پاکستان کا یوم آزادی اور کشمیر !
16 اگست 2018 2018-08-16

اہل کشمیر کی عظمت کو سلام! اس سال بھی اپنی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے ہمارے ان پیارے کشمیریوں نے یوم پاکستان منانے کی شاندار مثال پیش کی۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں پاکستانی علم پوری وادی میں سربلند کرنا کوئی مذاق نہیں ہے۔ اسی طرح دس لاکھ ہندو فوج کی سنگینوں اور توپوں کے سامنے بھارتی ترنگے کو جلانا اور 15اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانا جان جوکھوں کا کام ہے۔ اب تک سوا لاکھ کے قریب کشمیری نوجوان اور بزرگ مرد و خواتین اپنی جان قربان کرچکے ہیں۔ مگر کہیں کوئی کمزوری یا مایوسی نظر نہیں آتی۔ یہ کشمیریوں کی عظمت ہے۔ اے اہل کشمیر تم نے ثابت کردیا کہ تم ہمارے ہو۔ اے کاش !ہم بھی عوام سے لے کر سرکاری سطح تک یہ ثابت کرسکیں کہ ہم تمھارے ہیں۔ حوصلے نہ ہارنا ان شاء اللہ ایک روز آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔ 
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش 
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہوجائے گی 
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزمِ گل کی ہم نفس بادِ صبا ہو جائے گی!
پوری دنیا جانتی ہے کہ وادئ کشمیر خطہ جنت نظیر ہے مگر پون صدی سے بھارت کے غاصبانہ قبضے میں ہے۔ بربریت کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد اور بھارت کی سفاکی نے اس وادئ باغ و بہار کو خزاں رسیدہ بلکہ لہولہان کر دیا ہے۔ اب تک لاکھوں کشمیری نوجوان، بزرگان اور دخترانِ اسلام جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور ہزاروں جیلوں میں بدترین ظلم سہہ رہے ہیں، ہزاروں معذور ہو کر بھی اپنے دلوں میں شمع حریت روشن کیے ہوئے ہیں۔ یہ سیاہ رات کافی طویل ہوگئی ہے، مگر کوئی رات ایسی نہیں، جس کی سحر نہ ہو۔ وہ سحر کب طلوع ہوگی اس کا علم خالقِ کائنات ہی کو ہے، تاہم ہر بندۂ مومن کو یقین رکھنا چاہیے کہ خونِ شہداء کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ بھارتی بنیا کانگرس کے روپ میں ہو یا بی جے پی کی بھیانک شکل میں سامنے آئے۔ اسلام دشمنی اور مسلم کشی میں یکساں کردار اد اکرتا ہے۔ تقسیم ہند کے ساتھ ہی کشمیر میں اس ظلم کاآغاز نہرو اور پٹیل نے کیاتھا مگر دلی میں برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت نے بلا استثناء اس میں اضافہ ہی کیاہے۔ 
کشمیری قیادت شیخ عبداللہ سے لے کر ان کے بیٹے فاروق عبداللہ تک اور بخشی غلام محمد سے لے کر مفتی سعید اور ان کی بیٹی محبوبہ مفتی تک بار بار اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتی رہی ہے۔ اس سارے المناک تاریخی پس منظر میں کشمیر کی حریت پسند تنظیموں اور پرعزم شخصیات نے خونِ جگر دے کر آزادی کا علم ہمیشہ بلند رکھا ہے۔ کشمیر پر فوج اور مسلح دستوں کے ذریعے یہ ظالمانہ قبضہ دیرپا یا دائمی نہیں ہوسکتا۔ انڈیا کی دس لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں مایوسی کا شکار ہوچکی ہے۔ اندھادھند گولیاں چلانے والے نہتے کشمیری عوام کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ کتنے ہی فوجیوں اور پولیس کارندوں نے خودکشیاں کی ہیں۔ اس کے مقابلے میں کشمیری بغیر آتشیں اسلحہ کے لاکھوں فوجیوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کی وادی میں اتر جاتے ہیں، مگر کبھی مایوس ہو کر خودکشی کا راستہ نہیں اپناتے۔ کیا کشمیر پر بزور قوت قبضہ جاری رہ سکتا ہے؟ اس سوال پر خود بھارت کے اندر سے مختلف اوقات میں بھارتی دانشور، سیاست دان، صحافی اور سرکاری افسران بہت چشم کشا تبصرے کرچکے ہیں۔ بھارت کے سابق سپہ سالاروں میں سے کئی ایک اس ساری بھارتی منصوبہ بندی کو دیوانے کا خواب قرار دے چکے ہیں۔
کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں اگرچہ عالمی سطح پر کبھی کوئی آواز سننے میں نہیں آئی مگر یہ اندھیر نگری کشمیری حریت پسندوں کے حوصلے پست نہیں کرسکی، کتنا بڑا المیہ ہے کہ ترقی یافتہ اور خود کو مہذب کہلانے والی وہ آبادیاں جو کسی کتے اور بلی کے مارے جانے پر یورپ اور امریکہ میں طوفان اٹھا دیتی ہیں،عمومی طور پر اب تک خاموش تماشائی بنی رہیں۔ اس کے باوجود اب حالات تبدیلی کا رخ اختیار کر رہے ہیں۔ فلسطین و کشمیر اور میانمار میں ڈھائے جانے والے مظالم پر عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سنجیدگی کے ساتھ سوچ بچار کر رہی ہیں کہ ان مسائل کو بھی اٹھایا جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ہو یا اقوام متحدہ کے مختلف ادارے ہر جگہ اب یہ بات موضوعِ سخن ہے کہ کشمیریوں، فلسطینیوں اور روہنگیا کے مظلوم عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے کیوں محروم کیا گیا ہے۔ کیا یہ انسان نہیں اور کیا ان کے بنیادی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں ہے ؟
مقبوضہ کشمیر کے معروضی حالات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتاہے کہ وہاں کے شجر و حجر اور درو دیوار بلکہ وہاں کے کتے اور بلیاں بھی بھارتی بھیڑیوں سے شدید نفرت رکھتے ہیں۔ اس سال بھی اپنی سنہری روایت کو زندہ کرتے ہوئے یوم پاکستان پورے جوش و جذبے سے منایا گیا۔ وادئ جنت نظیر میں 14 اگست کو ہر جانب سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا۔ اس کے برعکس بھارت کے یوم آزادی 15 اگست کو بھارت کے خلاف اظہارِ نفرت کے لیے سیاہ جھنڈوں کی بھرمار دیکھی گئی۔ ترنگا جلانے کا عمل بھی کئی مقامات پر ہوا جو کشمیری قوم کی بھارت کے ساتھ شدید نفرت اور دشمنی کا برملا اظہار تھا۔ غیرت مند کشمیر یوں کا یہ تاریخی اور ناقابل فراموش کردار کس سے پوشیدہ ہے کہ وہ ہر روز شہداء کے جنازے اٹھاتے ہیں مگر ظلم کے سامنے سرجھکانے سے انکاری ہیں ۔ مودی سے دوستیاں کرنے والے اور بھارت کے ساتھ ثقافتی بھائی چارے اور ثقافتی طائفوں کے تبادلے کے علمبردار یاد رکھیں کہ ودستی اور خیر سگالی اچھی چیزہے مگر کوئی انسان خونخوار درندوں سے تو دوستی نہیں کرسکتا۔ 
پاکستان میں نئی حکومت وجود میں آگئی ہے۔ اب ہمارے نئے حکمرانوں کا امتحان ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کے لیے سنجیدہ اور عملی کوشش کرتے ہیں یا محض زبانی جمع خرچ پر اکتفا کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ حق ادا ہوگیا ہے۔ افسوس کہ آج تک ہم سرکاری سطح پر وہ کچھ نہ کرسکے جو آزادئ کشمیر کے لیے ضروری اور ہمارا فرض تھا۔ ان معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے کشمیری آبادی خراج عقیدت کی مستحق ہے کہ اپنے شہداء کو پاکستانی پرچم میں دفناتے ہیں اور ان کی قبروں پر پاکستان کا سبز ہلالی علم دیکھا جاسکتا ہے ۔ وہ انڈیا کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے اور یوم پاکستان کو پاکستانی قوم سے بھی زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔ ہر کشمیری کی زبان پر نعرہ ہوتاہے ’’ کشمیر بنے گا پاکستان ۔ ‘‘ پاکستانی ٹیم کسی بھی میچ میں جیت جائے تو کشمیر میں جشن منایاجاتاہے۔ 
پوری دنیا یہ منظر بھی دیکھتی ہے کہ اگرپاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ ہواور اس میں پاکستان فتح پائے تو کشمیریوں کی طر ف سے وہ دن عید کی طرح منایاجاتاہے۔ کشمیر ان شاء اللہ پاکستان کاحصہ بنے گا اور تکمیل پاکستان کا خواب پورا ہوگا۔ قائد اعظم ؒ نے کشمیر کو بلاوجہ پاکستان کی شہ رگ قرار نہیں دیاتھا۔ ان کے بیان میں وزن اور منطق ہے۔ کشمیر کے غیرت مند مسلمانو! اللہ تمھیں سلامت رکھے۔ تمھاری زبانوں پر ہر وقت پاکستان زندہ باد کا نعرہ رہتا ہے۔ ہم بھی کہتے ہیں ’’جذبہ حریت زندہ باد، پاکستان زندہ باد، بھارت کا غاصبانہ قبضہ نامنظور، بھارتی درندگی مردہ باد!‘‘ 
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے!
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے!


ای پیپر