Dr Ibrahim Mughal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
16 اپریل 2021 (11:54) 2021-04-16

جنگِ اُحد سے لے کر آج تک تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عارضی فتح یا خوش خبری خوش ہونے والوں کو آنے والے وقت میں عبرت ناک شکست بھی ہوسکتی ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے اچانک جماعت اسلامی، ANP اور BAP کی مدد سے 30 ارکان کی حمایت پوری کرکے سید یوسف رضا گیلانی سینیٹ میں قائد حزب اختلاف منتخب ہوگئے۔ یقینا یہ PDM کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ اس کے بعد ANP  نے PDM  کی طرف سے جواب طلبی کے معاملے پر خود کو باضابطہ طور پر PDM  سے علیحدہ کرلیا ہے۔ PPP نے ہمیشہ کی طرح تحمل کا مظاہر ہ کیا ہے اور معاملہ مرکزی مجلس عاملہ پر چھوڑ دیا ہے۔

بات عارضی فتح کی ہورہی تھی جو حکومت کو PDM کے بکھرنے سے حاصل ہوئی ہے۔ حکومتی صفوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکومت اپنی نصف مدت مکمل کرچکی ہے۔ جیسے تیسے باقی عرصہ بھی گزر جائے گا لیکن اب گزرنے والا ہر دن حکومت کے ووٹ بینک کو کم کرنا شروع کردے گا۔ جہانگیر ترین پر تین عدد FiR کرانے والے شہزاد اکبر جیسے لوگ اطمینان کا اظہار کررہے ہیں کہ دیکھیں صرف شہباز شریف کا نہیں ہم اپنے لوگوں کا احتساب بھی کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ ٹیکنوکریٹ غیر سیاسی بندہ یہ نہیں جانتا کہ جہانگیر ترین جیسے لوگوں کی جیب میں 20 سے 30 ممبران بشمول پنجاب اسمبلی ہونا معمولی بات ہے۔ ترین کی پیشی کے موقع پر ایم ایل ایز کا ساتھ جانا اور راجہ ریاض کی دھواں دار میڈیا ٹاک اس کا واضح ثبوت ہے۔ 

دوسری طرف PPP نے وفاق میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے کام شروع کر رکھا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی راہ و رسم بہتر ہے۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود سیاسی غلطیاں کر کرکے اپنا نقصان کرنے پر آمادہ ہے۔ میاں نواز شریف نے اپنی لا ڈلی بیٹی کی فرمائش پر اسے پارٹی کی کمان تو سونپ رکھی ہے لیکن مریم کی بے لچک سیاست پارٹی کا بیڑا غرق کرسکتی ہے۔ 

 اس لحاظ سے PTI والے خوش قسمت ہیں کہ بڑے ووٹ بینک والی پارٹی کے لیڈر سیاسی فیصلوں میں کمزور جبکہ سیاسی طور پر شعور رکھنے والی PPP کا ووٹ بینک سندھ تک محدود اور وفاق میں کمزور ہے۔ اس طرح PTI اپنے پانچ سال پورے کر ہی جا پاتی۔ لیکن بات وہی ہے کہ یہ عارضی خوشیاں PTI کو 2023ء میں کبھی بھی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ ممبران اسمبلی نہیں دے سکے گی۔ میاں نوازشریف کے پاس ابھی وقت ہے کہ پارٹی کا کنٹرول شہباز شریف اور حمزہ کو دے کر آسانی کے ساتھ 2023ء میں حکومت بناسکیں گے جبکہ PPP کی سیاسی دانش مندی بھی کام نہیں آسکے گی۔ بصورتِ دیگر PPP اگلے الیکشن میں بڑا اپ سیٹ کرسکتی ہے۔پا کستان پیپلز پا رٹی کے یو ں پی ڈی ایم سے کٹ جا نے پہ مولا نا فضل الرحما ن کا بیان بظاہر بہت دلچسپ ہے ، لیکن یہ انتہا ئی اہمیت کا حا مل ہے۔ مو لا نا کے پی پی پی سے مر اسم ہمیشہ سے انتہائی گہر ے رہے ہیں۔چنا نچہ ان کا یہ کہنا کہ پی پی پی سے یہ تو قع نہیں تھی کہ وہ با پ کو با پ بنا لیں گے،پی پی پی کے لیئے نہ صر ف تعجب کا با عث بنا ہے، بلکہ اس نے اسے اپنی ہتک پہ محمول کیا ہے۔لہذا پی پی پی پنجا ب کے صد ر قمر ز ما ن کا ئر ہ نے مو لا نا کے اس بیان کا سخت نو ٹس لیتے ہو ئے ان سے مطا لبہ کیا ہے کہ وہ اپنا بیان وا پس لیں۔ لیکن مو جو دہ حالا ت کے مطا بق مو لانا کی ہا رکا کو ئی سوال اسلیئے پیدا نہیں ہو تا کہ ان کے پا س ہا رنے کے لیئے کچھ بھی نہیں ہے۔ دو سری جا نب میاں نوازشر یف جو اس وقت ملک میں مو جو د نہیں ہیں، اور نہ ہی آ نے کا خطر ہ مو ل لے سکتے ہیں، اس وقت مکمل طو ر پر اپنا تکیہ مولا نا پے کیئے ہو ئے ہیں۔ انہو ں نے ہر حا ل میں مو لا نا کا سا تھ دینا ہے کہ اسی میں ان کی بقا ہے۔ مگر مو لا نا کی پی پی پی سے ان بن نے میاں نوا ز شر یف کے لیئے بھی بہت سی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ مو لا نا اور پی پی پی کے اختلا فا ت اگر اس حد تک بڑھ جا تے ہیںکہ نو از شریف کے لیئے دو نو ں میں سے ایک کا چنا ئو کر نا پڑجا ئے تو ان کے لیئے اس کا فیصلہ کر نا جوئے شیر لا نے کے مترا دف ہو گا۔ بہر کیف قا بلِ تو جہ امر یہ ہے کہ یہ وہ 

حالا ت ہیں جو مکمل طور پر تحریکِ انصا ف کی حکو مت کے حق میں جا رہے ہیں۔ مگر د یکھنے میں تو یہ آ رہا ہے کہ حکو مت اس حد تک نا با لغ نظر آ رہی ہے کہ وہ اس سے تنکا برا بر بھی فا ئد ہ نہیں اٹھا پا رہی ہے۔ تحریکِ انصا ف کے لیئے اقتدا ر میں آ نے کے بعد پہلا بڑا چیلنج ملک کی گر تی معیشت کو سنبھا لنا تھا۔ مگر وہ معیشت کو سنبھا لتی تو بھلا کیا،اس نے تو اس کی وہ در گت بنا دی کہ ریڑھی با ن اور دودھ دہی کے دکاندا ر تک حکو مت کی معا شی پا لیسیو ں کی غلطیوں کی بجا طو ر پر نشان دہی کر تے نظر آ نے لگے۔ٹی وی پہ چلتے وہ منا ظر اب بھی آ نکھو ں کے سا منے آ جاتے ہیں جن میں عمران خا ن کا ر پو ریٹ سیکٹر کے ثا بت شد ہ کھو ٹے سکے اسد عمر کو پا کستا ن کی ڈو بتی 

معیشت کا نجا ت دہندہ قرا ر دے کر پیش کر تے نظر آ رہے ہیں۔ اس نجا ت دہند ہ نے معیشت کی جو تباہی کی وہ کم از کم وہ عمران حکو مت کی موجودہ مدت میں تو بحا ل ہو تی نظر نہیں آ رہی۔ ان دنو ں اسد عمر مسلم لیگ ن کے رہنما اپنے بھا ئی زبیر عمر سے ٹو ئٹرپہ سیا سی بحث کر تے نظر آ رہے ہیں۔ اسد عمر کے بعد قسمت کی دیو ی حفیظ شیخ پہ مہر با ن ہو گئی۔یا د رہے کہ حفیظ شیخ پی پی پی کے دورہِ حکو مت میں بھی وزیرِ خزانہ کے عہدے پہ بر اجمان رہ چکے ہیں۔ اور ہا ں رمضا ن کا مبارک مہینہ بھی تو شر وع ہو چکا ہے۔ پنجاب کے وزیرِاعلیٰ عثما ن بزدا ر نے خواب دکھا نے کی کو شش کی تھی کہ ما ہِ رمضا ن میں مہنگا ئی کو نیچے لا کر رہیں گے۔ مگر ملک کے تا جر وں نے ان کے اس چیلنج کو قبو ل کر تے ہو ئے پہلے ہی را ئو نڈ میںبز دا ر صاحب کو چا رو ں شا نے یو ں چت کیا کہ وہ اب مہنگائی کے ذ کر پہ با ت ٹا ل جاتے ہیں۔


ای پیپر