16 اگست 2018 2018-08-16

جس طرح کی ہیں یہ دیواریں، یہ در جیسا بھی ہے
سر چھپانے کو میسر تو ہے گھر، جیسا بھی ہے
اس کو مجھ سے ، مجھ کو اس سے نسبتیں ہیں بے شمار
میری چاہت کا ہے محور یہ نگر، جیسا بھی ہے
پاکستان میں متعین جرمن سفیر مارٹن کوبلر نے کہا ہے کہ تبدیلی کی ہوا چل رہی ہو تو کچھ بھی دائمی نہیں رہتا، برطانوی کمشنر تھامس ڈریو نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ یقین ہے کہ پاکستان کا مستقبل شاندار ہے، ترک سفیر احسان مصطفی نے بھی اردو میں جو پیغام جاری کیا ہے جس میں دعا دی ہے کہ اللہ پاکستان کو سلامت رکھے، کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے بھی پاکستان کے یوم آزادی پر نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات نے بھی اس موقع پر جس دوستی اور خلوص کا اظہار کیا ہے وہ بے مثال ہے۔ مارٹن کوبلر نے پاکستان اور بھارت کی جانب سے اس موقع پر خیر سگالی کے طور پر قیدیوں کو رہا کرنے کو بھی نیک شگون قرار دیتے ہوئے بہتر مستقبل کی نوید سنائی ہے۔ترک سفیر احسان مصطفی نے پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے پاکستانی خوشیوں میں خود کو برابر کا شریک قرار دیا ہے۔برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو نے کہا کہ پاکستان ایک طرح سے ان کا دوسرا گھر ہے اور اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ میرا ایک الگ طرح کا رشتہ بن گیا ہے۔ جسٹن ٹروڈو اور مائیک پومپیو نے مبارکباد کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ سعودی ولی عہد نے اپنے ٹیلیفون کے دوران تجارتی تعلقات مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کی بھی خوشخبری سنائی ہے۔
ایران کی شاہراہیں پاکستان کے یوم آزادی کے مبارکباد پیغامات سے بھری پڑی ہیں۔ یہ تمام حضرات جن سے کل تک دور کے رشتے تھے یا اجنبی تھے آج میرے اپنے ہیں کہ وہ میرے پاکستان اور اس کے بسنے والوں کی خوشی میں خوش ہیں مگر کچھ میرے نام نہاد اہل وطن ہیں جن کو پاکستان کی خوشیاں ایک آنکھ نہیں بھا رہیں، مولانا فضل الرحمن ، اکرم درانی، محمود خان اچکزئی اور ہم نوا ﺅںکو ہماری خوشی سے کچھ مطلب نہیں، یہ ایک طرف بیٹھے دانت پیس رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا دھندا ٹھپ ہو گیا ہے، ڈیزل کے پرمٹ اور بسیں لوٹنے کے مواقع ختم ہو گئے ہیں تو کچھ کو یہ غم ہے کہ وہ افغانیوں کو پاکستانی شناختی کارڈ دلوانے اور اپنے رشتہ داروں کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھانے کے اختیار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ابھی ان کا ذکر نہیں آیا جنہوں نے پاکستان کے قومی وسائل کو شیر مادر سمجھ کر اپنی ذات، خاندان اور درباریوں پر سرکاری خزانے کے منہ کھول رکھے تھے۔
ذاتی اور گروہی مفادات سے جڑے ہوئے یہ بالشیتے!
پتہ نہیں کون انہیں ہیوی ویٹس اور برج قرار دے کر ان کے دماغ خراب کرتا رہا ہے یہ وہی ہیں جو ”کافراعظم“ اور ”شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے“ کہہ کر جدوجہد آزادی سے اپنی بریت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ
قائداعظمؒ کا نام ساری زندگی ان کی چھیڑ بنا رہا۔ محمد علی جناح کو قائداعظم کہنے میں ان کے منہ پرچھالے پڑ جاتے تھے لیکن پاکستان بننے کے بعد انہوں نے جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان پر جس طرح سے قبضہ کرنے کے بعد نہ صرف سیاست کے ذریعے ریاستی معاملات کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی اور اسلام کے نام پر پاکستان میں بسنے والوں میں تفریق کا عمل تیز کیا۔ ویسے تو برادرم ظفر شیخ نے28 اکتوبر 2017ءکو اپنی ایک تحریر میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کے مستقبل کے خدوخال بیان کر دیئے تھے اور میری ذاتی رائے میں ہر آنے والے دن کے ساتھ وطن عزیز میں مذہب کے نام پر سیاست کی دکان چلانا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے گا اور کچھ عجب نہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعتیں مزید زوال کا شکار نظر آئیں۔
سازشی تھیوریاں ایک مرتبہ پھر عروج پر ہیں گو کہ سپیکر کے لیے اسد قیصر کے 176 کے بعد ڈپٹی سپیکر کے لیے قاسم سوری نے 183 ووٹ لیے ہیں جس کا مطلب ہے کہ فضل الرحمن کی سیاست کو خود اراکین اسمبلی بھی زیادہ پسند نہیں کرتے، اسد قیصر کے پی کے سے تو قاسم سوری بلوچستانی ہیں اس کا مطلب یہی لگ رہا ہے کہ عمران خان پنجاب کا وزیراعلیٰ جنوبی پنجاب سے سامنے لائے گا جبکہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کے لیے اگر مسلم لیگ (ن) کو چنا گیا تو پھر فاتحہ ہی پڑھی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے دور حکومت کے ہر فراڈ اور ہر بدعنوانی کو کلین چٹ دے دیں گے، خورشید شاہ نے پہلے کونسا تیر مار لیا ہے جو اب انہیں موقع دیا جائے، ہاں مگر بلاول بھٹو زرداری کو اگر پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی دی گئی تو مجھے امید ہے کہ وہ اپنے اور پاکستان کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر پرفارم کریں گے۔
قارئین! آئندہ ہفتے سے کیونکہ نئی حکومت کام کا آغاز کرنے جا رہی ہے لہٰذا حالات حاضرہ پر کم از کم سو دن نہ لکھنے کا ارادہ کیا ہے، جس کے بعد تحریک انصاف کے لیے بھی تلوار میان سے باہر نکل آئے گی۔


ای پیپر