اقبال اور منیرنیازی کے تصورکا پاکستان
16 اگست 2018 2018-08-16

خشونت سنگھ نے کہا تھاتقسیم سے قبل مسلمان ایک قوم تھے جنہیں ایک ریاست کی تلاش تھی، آج پاکستان کے نام سے ریاست توموجود ہے، مگراسے ایک قوم کی تلاش ہے۔پھرایک لایزال جملہ کہا کہ مسلمانو!تم یہاں اس لیے جوتے کھارہے ہو کہ تم کہتے ہو ہم مسلمان ہیں اورآخرت میں اس لیے جوتے کھاؤ گے کہ تم مسلمان نہیں تھے۔قومیں آزادی کے بعد پھلتی پھولتی ہیں، مگرپاکستان ہے کہ پھپھوندتا چلاجارہاہے ۔سات عشرے کسی آزادقوم کا قبلہ درست ہونے کیلئے کافی ہوتے ہیں، ایک ہم ہیں کہ الجھتے جارہے ہیں اس عورت کی طرح جس نے عمربھر کاتا اوربڑھاپے میں ادھیڑنے بیٹھ گئی۔ہم نے جو کچھ تحریک آزادی کے دوران کاتا تھاآزادی کے بعدرقیب کی نظرکرتے چلے گئے۔آج تک یہ نہیں طے کرسکے کہ اقبال اور جناح کس طرح کا پاکستان چاہتے تھے۔ سیکولر یا اسلامی؟ جدید جمہوری ریاست یا کسی طالع آزما کا اوکھاڑہ؟ قرآن و اپیمبرکا نظام عدل یا سیکولرقانون کا بے ہنگم سا کیک جس پرتھوڑی سی اسلام کی کریم چھڑکی ہوئی ہو۔اپنی زبان ،تاریخ، اقدار، کلچراورجدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی پالیسی یا غیر سے مستعار سیکولرنظام تعلیم جو ہمارے قومی وجود میں کینسرزدہ اخلاقیات کا زہر بھر دے۔
جہاں تک ہمارے قومی نصاب تعلیم کا تعلق ہے اس کا مرکزومحور(nucleus)ہندودشمنی ہے۔ ہمارا گریجوایٹ یا پوسٹ گریجوایٹ جسے نصاب سے ہٹ کر پڑھنے یا سمجھنے کی کبھی غیرت نہ ہوئی ہو اس بات کو جزو ایمان سمھتاہے کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ہندواکثریت مسلمانوں کو دبوچنے کے درپے تھی تا آنکہ اقبال نے ایک آزادمسلم ریاست کاخواب دیکھا جسے جناح نے تعبیرکیااورہم ڈائینوسارزکی طرح مخدوش ہونے سے بچ گئے۔ یہی حال اسکول اساتذہ اورجامعات کی فیکلٹی کاہے۔ذراسوچیئے ہ قومی نصاب تعلیم کا یہ" بیانیہ " کس کے مفادات کا محافظ ہے، پھراس بیانیے کواقبال اورقائداعظم کے سیاق وسباق سے محروم بیانات داغ کرمضبوط بنایا جاتاہے، جون صاحب یادآئے جنہوں نے اپنی موت کوتصورمیں لاکر کہا تھا"آج وہ مرگیا جو تھاہی نہیں" ۔سلجوقوں، صفویوں اورعثمانیوں کے نظام ونصاب تعلیم کا مطالعہ کیجئے اول وآخرمقتدرقوتوں کے مفادات کا تحفظ نظرآئے گا۔یہی کیا آپ دوسری ، تیسری اور چوتھی صدی ہجری یعنی چارصدیوں کی محنت شاقہ سے ترتیب پانے والاہمارا علم الٰہیات، فقہ، تفسیر،شریعہ ، تمدن چغلی کھارہاہے کہ ان میں قرآن وپیغمبرکے حقیقی مدعاکومقتدرطبقے کے مفادات پرقربان کیا گیاہے۔تو بھلااقبال اورجناح کی کیوں نہ تراش خراش ہوتی۔
نثر سے تو سو بار الحذر! البتہ اقبال کی شاعری سے یہ پیغام کشید کیا جاتا ہے کہ تلوارلیکرنکلواورپوری دنیا پرچھا جاؤ! ہم نے چاہا کہ اقبال کے تصورپاکستان کا حقیقی مدعا آپ کے سامنے رکھا جائے جوان کے فلسفہ شرق وغرب کے مطالعے کا نچوڑ ہے اوریہی گہرائی وگیرائی اوررعنائی منیرنیازی کے ہاں ملتی ہے۔1921میں اسرارخودی کے مترجم ڈاکٹر نکلسن کو اقبال ایک خط میں لکھتے ہیں" مجھے یقین کامل ہے کہ کشورکشائی اسلام کے حقیقی نصب العین کا حصہ نہ تھی، درحقیقت علاقائی فتوحات اور ملک گیری نے اسلام کو نقصان پہنچایا۔ کشورکشائی کے اس دھن کے باعث سوسائٹی کی اقتصادی اورجمہوری تنظیم کے وہ اصول بروئے کارنہ آسکے جوقرآن کریم اوراحادیث نبوی میں یہاں وہاں روشن ہیں۔بلاشبہ فتوحات کی بدولت مسلمان ایک عظیم سلطنت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے مگرساتھ ہی ان کے سیاسی نظریات بڑی حد تک جاہلیت کے سانچوں میں ڈھل گئے اوران کی نگاہیں اسلام کے اہم ترین امکانات سے ہٹ گئیں" اقبال کہتے ہیں کہ اسلام میں ملوکیت درآنے سے الارض لللہ، حرف قل العفوا، لاقیصرولا کسریٰ اورقاہری ودرویشی کی یکجائی کے بنیادی عناصراس کے nucleusسے چرا لیے گئے، یوں اسلام تو رخصت ہوا رہ گئی عرب استعماریت (Arabian imperialism)جسے مودودی صاحب جاہلیت خالصہ کہتے ہیں۔ اقبال اس پس منظرمیں ایک آزادمسلم ریاست کا تصورپیش کرتے ہیں " اس لیے میں ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہوں جو بھارت اوراسلام دونوں کے بہترین مفاد میں ہے۔ اس سے بھارت کو اندرونی طورپرطاقت کے توازن سے سلامتی اورامن نصیب ہوگا، اوراسلام کو اس کے حقیقی قانون ، تعلیم اورکلچرکی آبیاری سے عرب استعماریت کی چھاپ سے نجات ملے گی اور یہ اپنی حقیقی روح کی طرف لوٹ سکے گا"۔ اقبال کا یہ یقین کامل تھا کہ اسلام کو اگرخاص خطے میں اپنے حقیقی نفاذکا موقع ملے تو اسے جہادتو کیا شاید تبلیغی سرگرمیوں کی ضرورت بھی نہ پڑے کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہارانتظارحسین کیساتھ انٹرویومیں منیرنیازی نے کیا۔ کہا" بعض لوگ کہتے ہیں ہم نے ہندو کے خوف سے پاکستان بنایا۔ہرگزنہیں۔ ہم برصغیرمیں ایک مثالی شہربسانا چاہتے تھے۔ ایسا کہ اس کی خوشبوپورے برصغیرمیں پھیلے۔ میں کسی سے نفرت نہیں کرتا ۔ میں ان لوگوں سے بھی نفرت نہیں کرتا جن کے ہاتھوں تقسیم ہند کے وقت میراخاندان زخمی ہوا۔۔۔ ہم نے غیرسے جو نفرت پالی تھی اس کی ادھرنکاسی نہیں ہوئی۔ اب خودپرخرچ ہورہی ہے"۔اپنی شاعری میں جابجا تنہائی کے کرب میں ایک نیا شہربسانے کی خواہش کیوں کرتے ہو؟ منیرنیازی نے جواب دیا " سارے تنہا آدمی بہت رونق چاہتے تھے، تنہا آدمی کا یہی تو المیہ ہے کہ وہ کان نمک میں جاکرنمک نہیں بن سکتا۔ وہ آبادی کیلئے، رونق کیلئے روتاہے، پھروہ کسی برگد کے تلے، کسی غارمیں بیٹھ کرسوچتا ہے کہ رونق کیسے پیدا کی جائے، کیسی بستی بنائی جائے"۔۔۔مجھ میں نیا شہربسانے کی خواہش پاکستان بننے کے بعد پیدا ہوئی۔ شہرکو چھوڑا توایک نیا شہرآبادکرنے کا خیال آیااورایک خدا پرست معاشرے میں شہرکے تصورکی حدیں آسمان سے ملتی ہیں۔میرے ہوتے ہوئے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں۔ پاکستان ایک خوبصورت دین کی طرح پھیلے گا"اپنا تصورآدمیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں" میں چنگیزخاں(ڈکٹیٹر)کی طرح کا آدمی نہیں چاہتا، ایسے خدا پرست لوگ دیکھنا چاہتا ہوں جن کے ہاں جمال اتنا ہوکہ خبیث قوتیں اس کے رعب میں 
آجائیں۔ میں شیلے کی طرح اپنی شاعری سے ایسے لوگ اسمبلیوں میں بھیجنا چاہتاہوں جو ظالمانہ قوانین بنا ہی نہ سکیں۔ اقبال کو جب ایسا شہریا بستی بستی دکھائی نہ دی توکاخ امراء کے درودیوارہلادینے کی بات کرتے ہیں،جس سے کسان کو روزی میسرنہ ہو اس کے ہرخوشہ گندم کو جلادینے کی بات کرتے ہیں، خالق ومخلوق کے درمیان حائل پردوں کو ہٹانے کیلئے پیران کلیسا کو کلیسا سے باہرنکال پھینکنے کی بات کرتے ہوئے دیروحرم کے چراغ بجھادینے کامشورہ دیتے ہیں اور سنگ مرمرکی سلوں سے بیزارہوکرمٹی کا حرم بنانے کی بات کرتے ہیں، ہرنقش کہن کو مٹانے کی بات کرتے ہیں۔ مگر منیرنیازی کو جب اپنے خوابوں کا شہر( پاکستان ) بستا دکھائی نہیں دیتا تو اس کا غصہ اقبال سے بھی بڑھ جاتاہے، ظالمانہ معاشرت سے نفرت کا یہ عالم ہوجاتاہے تو لکھتے ہیں
اس شہر سنگدل کو جلا دینا چاہئے
پھراس کی خاک کو بھی اڑا دینا چاہئے
ملتی نہیں پناہ ہمیں جس زمین پر
اک حشر اس زمیں پر اٹھا دینا چاہئے


ای پیپر