خدشے ، خواہشیں اور دعائیں!

16 اگست 2018

توفیق بٹ

آزادی کے حوالے سے لکھے گئے اپنے گزشتہ کالم ”عزت اور آزادی“ میں عرض کیا تھا ”ایک آزادی ہمیں 1947ءمیں ہندوستان سے ملی تھی اور ایک آزادی اب 2018ءمیں ہندوستان کے قرب اور کاروبارمیں بُری طرح مبتلا ”شریف سیاستدانوں“ سے کسی حدتک مل گئی ہے۔ یہ ان سے آزادی ملنے کی ”پہلی قسط“ ہے، جس میں اللہ کے فضل وکرم سے بنیادی کردار عمران خان کا ہے۔ آگے چل کر بھی یہ کردار اُسے ہی ادا کرنا ہے جو اب وہ خالی بڑھکوں، نعروں یا دھرنوں وغیرہ سے نہیں صرف اور صرف کارکردگی سے ہی ادا کرسکتا ہے ،....اس کی کارکردگی اگر بہتر رہی ، جس کی اچھی خاصی اُمید ہے، تو مجھے یقین ہے ایسی صورت میں کاروباری سیاستدانوں وفنکاروں سے مکمل طورپر نجات مِل جائے گی۔ ان سے نجات کی ”پہلی قسط “ بھی کسی معجزے سے کم نہیں۔ آج سے پانچ دس برس قبل کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ” باری برادران “ سے نجات مل جائے گی اور کوئی تیسری جماعت اقتدار کا منہ دیکھ سکے گی۔ اِس ضمن میں عمران خان کی بائیس سالہ جدوجہد کو سلام اور میڈیا کو بھی سلام جو اس جدوجہد کا باقاعدہ حصہ رہا۔ میں نے ایک بار عمران خان سے کہا تھا ”میری دعا ہے آپ کبھی اقتدار میں نہ آئیں، کیونکہ آپ ہماری آخری اُمید ہیں “۔اُمید بنی رہنی چاہیے، بندھی رہنی چاہیے، اُمید پر دنیا قائم ہے اور دل بھی اُمید پر ہی قائم ہوتے ہیں، عمران خان نے کارکردگی نہ دکھائی، محنت اور محبت سے معاملات کو سنبھالا نہ دیا ،خصوصاً اپنی ”ٹیم “ پر خصوصی نظر نہ رکھی تو کاروباری سیاستدان ایک بار پھر پاکستان پر مسلط ہو جائیں گے جس کے بعد ”جنرل وارڈ“ میں شفٹ ہوتا ہوا پاکستان ایک بار پھر ”آئی سی یو“ میں چلے جائے گا، اور اس کی تمام تر ذمہ داری عمران خان پر ہی عائد ہوگی، یہ درست ہے اُسے بڑا کمزور مینڈیٹ ملا ہے، ممکن ہے اس کا اہتمام ”اصل طاقتوروں“ نے خود کیا ہو، انہیں شاید یقین ہوگیا ہوگا جو کام وہ ” کمزور مینڈیٹ“ سے لے سکتے ہیں ”دھرنوں“ وغیرہ سے بھی نہیں لے سکتے۔ اب یہ عمران خان پر منحصر ہے وہ ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کرے کہ اس کے ”کمزور مینڈیٹ “ سے بھی کوئی فائدہ نہ اُٹھا سکے۔ اس کے لیے اپنی کچھ روایتی کمزوریوں پر اُسے قابو پانا ہوگا۔ سائے کی طرح اپنے ساتھ جُڑے ہوئے کچھ لوگوں کو کچھ دیر کے لیے خود سے پرے کرنا ہوگا۔ اسے چاہیے مختلف اداروں اور شعبوں میں اچھے اور صاف ستھرے ایسے لوگوں کو تعینات کرے جو صرف دیانتدار نہیں اہل بھی ہوں۔ ناصر درانی جیسے ”لعل وگوہر“ تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے۔ دیانتداری کے ساتھ ساتھ جس عہدے پر بھی وہ رہے اپنی اہلیت بھی انہوں نے ثابت کی ورنہ ہمارے ہاں افسران ”اہلیت“ کی بنیاد پر نہیں کسی اور بنیاد پر تعینات ہوتے ہیں۔ ایسے افسران خان صاحب کے قریب ہونے کی پوری کوشش کریں گے، ان سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ اور میرے خیال میں خان صاحب یہ ”معرکہ“ اب آسانی سے سرکرلیں گے کیونکہ اب اُنہیں اس کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں رہی، .... جہاں تک صرف دیانتدار افسران کا تعلق ہے ان کا المیہ یہ ہوتا ہے وہ صرف خود کو دیانتدار سمجھنے اور مشہور کرنے کو ایسی ”ہوس“ میں مبتلا ہو جاتے ہیں، ان کا کوئی ماتحت دیانتداری کا مظاہرہ کرے انہیں لگتا ہے ان کے مقابلے پر اُتر آیا ہے۔ کچھ ”دیانتدار افسروں“ کا بس چلے وہ اپنے محکمے میں باقاعدہ سرکلرجاری کروادیں ”کہ اُن کی موجودگی میں کسی اور نے دیانتدار ہونے کی کوشش کی تو اُس سے سختی سے نمٹا جائے گا“۔ ....ان افسران کی منفی ذہنیت کا دوسرا پہلو یہ ہوتا ہے کسی کا جائز کام کرتے ہوئے بھی وہ خاصی تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ ہرکام میں کیڑے نکالتے ہیں، کچھ کاموں میں پوری کوشش کے باوجود کیڑے نہ نکلیں تو خود ڈال دیتے ہیں۔ سو ہمیں ناصر درانی جیسے شاندار لوگ چاہئیں ، جوایمانداری کے ساتھ ساتھ ایسی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں لوگ برسوں اُنہیں یادرکھتے ہیں ۔ اور ان کی برکت اور کوشش سے کسی محکمے میں ہونے والی اصلاحات اتنی پائیدار ہوتی ہیں اُنہیں ختم کرنا آسان نہیں ہوتا، .... اب خود عمران خان کو بھی یہ ثابت کرنا پڑے گا ایمانداری کے ساتھ ساتھ حکومتی اور سیاسی امور چلانے کا بھی وہ اہل ہے، اِس ضمن میں سارا بوجھ اُس نے اپنے دماغ پر ڈالا
ممکن ہے اسے وہ کامیابیاں نہ مل سکیں جن کے خواب کئی برسوں سے وہ دیکھتا چلے آرہا ہے۔.... بہتر ہے وہ ہرشعبے کے صاف ستھرے کردار کے حامل ماہرین پر مشتمل ایک ”تھینک ٹینک“ مقرر کرے جو ہرقسم کے مالی اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر صرف اور صرف ملکی مفاد میں بغیر کسی تنخواہ اور مراعات کے کام کریں۔ ان کے مشوروں سے ایسی اصلاحات لائی جاسکتی ہیں جو نہ صرف ملک کی تقدیر بدل سکتی ہیں بلکہ ایک ”ہجوم“ کو ایک ”قوم“ میں بدلنے میں بھی معاون ومددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ سیاست میں غلطیوں کی بڑی گنجائش ہوتی ہے حکومت میں بہت کم ہوتی ہے،.... عمران خان اس حوالے سے بہت خوش قسمت انسان ہے، مگر دوسری طرف یہ ایک المیہ بھی ہے اس کے ساتھ وابستہ اپنی اُمیدوں کے حوالے سے لوگ اس یقین میں مبتلا ہیں ستربرسوں کا خراب نظام اگلے چوبیس گھنٹوں میں وہ ٹھیک کردے گا۔ بلکہ کچھ تو اس یقین میں مبتلا ہیں وزیراعظم بننے سے پہلے ہی وہ ٹھیک کردے گا، .... سو اسے بہت دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ حکومتی امور کا اسے کوئی تجربہ نہیں ہے، مگر جس طرح سیاسی امور کا بھی اسے کوئی تجربہ نہیں تھا مگر اس کی مستقل مزاجی اور دیانتداری کی برکت سے اس کی سیاست کے سامنے کی ساری دیواریں گرتی چلی گئیں، ایسے ہی مجھے یقین ہے اس کی نیک نیتی اور ایمانداری کی برکت سے اس کی حکومت کے راستے میں حائل ساری دیواریں گرتی جائیں گی، .... پاکستان پر گزشتہ کئی برسوں سے بددیانت اور نااہل حکمران قابض تھے، ان کا ”قبضہ “ بظاہر اتنا مضبوط دکھائی دیتا تھا کم ازکم مجھے یقین نہیں تھا میں اپنی زندگی میں کسی دیانت دار حکمران کا اقتدار دیکھ سکوں گا۔ اللہ نے یہ دن ہمارے مقدر میں لکھا ،اس سے بڑھ کر انعام یا ”عہدہ“ وطن کو ٹوٹ کر چاہنے والوں کے لیے اور کیا ہوسکتا ہے؟۔ میں نے عمران خان سے بھی یہی کہا تھا کہ آپ کے ساتھ میری محبت اصل میں پاکستان کے ساتھ میری محبت ہے، جس روز مجھے ہلکا سا بھی یہ احساس ہوا آپ کا کوئی اقدام ملک وقوم کے خلاف ہے میں ہرقسم کے ذاتی تعلق کو ایک طرف رکھ کر آپ کے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو آپ سے قبل ملک مفاد کے خلاف کام کرنے والے فوجی و سیاسی حکمرانوں سے حسب توفیق کرتا آیا ہوں۔ میں جب بھی بیرون ملک جاتا ہوں خصوصاً گوری دنیا میں جاتا ہوں میری یہ تکلیف بڑھ جاتی ہے ہم اس مقام پر کیوں نہیں پہنچ سکتے ترقی کے جس مقام پر یہ کھڑے ہیں ؟ کاش عمران خان اس تکلیف سے مجھے نجات دلاسکے!!(انشاءاللہ )

مزیدخبریں