Naveed Chaudhry, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
16 اپریل 2021 (11:59) 2021-04-16

ملک میں آئینی ، جمہوری اور سیاسی نظام ہوتا تو اس وقت تک عمران خان کی وفاقی اور بزدار کی پنجاب حکومت زمین بوس ہو گئی ہوتی ۔ آٹھ ایم این اے اور بائیس ارکان پنجاب اسمبلی کی ٹیم اپنے ساتھ لے کر گھومنے والے جہانگیر ترین پی ٹی آئی پر قیامت ڈھا چکے ہوتے۔ جہانگیر ترین ایک مالدار اور موقع پرست سیاستدان ہیں۔ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اگر ان کے پاس 80 ایم این اے اور 220 ایم پی اے آ جائیں تب بھی وہ موجودہ سسٹم کو رتی برابر نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ بڑی طویل جد و جہد اور بھاری سرمایہ کاری کے بعد قائم کیا جانے والے موجودہ سیٹ اپ مالکان ملک و قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی جہانگیر ترین کو عدالت سے نااہل کرا کے تحفہ پیش کیا گیا ۔ ایک دوسری سازشی مگر قدآور شخصیت شاہ محمود قریشی کو صوبائی اسمبلی کی نشست پر شکست سے دوچار کرکے پنجاب پر حکمرانی کرنے کا خواب مٹی میں ملا دیا گیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی دونوں کا زیادہ بڑا تعارف اسٹیبلشمنٹ سے قربت ہے ۔ جہانگیر ترین نے طاقتوروں کیلئے تو ہر موقع اپنی تجوریاں کے منہ بھی کھلے رکھے ۔ منصوبہ سازوں کا ارادہ  کیونکہ ’’پاک صاف ‘‘، ’’نیک نیت ‘‘اور’’باصلاحیت ‘‘کپتان کو آگے رکھ کر دیگر روایتی سیاست دانوں کا ان کی پارٹیوں سمیت خاتمہ کرنا تھا ۔ مستقبل کی اس دس سالہ طویل منصوبہ بندی کے کسی بھی خانے میں جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کا ایک مخصوص حد سے زیادہ بڑا رول فٹ نہیں آتا تھا۔ اسی لیے نہ صرف ترین بلکہ شاہ محمود قریشی کی تمام تر خدمات نظر انداز کرکے دونوں کا بروقت ‘‘ انتظام ‘‘کردیا گیا تھا۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ الیکشن 2018 سے پہلے اور بعد دوسری جماعتوں کے جتنے بھی الیکٹ ایبل جہانگیر ترین کے جہاز میں لادے گئے وہ کسی اور کا کیا گیا شکار تھا۔ ترین کو صرف فرنٹ مین اور ٹرانسپورٹر کی ڈیوٹی دی گئی تھی۔ آج بھی جو پی ٹی آئی ارکان ترین کے ساتھ ہیں وہ سب سیلکٹروں کے ایک اشارہ ابرو کی مار ہیں۔ پلان پر عمدگی سے عمل درآمد جاری تھا مگر پی ڈی ایم کے قیام اور اس سے قبل جے یو آئی کے تنہا آزادی مارچ نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا ۔ مخالف سیاسی جماعتوں کے بارے میں اختیار کردہ سو جوتے سو سو پیاز کی پالیسی قبل از وقت پٹ گئی۔ منصوبہ سازوں کو بھر پور جواب دینے کے لیے پی ڈی ایم بنایا گیا جو در حقیقت جے یو آئی ، مسلم لیگ ن اور قوم پرست جماعتوں کا اسٹیبلشمنٹ مخالف اتحاد تھا ۔ زیر عتاب پیپلز پارٹی اور فارغ بیٹھی اے این پی اور آفتاب شیر پائو کی پارٹی نے بھی اتحاد میں شمولیت اختیارکرلی ۔ پی ڈی ایم کے اصل کردار صورتحال سے یکسر لاعلم نہیں تھے ۔ عمران حکومت مکمل طور پر ناکام ہوکر خود امپائروں کے کندھوں کا بوجھ بننے لگی تو پیپلز پارٹی سے مدد مانگ لی گی ۔ پی ڈی ایم ایک زوردار اور مثالی اپوزیشن اتحاد تھا۔ اسٹیبلشمنٹ اسے توڑنے اور پالیسی تبدیل کرانے کے منصوبوں پر کام کرتی رہی۔ اسٹیبلشمنٹ کو پہلی بڑی کامیابی اس وقت ملی جب پہلے ضمنی انتخابات پھر سینٹ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا گیا ۔ پیپلز پارٹی کی پیروی کرتے ہوئے باقی پارٹیوں کو بھی اسی نظام کو تسلیم کرتے ہوئے انتخابی میدان میں کودنا پڑا۔ یوں جو تحریک اسٹیبلشمنٹ کی چیرہ دستیوں کا عوامی قوت سے جواب دینے کے لیے بنی تھی ۔ اس کی سمت ہی ڈگمگا گئی۔ پھر ایسا اہتمام کیا گیا کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں اکٹھے ہوکر سینٹ کی نشست کے لیے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی حمایت کریں ۔ گیلانی کے لیے سینٹ کی صرف ایک 

نشست کا لالی پاپ دے کر پیپلز پارٹی کے ساتھ پہلے سے جاری بھرپور رابطوں کو مضبوطی بخشی گئی۔ اس میں تیزی سے پیش رفت شروع ہوئی۔ پی ڈی ایم کے اجلاس میں معاہدہ ہو چکا تھا کہ چیئرمین سینٹ کے لیے یوسف رضا گیلانی مشترکہ امیدوار ہونگے۔ سب رکن جماعتوں نے ایسا ہی کیا مگر اسٹیبلشمنٹ نے صادق سنجرانی کی قربانی دینے سے انکار کردیا۔ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے انتخاب کا وقت آیا صادق سنجرانی نے مسلم لیگ ن کے امیدوار اعظم نذیر تارڑ کو پیشکش کی وہ ن لیگ کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے اپنے پانچ ارکان سینٹ پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ ظاہر ہے یہ پیشکش نہیں بلکہ بوسہ مرگ تھا سو تارڑ نے صاف جواب دے دیا ۔ ویسے بھی ایسا ہو تا تو پی ڈی ایم کو حقیقی معنوں میں زبردست نقصان پہنچتا ۔ دوسری جانب اوپر سے ملنے والی ہدایات کے تحت پیپلز پارٹی یہ آفر قبول کرنے کے لیے تیار بیٹھی تھی ۔ پیغام ملتے ہی بغل گیر ہوگئی۔ اے این پی بھی ساتھ چلی گئی اور باپ کے ووٹ لے کر یوسف گیلانی کو اپوزیشن لیڈر جیسا معمولی عہدہ دلوادیا۔ بعض احمق لوگ اسے آصف زرداری کی سیاسی کامیابی قرار دے رہے ہیں ۔ درحقیقت ایسا کچھ انہوں نے بطور پارٹی سربراہ کے وعدہ خلافی کی نئی تاریخ رقم کرکے آخری دائو کھیل دیا ہے۔ کھیل کے دوران فٹ بال کو ہاتھ سے دھکیل کر گول پوسٹ میں ڈالنے سے گول نہیں ہوتا۔ اسے فائول کہتے ہیں ۔ زیادہ فائول کرنے والے کو انجام کار گرائونڈ سے نکال دیا جاتا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ بنیادی نکتہ ذہن نشین کرلیا جائے کہ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی حکومت کا کسی بھی حالت میں چلتے رہنا اسٹیبلشمنٹ کی موجودہ قیادت کے لیے ناگزیر ہے ۔ یہ بات سیاسی جماعتوں کے لیے ہرگز کوئی راز نہیں ۔ اسی لیے مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ہی نہیں بلکہ دیگر جماعتوں کے ساتھ پیپلز پارٹی اور اے این پی بھی جلسوں میں اسٹیبلشمنٹ کو ہی للکارتے رہے ۔ آصف زرداری کی شروع سے اب تک سیاست اسٹیبلشمنٹ سے سودے بازی کرنے کی رہی ہے اسی لیے وہ پھر سے سجدہ ریز ہوگئے۔ مگر اس مرتبہ انہوں نے اپنے ساتھ بلاول کی سیاست کے مستقبل کا بھی فیصلہ کردیا ۔ اب آگے جو بھی حالات ہوں پیپلز پارٹی پر کوئی اعتماد نہیں کرے گا ۔اسے صرف اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عطا کی گئی بخشش پر ہی گزارہ کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کو کسی بڑے رول کا جھانسہ دیا گیا ہے مگر یہ طے ہے کہ اب اس کی سیاست مزید سکڑے گی ۔ پی ٹی آئی میں پیپلز پارٹی ہے جو اس حکومت کے استحکام کے لیے ایک مہرے کا کام کرے گی۔ اس کی جانب سے حکومتی امور کی مخالفت سکرپٹ کے عین مطابق ہوگی ۔ درحقیت پیپلز پارٹی اس کٹھ پتلی نظام کا حصہ بن چکی ہے اور اس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرے گی۔ باپ بیٹے کے ملک کی دیگر سیاسی قیادت سے سماجی تعلقات تو رہ سکتے ہیں مگر سیاست کے حوالے سے ایک لکیر کھنچ گئی ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی کا جو حال ہے اس کا اندازہ اسی ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب ایک منصوبے کے تحت شہلا رضا سے ٹویٹ کرایا گیا کہ ترین ، کسی بھی وقت آصف زرداری سے ملاقات کرکے پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں تو جہانگیر ترین نے فوری طور میڈیا کے سامنے آکر سختی سے تردید کردی اور واضح کردیا کہ پیپلز پارٹی میں جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اسی لیے پیپلز پارٹی کے پی ڈی ایم سے نکلنے کے اعلان کے بعد مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے رہنمائوں نے خوشی سے زیادہ اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ جیسے ان کو پہلے سے انتظار تھا کہ ایسا ہو تاکہ اپوزیشن اتحاد یکسوئی کے ساتھ اپنا لائحہ عمل مرتب کرکے آگے بڑھے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے موقف اختیار کیا ہے کہ متفقہ فیصلوں کی خلاف ورزی پر وضاحت طلبی وقت کا تقاضا تھا۔دونوں جماعتوں کے سیاسی قد کاٹھ کا تقاضا تھا کہ باوقار انداز میں وضاحت کا جواب دیتیں، مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم میدان میں رہے گی، پی ڈی ایم کی تحریک اور اس کے آگے بڑھنے کی رفتار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے ووٹ لینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں توقع ہی نہیں تھی کہ وہ ’باپ‘ کو ’باپ‘ بنائیں گے۔انہوں نے پیپلز پارٹی کی سیاست پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اپنے اندر سیاسی بلوغت پیدا کریں ۔ 35 سال اور 70 سال کی عمر میں فرق ہونا چاہیے۔ مولانا نے یہ فقرہ جس طرح سے کسا ہے اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے آصف علی زرداری سے کہا ہے کہ وہ بلاول بھٹو والا رویہ اختیار نہ کریں ۔ باوثوق زرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی تھی جوان خون جوش مار گیا۔بلاول بھٹو پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس سخت مشتعل ہوگئے اور سی ای سی کے اجلاس میں وہ کاغذ ہی پھاڑ ڈالاجبکہ زیرک اور جہاں دیدہ آصف زرداری کی سوچ مختلف ہے ۔ وہ پی ڈی ایم کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں ۔ پی ڈی ایم کی قیادت مگر اس سے پہلے ہی اس پلان سے باخبر تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ بلاول ہی نہیں آصف زرداری نے بھی اب تک جو کچھ کیا ہے وہ ’’ اوپر ‘‘ سے ملنے والے سکرپٹ کے عین مطابق تھا چنانچہ مولانا نے یہ موقف فوری طور پر مسترد کردیا۔ اب پیپلز پارٹی کے پاس مکمل طور پر ایک سائیڈ پر چلے جانے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچا۔ دیکھتے ہیں یہ آخری دائو کھیل کر بھی پیپلز پارٹی سلیکٹروں سے کیا حاصل کرتی ہے۔


ای پیپر