Riaz ch, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
16 اپریل 2021 (11:49) 2021-04-16

امریکی اخبار ڈیلی بیسٹ نے اپنی تازہ اشاعت میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شوپیاں اور سری نگر کے جعلی مقابلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاہے کہ، بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی میں ہندوستانی حکومت غیرقانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ بھارتی فوج بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا تی ہے، کشمیری نوجوانوں پر دہشت گردی کا الزام لگا کر انہیں انعام کے لالچ میں قتل کیا جارہا ہے۔ 

 اخبار کے مطابق شوپیاں قصبے میں بھارتی فوج کے افسر نے ساتھیوں سے مل کر تین بے گناہ نوجوانوں کو قتل کیا تھا۔پولیس چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوجی افسر نے 27ہزار،242 ڈالر انعام کے لالچ میں قتل کی یہ سازش تیار کی تھی۔سری نگر سے 41 میل دور واقع شوپیاں قصبے میں ہندوستانی فوجیوں نے راجوری سے 3 مزدوروں کو ہلاک کیا تھا۔ ، تینوں افراد کی ہلاکتوں کی تحقیقات کے دوران جموں و کشمیر پولیس نے نوجوانوں کے ڈی این اے سیمپل بھی لیے جن سے ثابت ہوا کہ یہ عسکریت پسند نہیں عام بے گناہ شہری تھے۔ اس کیس میں فوج کے ایک سینئر افسر کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم آرمی افسر نے 27ہزار،242 ڈالرکا انعام کے لیے ہلاکتوں کی سازش کی تھی۔

 کشمیریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طویل عرصے سے شکایت ہے کہ بھارتی فوج بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے انہیں قتل کیا جارہا ہے انہیں دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے تاکہ فوجیوں کو انعام مل سکے۔ بھارتی فوج کے یہ اقدامات صرف مسلم اکثریتی علاقے میں ہورہے ہیں۔ سری نگر میں بھارتی فوجیوں نے30 دسمبر 

2020 کو3 نوجوانوں کی قتل کیا۔ قتل ہونے والوں کے لواحقین نے کہا کہ ان کے بچے دہشت گر دنہیں بلکہ طالب علم تھے۔شہید ہونے والے نوجوان اطہر مشتاق کے والد مشتاق کا کہنا ہے کہ ان کو ایک پولیس عہدیدار نے بلایا اور سری نگر کے پولیس کنٹرول روم میں اپنے بیٹے کی لاش کی شناخت کرنے کو کہا جہاں مارے جانے والے نوجوانوں کی تمام لاشوں کو شناخت کے لئے رکھا گیا ہے۔جب مشتاق اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اپنے بیٹے کی شناخت کے لئے پولیس کنٹرول روم پہنچا تو ماے جانے والے زبیر اور اعجاز کے اہل خانہ کے ساتھ ایک بہت بڑا مجمع پہلے ہی جمع ہوگیا تھا ۔ تینوں نوجوانوں کی لاشیں لواحقین کو نہیں دی گئیں بلکہ نا معلوم مقام پر دفن کیا گیا۔

بھارتی فوج نے جنوبی کشمیر کے کئی دیہات کا محاصرہ کر لیا ہے۔ دوران محاصرہ گھر گھر تلاشی کے دوران بچوں، بڑوں اور خواتین کو ہراساں کیا گیا ہے۔ سخت سردی کے باوجود شہریوں کو کئی گھنٹوں تک محصور رکھا گیا۔ بھارتی فوج کی 9آر آر، 18بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے پونیوہ کولگام کا محاصرہ کیا۔ گھر گھر تلاشیاں لیں۔یمرچھ کولگام نامی گائوں میں بھی کریک ڈائون کیا گیا۔گائوں کی ناکہ بندی کے دوران گھر گھر تلاشی لی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقے کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل اور دوران حراست گمشدگی کے ہزاروں واقعات کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیرمیں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کو جواب دہ بنائے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے بھی بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں نہتے کشمیریوںکی نسل کشیْ رکوانے کیلئے قانونی اور اخلاقی طور پر پابند ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد نئی میڈیا پالیسی کے تحت48 اخبارات کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔48 اخبارات کو میڈیا لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے دس اخبارات کے لیے اشتہارات کی فراہمی کا عمل مکمل طور پر روک دیا گیا ہے جبکہ آٹھ اخباروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ جوائنٹ ڈائریکٹر انفارمیشن حارث ہنڈوکا کہنا ہے کہ یہ اخبارات حکومتی پالیسی کی پیروی نہیں کر رہے ہیں۔ پابندی کا شکار اخباروں میں جموں کے30 اخبار شامل ہیں۔5 اگست ، 2019 کو مقبوضہ کشمیر ٰ خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد ریاست میں تمام اخبارات کی اشاعت معطل ہو گئی تھی کئی ماہ بعد سخت سنسر شپ پابندیوں میں اشاعت بحال ہوئی تھی۔ گریٹرر کشمیر اور کشمیر ریڈر کو کئی مہینوں تک سرکاری ایڈورٹائزنگ عمل سے دور رکھا گیا یہ دونوں اخبار جموں وکشمیر میں بھارتی پالیسیوں کے بڑے ناقد تھے۔ 2016 میں ، کشمیر ریڈر پر تین ماہ کے لئے اشاعت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

کشمیریوں کی شہادتو ں پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ عالمی برادری پر بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کا قتل عام جاری رکھتا ہے تو پاکستان کے لیے خاموش تماشائی بنے رہنا مشکل ہو جائے گا۔ جنگ بندی لکیر کے اس پار نہتے شہریوں پر مقبوضہ بھارتی افواج کے شدت پکڑتے اور معمول بنتے حملوں کے پیش نظر لازم ہے کہ سلامتی کونسل عسکری مبصر مشن کی مقبوضہ کشمیر میں فی الفور واپسی کے لیے بھارت سے اصرار کرے۔ ہمیں ہندوستان کی جانب سے ایک خود ساختہ / جعلی حملے کا سخت اندیشہ ہے۔ بھارت اگر ایسا کرتا ہے تو پاکستان کے لیے سرحد پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہنا مشکل ہو جائے گا۔


ای پیپر