نصرت فتح علی کو مداحوں سے بچھڑے 21برس بیت گئے
16 اگست 2018 (16:48) 2018-08-16

لاہور:’’ یاداں وچھڑے سجن دیا آئیاں ‘‘ برصغیر پاک و ہند سمیت دنیا بھر میں فن قوالی کو بام عروج پر پہنچانے والے لیجنڈگلوکار استاد نصرت فتح علی خاں کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے ۔


شہنشاہ قوالی اور ورلڈ میوزک کے تخلیق کار کی حیثیت سے پہچان رکھنے والے منفرد لب و لہجے کے فنکار نے فیصل آباد کو دنیا بھر میں معروف کر دیا ،مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود انہوں نے اپنے آبائی آشیانے سے تعلق جوڑے رکھا۔13اکتوبر 1948 میں جنم لینے والے نصرت فتح علی خاں نے 16 سال کی عمر میں اپنے والدچہلم پر اپنی پہلی پبلک پرفارمنس پیش کی۔ جس کے بعد آخری دم تک دنیا بھر میں موسیقی کے مداح ان کی سریلی دھنوں پر سر دھنتے رہے۔ کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے، مینوں یاداں تیریاں آوندیاں نیں، سانو ں اک پل چین نہ آوئے تم اک گورکھ دھندا ہو، علی داں ملنگاں ، دمادم مست قلندر ، میری توبہ میری توبہ ، تیرے بنا نئی لگدا دل میرا، غم ہے یا خوشی ہے تو ، اور عشق دا رُتبہ جیسی منفرد اور نا قابلِ فراموش دھنیں بنانے اور انہیں گانے والے نصرت فتح علی خاں نے 32 سالہ فنی سفر میں قوالی کے 125 البم ریلیز کیے ، جس پر ان کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج کیا گیا۔


اس کے علاوہ درجنوں فلموں کا میوزک دینے کے ساتھ ساتھ نغمات کی گائیکی نے انہیں شہرت کی بلندیوں پہنچایا ۔ مرحوم نے پرائیڈ آف پرفارمنس ، یونیسکومیوزک ایوارڈ ، اور دیگر درجنوں اعزاز اپنے نام کیے ، جاپان میں انہیں آج بھی’’ گاتے ہوئے بدھا‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ انہیں دنیا کی 50 بہترین آوازوں اور انہیں 60 سالہ دور کے 12 بہترین اور دانشور فنکاروں میں بھی شامل کیا گیا ، فیصلِ آباد سے تعلق رکھنے والے عظیم فنکار گردوں اور جگر کی خرابی کے باعث 16 اگست 1997 کو لندن میں خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔ اور17 اگست کو انہیں جھنگ روڈ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔


ای پیپر