عمران خان کے فیصلے
16 اگست 2018 2018-08-16

وفاق میں حکومت سازی کا آخری مرحلہ باقی ہے۔نئے منتخب ارکان قومی اسمبلی حلف اٹھا چکے ہیں۔اسدقیصر اسپیکر قومی اسمبلی جبکہ قاسم سوری ڈپٹی اسپیکر منتخب ہو گئے ہیں۔اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد نمبرز گیم بھی سامنے آچکے ہیں۔مطلب کہ تحریک انصاف نے وزیراعظم کے لئے مطلوبہ اکثریت پوری کر لی ہے ۔ممکن ہے کہ عمران خان قاسم سوری سے بھی زیادہ ووٹ حا صل کر یں۔عام انتخابات میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف اور ان کے اتحادیوں نے عمران خان کو وزیراعظم کے لئے اپنا امیدوار نامز د کیا ہے۔ابھی تک جو اعداد وشمار جوڑتوڑ کے بعد سامنے آئے ہیں اس کے مطابق عمران خان ہی پاکستان کے اگلے وزیر اعظم ہو نگے۔
انتخابات سے قبل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں ایک عام سوچ یہی تھی کہ وہ کانوں اور زبان دونوں کا کچھا ہے۔اس لئے بہت سارے لوگ پریشان تھے کہ اقتدار میں آنے کے بعد اگر عمران خان نے یہی سٹا ئل بر قرار رکھا تو مسائل کاسامنا کر سکتے ہیں۔خاص کر مقتدر قوتوں کے ساتھ معا ملات پر۔لیکن قومی انتخابات میں کامیابی کے بعد انھوں نے اس عادت پر ابھی تک جس طر ح قابو لیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔فتح کے بعد جو پہلی تقریر انھوں نے کی اس کو بہت زیادہ پذیرائی ملی۔اس تقریر کے بعد بہت سارے لوگوں کو اپنی سابق رائے سے رجوع کرنا پڑاہے ۔
حکومت سازی کے لئے صلاح مشورں کو جس طر ح انھوں نے راز میں رکھ کر فیصلے کئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے کانوں اور زبان دونوں پر مکمل کنٹرول حا صل کر لیا ہے۔مرکز میں حکومت سازی میں سب سے اہم اور پہلا فیصلہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے نامزدگی کا تھا۔یہ مر حلہ انھوں نے بہترین طر یقے سے حل کیا۔یہ وہ فیصلہ تھا کہ جس سے وہ صحافی اور دانشور بھی جو عمران خان اور ان کے تر جمانوں کے ساتھ قریبی تعلق کا دعویٰ دار ہے، قبل از وقت ذرائع کے ذریعے سے بھی خبر نہ دے سکے کہ کس کو اس منصب کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔حالانکہ اس سے پہلے کئی صحافی ان کے ذاتی زندگی کے بارے میں خبریں بریک کر چکے ہیں۔اسد قیصر کو اسپیکر قومی اسمبلی کے لئے امیدوار نامزد کرکے عمران خان نے خیبر پختون خوا کے عوام کو ایک پیغام بھی دیا ہے کہ آپ نے سب سے پہلے میرے اوپر اعتماد کیا تھا۔اس لئے میں نے بھی وفاق میں حکومت سازی کے دوران سب سے پہلے خیبر پختون خوا کے عوام کو یاد رکھا۔اسی طر ح ڈپٹی اسپیکر کے لئے قاسم سوری کا نام بلو چستان کے عوام کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ وفاقی حکومت میں آپ کو حصہ ملے گا۔ آپ کو وفاق میں وزارتوں اور اہم عہدوں پر تعیناتیوں سے محروم نہیں رکھا جائے۔اسد قیصر اور قاسم سوری کی نامزدگی دونوں صوبوں میں مو جود احساس محرومی ختم کرنے میں معاون بھی ثابت ہو گی۔
پنجاب میں چوہدری سرور کو گورنر نامز دکرنا اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ عمران خان بیر ونی دنیا کے سرمایہ کاروں کو پنجاب میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے لئے راغب کرنے کا فیصلہ کر چکے ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ چوہدری سرور بیرونی دنیا کے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ گہرے مراسم رکھتے ہیں۔بعض لو گ یہ سوال ضرور اٹھا تے ہیں کہ اگر چوہدری سرور اتنے بااثر ہیں تو پھر ان کو وفاقی وزیر تجارت یا سرمایہ کاری کا قلمدان دینا چا ہئے تھا۔میرے خیال میں اس فیصلے کے دو پہلو ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ چوہدری سرور پنجاب میں پارٹی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے کام کریں گے،تاکہ آئندہ بلدیاتی اور عام انتخابات میں کا میابی کو یقینی بنا یا جا سکے۔دوسرا چوہدری سرور کو وزارت تجارت یا سرمایہ کاری نہ دینے کا ایک اور پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بلو چستان اور خیبر پختون خوا میں امن و امان کی صورت حال وہ نہیں کہ جس کی بنیاد پر وہ بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کر سکیں۔سندھ میں بھی چونکہ وہ اپوزیشن میں ہیں اس لئے وہاں پر بھی زیادہ توجہ کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ہے۔خلا صہ یہ کہ چوہدری سرور پنجاب میں گو رنر کے ساتھ ساتھ وزیر تجارت یا سرمایہ کاری اور پارٹی کے صوبائی صدر کا کردار بھی ادا کریں گے۔
بلو چستان میں جام کمال اور عبدالقدوس بزنجو ،دونوں کو جس طرح ایکا مو ڈیٹ کیا گیا وہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔اسی طر ح خیبر پختون خوا میں حکومت سازی کا مر حلہ جس خوش اسلوبی سے حل کیا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسٹیج پر کھڑے عمران خان اور پارلیمان میں مو جود عمران خان میں فرق مو جود ہے۔اسٹیج پر کھڑے ہو کر سب کو جیل میں ڈالنے اور کسی کے ساتھ ہاتھ نہ ملانے والے عمران خان اور پارلیمنٹ کے فلو ر پر کھڑے عمران خان میں زمین و آسمان کافرق ہے۔قومی اسمبلی میں تقریب حلف بردار ی کے بعد میاں شہباز شریف ،آصف علی زرداری اور بلاول زرداری سے مصافحہ کرنا،اس با ت کی دلیل ہے کہ عمران خان سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔اپوزیشن کا تقریب حلف برداری میں ہنگامہ آرائی نہ کرنا بھی عمران خان کی سیاسی بصیرت کا ثبوت ہے۔اس لئے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے تحریک انصاف کے وفد نے اسپیکر ایاز صادق، اور خورشید شاہ کے ساتھ ملا قاتیں کی تھیں۔غا لب امکان یہی ہے کہ ایاز صادق نے مسلم لیگ (ن)اور خورشید شاہ نے پیپلز پارٹی کی طر ف سے احتجاج نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطہ کرنے کے بعد تحریک انصاف کو متحدہ مجلس عمل کے ساتھ بھی رابطہ کرنا چاہئے تھا،جو وہ نہ کر سکے۔ممکن ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا ہو کہ ایم ایم اے کے منتخب ارکان میں کوئی بھی اس قابل نہیں کہ ان سے ملا جائے اور ان سے حکومت سازی میں تعاؤں کی درخواست کی جائے۔ اس لئے کہ ایم ایم اے کی تمام اعلیٰ قیادت کو انتخابات میں بوری طرح شکست کا سامنا کر نا پڑا ہے۔
ان تمام مثبت فیصلوں کے بعداب بھی اس سوال کا جواب مکمل نہیں ، کہ اقتدار میں آنے سے پہلے اور اقتدار میں آنے کے بعدعمران خان کی گفتگو میں سیاسی جما عتوں کے رہنماؤں کے بارے میں الفاظ کے چنا ؤ میں کوئی تبدیلی آئے گی کہ نہیں؟اس لئے کہ یہ ثابت ہونا ابھی باقی ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف کی حیثیت سے اسٹیج پر کھڑے عمران خان اور وزیر اعظم کے منصب پر فائز عمران خان میں کو ئی فرق ہے کہ نہیں؟لیکن قومی اسمبلی میں اکثریت مل جانے کے بعد حکومت سازی کے ابتدائی مراحلے میں ان کے فیصلوں میں پختگی دیکھنے کو مل رہی ہے جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کے گفتار میں بھی نمایاں فرق ہو گا۔


ای پیپر