Syed Wali Shah Afridi, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
16 اپریل 2021 (11:46) 2021-04-16

پاکستان مسلم لیگ(ن)کے صدر و اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں لاہورہائیکورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیدیا ۔پہلے پانچ اکتوبر 2018ء کو آشیانہ ہائوسنگ سکیم میں گرفتار کیا تھا ۔لاہورہائیکورٹ نے سترہ فروری 2019ء کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا ۔دوسری مرتبہ اٹھائیس ستمبر 2020ء کو نیب نے محمد شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا ۔چھ ماہ سولہ دن جیل میں قید کاٹنے کے بعد لاہورہائیکورٹ نے محمد شہباز شریف کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت منظور کر کے رہا کرنے کا حکم دیا۔رمضان المبارک کا مقدس مہینہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ گزاریں گے ۔شہباز شریف کو سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔انہیں اپنے بڑے بھائی محمد نواز شریف کا ساتھ نہ چھوڑنے کی سزا دی جارہی ہے اور وہ اپنے بھائی کا ساتھ دینے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں لیکن وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ کسی صورت میں بیوفائی نہیں کر سکتے ۔وہ سیاست چھوڑ سکتے ہیں لیکن اپنے بھائی کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ۔ایک کیس میں ضمانت ہونے کے بعد دوسرا کیس بنایا جاتا ہے پھر تیسرا کیس بنایا جاتا ہے ۔یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ۔حکمرانوں کا سیاسی انتقام کب ٹھنڈا ہو گا ۔کسی کو معلوم نہیں ۔شہباز شریف کینسر کے مریض رہ چکے ہیں ۔کمر کے درد میں بھی مبتلا ہیں اور علاج معالجہ کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ان کے خلاف انتقامی 

کارروائی کا سلسلہ جاری ہے ۔ان کے خاندان کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے ۔شہباز شریف بہادری ،استقامت کے ساتھ حکمرانوں کے مظالم کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ملک میں یکطرفہ احتساب ہورہا ہے ۔سیاسی مخالفین کو گرفتار کر نے سے احتساب پر قوم کا اعتماد اٹھ چکا ہے ۔حکومتی وزیروں، مشیروں کے خلاف بھی کیس ہیں لیکن نیب ان کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا ہے ۔

حکمران ماضی کے تلخ تجربات سے سبق نہیں سیکھتے۔ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی طرح سیاسی مخالفین کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ حکومتی وزیروں و مشیروں کو کلین چٹ دی گئی ہے ۔ماضی میں ڈکٹیٹر ایوب خان نے سیاسی مخالفین کو اسمبلیوں سے ایبڈو قانون کے تحت سات سال کے لئے نا اہل کیا ۔ایوب کی حمایت کرنے والوں کو وزیر بنایا گیا تھا ۔اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کو الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے شکست دی تھی ۔سقوط ڈھاکہ کی بنیاد رکھی تھی ۔تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں سیاستدانوں کی آواز کو دبانے کے لئے جو انتقامی کارروائیاں کی گئیں موجودہ حکومت میں بھی وہی کھیل جاری ہے اور قیام پاکستان کے 73سالوں میں پسند و نا پسند ،گڈ اور بیڈ کے نام پر احتساب کا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔اس سے ملک کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے اور حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ بنگلہ دیش بھی معاشی لحاظ سے پاکستان سے آگے نکل گیا ہے ۔ملک کی معیشت بیٹھ چکی ہے ۔مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے ۔لوگ اپنے خاندان کے ساتھ اجتماعی خودکشیاں کر رہے ہیں ۔کارخانے بند ہیں اور لاکھوں لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں ۔

لاہورہائیکورٹ نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے پہلے روز ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیدیا ۔عدالت کے فیصلے سے ملک کی سیاست پر مثبت نتائج مرتب ہوں گے ۔محمد شہباز شریف نے بارہ سالہ بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب عوام کی خدمت کی ۔ترقی اور خوشحالی کے لئے انقلابی اقدامات اٹھائے تھے ۔ملک کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی ان کی کارکردگی کو سراہاجاتا ہے ۔پاکستان میں خادم اعلیٰ کے نام سے شہرت پانے والے شہباز شریف کا ویژن ملک کی ترقی ،عوام کے وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا ،دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ۔اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کا م کرنا ،ظالم کا ہاتھ روکنا ،مظلوم کی دادرسی کرنا ان کی زندگی کا نصب العین ہے ۔اپنے وزارت اعلیٰ کے دوران انہوں نے صرف پنجاب کے لئے ہی نہیں بلکہ دوسرے صوبوں کے طلبہ کے لئے تعلیمی وظائف دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے پورے ملک کے غریب اور نادار طلبہ کو وظائف دیئے جارہے تھے ۔اسی طرح ملک بھر کے میٹرک اور ایف اے کے ٹاپ پوزیشن ہولڈر طلبہ کو نقد انعامات کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا اور انہیں لاہور بلا کر اپنے دست مبارک سے نقد انعامات دیتے تھے اور ٹاپ پوزیشن ہولڈرز درس گاہوں کے اساتذہ کو بھی نقد انعامات دیتے تھے او ر پورے ملک کے طلبہ آج بھی محمد شہباز شریف کو اچھے الفاظ سے یاد کر رہے ہیں ۔شہباز شریف جیل میں تھے ۔عوام انہیں بھولے نہیں ۔قوم ان کی کارکردگی کی معترف ہے ۔قوم ان کی اچھی صحت اور رہائی کے لئے دعا گو تھی ۔محمد شہباز شریف دوسری مرتبہ سرخرو ہو گئے ہیں ۔


ای پیپر