تحریکی حکومت کو کچھ مفید مشورے 

16 اگست 2018

خواجہ جمشید امام

پاکستان ایک رائٹس شفٹ کی طرف چلا گیا جو پاکستان تحریک انصاف کی شکل میں آ پ کے سامنے ہے ۔ 2018 ء کے انتخابات میں عمران خان نے دائیں بازو کے پرانے چہروں کی ایک ہی دیگ پکا دی اور لبرل ٗ روشن خیال ٗ ترقی پسند اور نیم ترقی پسندوں کے علاوہ مذہب کی بنیاد پر سیاست کرنے والی جماعتوں کے سربراہ بھی اُس گروپ فوٹو میں اکٹھے کھڑے دکھائی دینے لگے جو نواز شریف کے اندر مارکس ٗ لینن اور ماؤ کی روح تلاش کررہے تھے ۔ گو تحریک انصاف نے میری توقع سے 30 سیٹیں کم لیں لیکن اس کے باوجود اہم ترین لوگ اسمبلی سے باہر ہو گئے اور اب سیاسی صف ماتم وہیں بچھی ہے جہاں عمران خان کا دھرنا ہوا کرتا تھا ۔ کل تک جو کہتے تھے کہ عمران خان اسمبلی میں آ کر بات کرے آج عمران خان انہیں یہ دعوت بھی نہیں دے سکتا کیونکہ عوام نے انہیں اسمبلی میں جانے ہی نہیں دیا ۔ مولانا فضل الرحمان کی آہ و بکا سب سے زیادہ سنائی دے رہی ہے اور انہوں نے تو تمام سیاسی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 14 اگست کویوم پاکستان منانے سے بھی انکار کردیا تھا ۔ وہ افواج پاکستان کے مدمقابل عوام کو لانا چاہتے ہیں ۔ مولانا کوغصہ کس پر ہے میری سمجھ سے باہر ہے لیکن یہ تمام بیانات مستقبل میں اُن کابچا کھچا سیاسی کیریئر بھی نیست و نابود کرچکے ہیں ۔امیر 
جماعت اسلامی بھی یہ الیکشن اپنی آبائی حلقہ سے ہار گئے لیکن انہوں نے بہرحال پاکستان مخالف بیان نہیں دیا گو کہ عمران خان پاکستان کے روایتی سیاستدانوں سے کہیں زیادہ مخنتی او ر زیرک نکلا ہے جتنا وقت اُس کے مخالفین کو سوچنے کیلئے چاہیے ہوتا تھا اُسے اپنے فاتح بیانیے کیلئے اس سے بھی کم وقت درکار ہوتا تھا ۔ اُس نے اپنا موقف پاکستانیوں کے دلوں میں ڈال دیا۔ وہ فتح و شکست سے بالا ہو کر اپنی جنگ لڑتا رہا ۔ پاکستان کی عوام غریب اور حکمران امیر سے امیر تر ہوتے چلے گئے اور آج انجام آپ کے سامنے ہے ۔ 
آپ کو پاکستانی سیاست کے تجزیے کا آسان ترین طریقہ بتا دوں کہ جو بات عمران مخالف کہیں کہ نہیں ہو گی سمجھ لیں کہ وہ ہو کر رہے گی ۔ اس سے زیادہ آسان سیاسی حالات اس سے پہلے کبھی میسر نہیں آئے ۔ کچھ یار لوگ اب بددعاؤں پر اتر آئے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ اگر اُن کی دعاؤں میں اثر ہوتا تو آج یہ دن ہی انہیں نہ دیکھنا پڑتے لیکن ابھی تو بہت سے مناظر دیکھنے کو ملیں گے تمام نجومیوں کے طوطے اپنی اپنی شاخوں پر جا بیٹھے ہیں۔ ہم نے زندگی جیلوں اور ریلوں میں گزاری ہیں سو جانتے ہیں کہ جیل اے پلس بھی ہو تو جیل ہی ہوتی ہے کہ انسان آسمان پر اڑتے پرندوں کو دیکھ کر اُن پر رشک کرتا ہے۔ تحریک انصاف کو بدترین معاشی حالات میں حکومت ملی ہے لیکن میری چیئرمین تحریک انصاف سے پہلے بھی گزارش تھی کہ پنجاب اسمبلی کے پہلے اجلاس میں لوکل باڈی آرڈینس پیش کردیں تاکہ آنے والے دنوں میں لوکل باڈی الیکشن کروا کر گلی محلے لیول پر اپنا نمائندہ پیدا کیا جا سکے جو ریلیف عام آدمی کے دروازے تک پہنچا سکے کیونکہ اِن حالات میں زیادہ دیر تک سرکاری ملازمین پر اعتبار کرنا تباہ کن ثابت ہو گا ۔لوکل باڈی آرڈینس بناتے ہوئے پولیس کونسلر کاانتخاب بھی کروایا جائے تاکہ عوامی نمائندے کی موجودگی میں ایک تو درج ہونے والے مقدمات کی تعداد کم ہوجائے گی کہ بات 
صلح صفائی پرختم ہوجائے گی اوردوسرا مقامی آدمی لوگوں کے جھگڑوں اور ان کے اختلافات کوزیادہ جانتا ہے ۔ اُس کی موجودگی میں زیادتی ہوتی ہے تو کونسلرکو یہ معلوم ہو گا کہ اگلے انتخابات میں میں نے انہی سے ووٹ لے کرآنا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کونسلر کی ذمہ داری ہو کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے متعلقہ تھانے کی حوالات اور تھانے کے دوسرے کمرے چیک کرے کہ کہیں کوئی بے گناہ بغیر گرفتاری کے بند تو نہیں کیا گیا ۔ اس سے عوام اور پولیس کا رشتہ بھی مضبوط ہو گا اور جرائم کے ریشو بھی کم ہو گی لیکن اس کیلئے لوکل باڈی آرڈینس میں ایک بات کو ضرور شامل کرنا ہو گا کہ اگر کو ممبر ڈسٹرکٹ اسمبلی کسی کرپشن کا مرتکب ہوتا ہے تو ڈسٹرکٹ اسمبلی ہی تین دن میں اُس کی جزاہ سزا کا فیصلہ سنا کر کام کو آگے شروع کرئے۔
اس کے علاوہ جلد از جلد قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب کے صوبے کے حوالے سے کام شروع کردیا جائے تاکہ پہلے مرحلے میں ہی جنوبی پنجاب کی عوام پر یہ واضح ہو جائے کہ صوبے کا مخالف کون کون ہے اس سے ایک تو ابتدا ء میں ہی ایک وعدے کی تکمیل ہوجائے گی اور دوسرا بہت سے نامعلوم ملزمان عوام کے سامنے ہوں گے اورجنوبی پنجاب کے عوام بھی جان جائیں گے کہ اُن کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کون کون ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملے میں کافی تاخیر ہوچکی ہے جس سے کارکنوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور تحریک انصاف میں کارکنوں کے درمیان امیدوار کے حوالے سے تلخیاں جنم لی رہی ہیں ۔ میری چیئرمین تحریک انصاف سے درخواست ہے کہ اس معاملے کو اب اپنے منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے ۔ آخری اور نا قابلِ تنسیخ فیصلہ چیئرمین تحریک انصاف کا ہی ہو گااور تحریک انصاف کے کارکن اپنے چیئرمین پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں ۔ 
جناب چیئرمین تحریک انصاف کو ایک مشورہ ہے اگر وہ اس پرعمل کریں تو عام آدمی کی زندگی میں سکھ کے بہت سے لمحے آ سکتے ہیں۔ پاکستان میں پستول بغیر لائسنس کے نہیں ملتا لیکن گاڑی اور موٹر سائیکل کوئی بھی بغیر لائسنس کے خرید سکتا ہے ۔پستول خرید نے والا یا تو خود کشی کرسکتا ہے یا پھر اپنے کسی ایک دو مخالفین کو قتل کرسکتا ہے لیکن جسے آپ گاڑی یا موٹرسائیکل کا لائسنس جاری کر دیتے ہیں وہ خود بھی مرتا ہے اور اُن بے گناہوں کو بھی مار دیتا ہے جس کی اُس سے کوئی دشمنی نہیں ہوتی ۔ پاکستان میں فوری طور پر گاڑیوں اور موٹر سائیکل خریدنے والوں کیلئے لائسنس کی شرط لازم کردیں اوراس کیلئے لائسنس کا اجراء کرنے والے ادارے کو وسیع کر لیا جائے تو ریونیو بھی جمع کیا جا سکتا ہے اور انسانوں کوحادثات سے بھی بچایا جا سکتا ہے لیکن اس میں احتیاط یہ ہے کہ لائسنس جاری کرنے والے ادارے اندھوں کو لائسنس جاری کرنے والے نہ ہوں ۔ اس کیلئے باقاعدہ تین سے پانچ دن کا کورس رکھا جائے جس کی باقاعدہ کلاسیں ہوں اور اُس کے بعد ٹیسٹ لے کر لائسنس جاری کیا جائے ۔ سٹرک پر چلتی ہوئی جس موٹر سائیکل کے پاس لائسنس نہیں ہے اُسے بحق سرکار اتنی دیرتک ضبط کر لیا جائے جب تک اُس کا مالکِ حقیقی لائسنس نہیں لے کر آتا او ر جتنے دن وہ سرکاری کی تحویل میں رہے اُس کی پارکنگ کے پیسے اُس سے چارج کیے جائیں اس سے وہ جلد از جلد سارے کام چھوڑ کر لائسنس بنانے کی طرف راغب ہو گا۔ 
ہارن کو اعصاب کا کینسر کہا جاتا ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ آلہ ء کینسر سرکاری گاڑیوں میں سب سے زیادہ لگا ہے ۔ لاہور کی حد تک تو میں بخوبی جانتا ہوں کہ تمام کالجوں ٗ یونیورسٹیوں ٗ میڈکل کالجز ٗ انجینرنگ یونیورسٹیوں اور سرکاری بسوں اور ویگنوں میں لگا ہوا ہارن اتنا تکلیف دے ہے کہ ہارن بجنے کے بعد کئی منٹ تک دماغ ٹھکانے پر نہیں آتا جس سے چڑچڑا پن اور بہت سے دوسری نفسیاتی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں ۔ یہ ابتدائی کام ایک نوٹیفیکشن پر ہو سکتے ہیں صرف اِن پر عمل درآمد کروانے کی ضرور ت ہے اور اس کا فائدہ پاکستان بھر میں عام آدمی کو جس قدر ہو گا اُس کا ابھی تصور بھی ممکن نہیں ۔

مزیدخبریں