازشیں بے نقاب ہو کر رہیں گی

16 اگست 2018

وکیل انجم

پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل عبور ہو چکا ۔ صف بندی ہو چکی۔ اہم معرکہ نئے منظر نامے پر تمام ہو چکا۔ جن لوگوں نے جو منصوبہ بنایا وہ کامیاب ہو چکا۔ سکرپٹ لکھنے والوں نے پیپلز پارٹی کی برتری ایک صوبہ تک برقرار رکھی۔ ایک صوبہ میں اسے 2013 ء کی نسبت کافی زیادہ مل چکا، صوبے میں طاقت ور حکومت مل چکی۔ فارم 45 کے کھیل کے رازوں سے آہستہ آہستہ پردہ اٹھے گا۔ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کو زیر کرنا مقصود تھا مگر ہو نہیں ہو سکی۔ اپوزیشن جماعتوں نے ہوش مندی دکھائی حلف سے لے کر سپیکر کے انتخاب تک خاموش رہی۔ سارے عمل کو مکمل ہونے دیا گیا۔ اپوزیشن جماعتیں متحد نہیں ہیں۔ پھر بھی انہوں نے 2002 ء والا معاملہ نہیں دکھایا۔ اپوزیشن جماعتیں بنیادی طور پر تین مختلف نظریات رکھتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مخاصمت مسلم لیگ سے تقریباً تین دہائیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کا فیکٹر نمایاں ہونے سے پیپلز پارٹی کا حصہ تو تین صوبوں میں تمام ہو چکا البتہ پارٹی میں شامل بڑے سیاسی خاندان اپنی ڈیرے داری کی سیاست میں نمایاں رہیں گے۔ مسلم لیگ ن پوری کوشش کے باوجود ختم نہ ہو سکی اس کا ووٹ فارم 45 کی کرشمہ سازی کے باوجود کم ضرور ہوا مگر ایک کروڑ تیس لاکھ ووٹرز اب بھی ان کے ساتھ ہیں ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ ن لیگ کا یہ بیانیہ پوری طاقت سے جاری رہے گا۔ متحدہ مجلس عمل ماضی جیسی کامیابی حاصل نہیں کر سکا2002 ء کے الیکشن سے پہلے کئی اہم واقعات ہو گئے۔ پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا ، نائن الیون ہوا، جنرل مشرف نے امریکہ کا اتحادی بن کر افغانستان پر حملہ میں مدد کی۔ طالبان کی حکومت ختم کی گئی۔ امریکہ کو ایئر بیس تک رسائی دی گئی۔ مشرف نے انتخاب سے پہلے اپنی پسند کی ضلع حکومتیں بنا ئیں عدلیہ کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ججوں سے نیا حلف لیا صدر بننے کے لیے ریفرنڈم کرایا مگر یہ سارے اقدامات مشرف کے اپنے نعرے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ سے متصادم تھے۔ اینٹی مشرف امریکہ جذبات طاقت ور تھے ۔ مجلس عمل بڑی بلکہ تیسری قوت بنی۔ جس کا اسے فائدہ ہوا۔ فضل الرحمن وزیر اعظم بننا چاہتے تھے نہ بن سکے مگر ایم ایم اے کا سب سے بڑا ظلم یہ تھا کہ اس نے مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ دیا۔17 ویں ترمیم پاس کی۔ مشرف کی حکومت کو مضبوط کرنے میں مدد دی۔ پھر ملا ملٹری الائنس کے نام سے شہرت پائی۔ 2018 ء میں متحدہ مجلس عمل دو جماعتوں پر ہی مشتمل تھی باقی جماعتیں خانہ پری تھیں۔ البتہ صوبہ خیبر پختون خوا میں جماعت اسلامی کے مضبوط قلعہ ’’ دیر‘‘ میں صفایا ہو گیا۔ صاحبزادہ صفی اللہ نے دیر میں جماعت اسلامی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ خاندان صاحبزادہ صبغت اللہ اور صاحبزادہ طارق اللہ میں تقسیم ہو گیا۔ جماعت اسلامی تقریبا 38 سال کے بعد دیر میں ہار گئی۔ پھر بھی مخصوص نشستیں لینے کے بعد 15 تک چلی گئی ہے۔ اصل سوال تو جماعت اسلامی ہے جسے پارلیمانی سیاست میں اسے کاری ضرب لگنا ہے۔ اپوزیشن کی تین جماعتیں ایک نکاتی ایجنڈے پر تھیں۔ سکرپٹ کی اگلی کہانی شروع ہو چکی، عمران خان نے حلف کے روز ایسے ہی بلاول بھٹو سے گرم جوشی کا مظاہرہ اور آصف زرداری سے ہاتھ ملایا۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی شہباز شریف کے نام سے ہٹ گئی کہ وزیر اعظم کے طور پر وہ قبول نہیں۔ مسلم لیگ نے پاسداری دکھائی اپنا ووٹ سپیکر کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کو دیا۔ خورشید شاہ مضبوط امیدوار تھے۔ اچھی بات یہ ہوئی کوئی بڑا اپ سیٹ نہیں ہوا ہو بھی کیسے سکتا تھا جب سب کچھ ایک حکمت عملی کا نتیجہ ہو تو ٹیرھی اینٹ کیسے رکھی جا سکتی ہے۔ 8 لوگوں نے اپنا ووٹ خراب کر کے بتایا ہے ہم آئیندہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کے 
انتخاب میں سب لائن اپ ہو جائیں گے ۔ سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے عہدے تحریک انصاف کو مل چکے۔ سابق سپیکر خیبر پختونخوا اسد قیصر کی ترقی ہوئی ہے وہ 176 ووٹ لیکرقومی اسمبلی کے سپیکر بن چکے البتہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو 184 ووٹ ملے ان میں ایک ووٹ خراب ہوا۔ جبکہ مولانا مفتی محمود کے پوتے مولانا اسد محمود پہلی بار قومی اسمبلی میں پہنچنے میں وہ ہیں۔ وہ 144 ووٹ لے سکے۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ کوئی اپ سیٹ نہیں ہوا۔ جو جس کے ساتھ تھا اسی کے ساتھ ہے البتہ مشکل میں پھنسی ہوئی پیپلز پارٹی کی قیادت خاص طور پر آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور پر سنجیدہ الزامات ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب مرکزی اور صوبائی حکومتیں کھڑی ہو چکی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کا سپیکر اور ڈپٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو چکا ہے۔ سید مراد علی شاہ دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہو چکے ہیں ۔ مراد علی شاہ کا انتخاب اس لیے بھی کیا گیا کہ ان کے والد سید عبد اللہ شاہ بھی وزیر اعلیٰ رہے ان کے دور میں کئی واقعات ہوئے جن میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن، مرتضیٰ بھٹو کا قتل اور صوبے کی پوری انتظامیہ زرداری کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ وفاداری کی صلہ دیا گیا ہے۔ آصف زرداری کے لیے عین اس روز بری خبر یہ ہے کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ سے متعلق سماعت کے دوران آصف علی زرداری کے خاص دوست انور مجید کی فیملی کے کئی افراد کی گرفتاری ہو چکی ہے وہاں آصف زرداری اور فریال تالپور کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کیس میں شامل تفتیش ہوں۔یہ دن مسلم لیگ کے حوالے سے بھی اہم تھا کہ میاں نواز شریف کے خلاف ریاستی سطح پر جو بدسلوکی ہو رہی ہے اور جس طرح تین مرتبہ کامیاب ہونے والے وزیر اعظم کو دہشت گردوں کی طرح لایا گیا اور چوروں کی طرح احتساب مقدمے کی سماعت ہوئی اس کا جواب بدھ کے روز بڑا مظاہرہ کرکے دیا گیا۔ وہاں قومی اسمبلی میں بھی پھر پور مظاہرہ ہوا جب نئے منتخب سپیکر کے سامنے مسلم لیگی ارکان نے نواز شریف کے بڑے پوسٹر لہرا دیے۔ سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی جاوید اقبال عباسی نے ’’ ووٹ کو عزت دو ‘‘ کے نعرے سے احتجاج کا آغاز کیا۔ یہ احتجاج اتنا زور دار تھا جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مستقبل میں ایوان کیسے چلے گا۔ ایوان میں سابق سپیکر ایاز صادق نے بھی بہت سے سوالات چھوڑے خاص طور پر الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو نشانہ بنایا۔ پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے کے ارکان اس احتجاج میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ اسمبلی کے اندر سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ احتجاج صرف ن لیگ کا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو وزیر اعظم کے انتخاب میں ووٹ نہ دینے کا کہا ہے۔ ن لیگ کے سارے فیصلے اڈیالہ جیل سے ہو رہے ہیں۔ نواز شریف اپنے بھائی سے خوش نظر نہیں آتے۔ اس کی وجہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مریم اور نواز شریف کی طرح نہیں ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت ہوا کرتی تھی۔ مگر آصف زرداری فوج سے بنا کر اور اس کے تابعداربن کر رہنا چاہتے ہیں مگر یہ خاصا مشکل کام ہے۔ اگرجے آئی ٹی بن گئی تو زرداری اور ان کے ساتھیوں کے لیے خاصی مشکل ہو گی ، عالمی سطح پر پیپلز پارٹی کا وہ امیج نہیں رہا جو بے نظیر بھٹو کے دور میں ہوا کرتا تھا۔ دھرنوں کے دنوں میں چوہدری نثار اور چوہدری اعتزاز احسن کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا مقابلہ ہوا یہ بازی چوہدری اعتزاز احسن نے جیت لی تھی۔ اسی اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خورشید علی شاہ نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو چوہدری نثار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا، وزیر اعظم صاحب آستین کے سانپوں سے بچیں۔ یہ مشورہ عین اس وقت درست ثابت ہوا کہ چوہدری نثار وزیر اعظم کو جال میں کیسے پھنسا رہے تھے۔ چیف جسٹس جو آصف زرداری کے مقدمے میں میاں نواز شریف جیسی جے آئی ٹی بنانے کا عندیہ دے چکے ہیں اب انہوں نے اپنے ریمارکس میں حیران کر دینے والا انکشاف کیا ہے ’’ پاناما‘‘ جے آئی ٹی میں ایجنسیوں کے ارکان چوہدری نثار نے شامل کرائے تھے۔ ایجنسیوں کا تڑکا لگانے کا ایک خاص مقصد تھا۔ اس بات کا علم نواز شریف کوبھی تھا کہ وہ کس کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت نواز شریف کو ہٹا کر 14 ویں اسمبلی سے ہی نیا وزیر اعظم لانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کوشش کا مبینہ مہرہ کون تھا ؟ یہ بات اب ثابت ہو کر رہے گی ۔ حقیقت یہ ہے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بارے میں آ چکا ہے کہ وہ کس نے اور کہاں تیار کی؟ وہاں چوہدری نثار نے بھی وضاحت دی ہے کہ جے آئی ٹی میں فوجی افسروں کی شمولیت عدالتی فیصلے کا حصہ تھی اس کا جواب تو جناب چیف جسٹس صاحب دیں گے مگر چیف جسٹس کے ریمارکس نے نواز شریف کے اس شبہ کو یقین میں بدل دیا ہے ۔ جس بنیاد پر چوہدری نثار کو اہم مشاورت دے کر دور کر دیا گیا تھا۔ پھر نواز شریف کے 60 کے قریب پارلیمنٹیرین کو توڑا گیا۔سینیٹ کے کامیاب ہونے والے مسلم لیگی ارکان کو آزاد قرار دیا گیا۔ عمران خان اوپن رائے شماری سے وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ تحریک انصاف کا وزیر اعلیٰ حلف اٹھاتے ہی جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی قرار داد لے کر آئے گا تو شہری علاقوں پر مشتمل سندھ سے ایک صوبہ کی آواز ایم کیو ایم لگائے گی ۔ ہزارہ صوبہ کی تحریک بھی دم توڑ گئی نئے سرے سے پھر شروع ہو جائے گی ۔ مگر سب سے اہم سوال اور چیلنج تو دھاندلی کی تحریک کا شروع ہونا ہے۔ تحریک انصاف کے لیے یہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ آر او اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار متنازع کیا ہوا اس پر بھی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

مزیدخبریں