کابل خود کش دھماکے سے لرز اٹھا ٗ شیعہ تعلیمی مرکز میں 50 سے زائد ہلاک

16 اگست 2018 (17:48)

کابل :افغان دار الحکومت کابل میں خود کش حملہ آور نے طلباء و طالبات سے بھرے ایک تعلیمی مرکز کے اندر خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑا لیا۔ اس دہشت گردانہ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 50سے زائد ہو گئی جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔


تفصیلات کے مطابق یہ حملہ شہر کے مغربی حصے میں ہوا جہاں کے رہائشیوں کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ کابل میں دہشت گردی کے اس خونریز واقعے میں ایک تعلیمی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ افغان پولیس کے ترجمان حشمت استانکزئی نے اس دہشت گردانہ کارروائی کے ایک خود کش حملہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ حملہ آور پیدل چل کر تعلیمی مرکز کے اندر داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔افغان وزارت صحت کے ترجمان وحید مجروح نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے اس لیے ہلاکتوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔خودکش بمبار نے جس تعلیمی مرکز کو نشانہ بنایا وہاں ہائی اسکول پاس کرنے والے نوجوان طلبہ اور طالبات کو یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے ریاضی، کیمیا اور طبعیات کی تعلیم دی جاتی تھی۔


وحید مجروح نے یہ نہیں بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں طلبہ اور طالبات کی تعداد کتنی ہے۔1980ء کی دہائی میں سوویت فورسز کے خلاف لڑائی میں ملا داد اللہ کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی۔ مجاہدین کے اس کمانڈر کو طالبان کی حکومت میں وزیر تعمیرات مقرر کیا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ملا محمد عمر کا قریبی ساتھی تھا۔ داد اللہ 2007ء میں امریکی اور برطانوی فورسز کی ایک کارروائی میں مارا گیا تھا۔فی الحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم ماضی میں افغانستان میں شیعہ مسلمانوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ ملوث رہی ہے۔

مزیدخبریں