بہادر پولیس جوا ن
16 اپریل 2021 2021-04-16

زشتہ تی روز میں ایک مذہبی جماعت کے ہ گاموں کو ک ٹرول کر ے کے دورا مظاہری کے تشدد سے زخمی اہلکاروں کی عیادت کر ا پولیس افسرا پرلازم لیک ا سے ا صاف کہاں؟اہلکاروں کو تو ہمیشہ استعمال ہی کیا گیاہے۔ پولیس کے ساتھ کبھی ا صاف ہوا ہی ہیں۔حالات جب کشیدگی کی طرف جا رہے تھے تو پولیس کی حکمت عملی تبدیل ہو ا بھی ضروری تھا،یقی احکمت عملی میں تبدیلی لا ا افسرا کی ذمہ داری ہوتا ہے۔لیک پولیس جوا بھی آخر کیا کرتے اپ ی ڈیوٹی کو احس ا داز سے ادا کر ا بھی ا کے فرائض میں شامل ہے،مگر جہاں پولیس جوا اپ ی ڈیوٹی کے فرائض ادا کرتے عوام کے جا و مال کو تحفظ دی ے اور رکاوٹیں ہٹا کرشہریوں کے لئے راستہ کلیئر کروا ے میں مصروف عمل تھے وہاں حکومت کو بھی ہوش کے اخ لی ا چاہیے تھا اکہ " پولیس کو مار کھا ے اور مار ے کے لئے" بے یارو مددگار چھوڑ دیا جائے یہ قری ا صاف ہیں!جو پولیس جوا شہید ہوئے اور درج وں زخمی ہوئے ا کے بیوی،بچوں،بھائی اور بہ وں اور خود پولیس جوا وں کی حفاظت کو یقی ی ب ا ا کے لئے بہتری اقدامات بروئے کار لا ا کس کی ذمہ داری ہے۔جس جس گھر میں لاشیں پہ چیں ا گھروں میں کہرام برپا ہو گیا۔بیوی،بچے اور بڑے سب کی آ کھیں م ہیں لیک یہ سب کچھ قوم کے چہرے کو داغدار کر گیا۔" پولیس اور مظاہری کا الجھ ا اور حالات کا س گی ی اختیار کر ا تو لازمی امر ہے لیک ا سا دوسرے ا سا کو در دہ ب کر جا سے مار دے یہ ہمارے ا سا ی رویوں کے اوپر سوالیہ شا ہے"۔

پولیس اہلکاروں ے شہریوں کے جا و مال کے تحفظ اور رٹ آف اسٹیٹ برقرار رکھ ے پر کوئی سمجھوتہ ہیں کیا لیک پ جاب پولیس افسرا ے ہمیشہ کی طرح سمجھوتہ اس طور کیا کہ آج بھی محکمہ پ جاب پولیس کے اہلکار ب یادی سہولیات سے محروم ہیں اور پھر ا کو مار ے اور پھر مار کھا ے کے لئے بیچ مظاہری کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔اس میں کوئی ابہام ہیں کہ عوام کے جا و مال کے تحفظ کے لیے جس جذبے سے لاہور اور پ جاب پولیس فرائض سرا جام دیتی ہے وہ قابلِ فخر ہیں لیک ا کے لئے حفاظتی اقدامات کو مد ظر رکھتے ہوئے حفاظت کو یقی ی ب ا ا بھی حکومت کی ذمہ داری تھی۔بلا شبہ عوام کا تحفظ پ جاب پولیس کی اولی ترجیح ہے۔دوسری جا ب عوام اور پولیس کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری پہلے ہے۔مظاہری کے تشدد سے مجموعی طور پر 97 افسرا و اہلکار زخمی ہوئے۔زخمی ہو ے والوں میں 2 ایس ڈی پی اوز، 5 ا سپکٹرز ،6 سب ا سپکٹرز، 6 اسسٹ ٹ سب ا سپکٹرز، 12 ہیڈ کا سٹیبلز اور 66 کا سٹیبلز شامل ہیں۔مظاہری کے تشدد سے کا سٹیبل محمد افضل اور کا سٹیبل علی عمرا اور محمد عمرا شہید ہوگئے۔

شہید پولیس جوا وں کی ماز ج ازہ ادا کر دی گئی،زخمیوں کو طبی امداد دی ے کا سلسلہ جاری ہے۔آئی جی پ جاب ا عام غ ی،سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر،ڈی آئی جی آپریش ز لاہور ساجد کیا ی، ایس ایس پی ایڈم لاہور وقار قریشی،ایس ایس ایس پی آپریش ز احس سیف سمیت دیگر افسرا ے زخمیوں کی عیادت کے لئے ہسپتالوں کا دورہ کیا۔سب افسرا ے زخمی اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ا کی صحت بارے دریافت بھی کیا۔بلکہ آئی جی پ جاب ے زخمی افسرا و اہلکاروں کوامدادی چیک اور پھول بھی پیش کئے۔جس طرح پولیس جوا وں ے اپ ی جا وں کی پروا کیے بغیر فرض کی ادائیگی کو ترجیح دی یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کے جا ومال کا تحفظ میں کوئی کسر ہیں چھوڑی۔پ جاب پولیس زخمی اہلکاروں کو سہولیات کی فراہمی کیلئے تمام وسائل تو بروئے کار لا ے کی یقی دہا ی کروا رہی ہے ،کیا یہ بھی ممک ہوگا کہ ایما داری سے ڈیوٹی ادا کر ے والوں کو بہتری وسائل سے مالا مال کیا جا سکے،ا ہیں محکما ہ مشکلات سے چھٹکارا دیا جائے۔ا کو تھا ہ اور پولیس دفاتر جا ے کے لئے سرکاری موٹر سائیکل، گاڑی اور تمام وسائل،بیوی بچوں کے علاج کے لئے اسپتالوں کا قیام،بچوں کے پڑھ ے کے لئے سکول،کالج کی تکمیل سمیت ب یادی سہولیات کی فراہمی کو یقی ی ب ا کر پھر ا پولیس جوا وں میں صرف کا سٹیبل ہی ہیں بلکہ تمام چھوٹے بڑے افسرا سے عوام کی دادرسی اور ا کے ساتھ تعاو ہ کر ےکا سوال کیا جائے۔احتسابی عمل پر کڑی ظر رکھی جائے۔محکمہ پولیس میں ہر ایک کے ساتھ ا صاف کیا جائے تو ا صاف دی ے میں کوئی رکاوٹ بھی ہ ہوگی۔یہاں تک آئی جی پ جاب ے سی سی پی او لاہور کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ زخمی اہلکاروں کی روزا ہ کی ب یاد پرعیادت کی جائے اور ا کا خیال رکھا جائے۔آئی جی پ جاب کا کہ ا تھا کہ پیشہ ورا ہ فرائض کی ادائیگی میں جا وں کا ذرا ہ پیش کر ے اور زخمی ہو ے والے افسرا و اہلکار پ جاب پولیس کے ہیرو ہیں۔اس موقع پرسی سی پی او لاہورغلام محمود ڈوگر، ڈی آئی جی ویلفیئر آغا محمد یوسف، ڈی آئی جی آپریش ز لاہورساجد کیا ی، سی ٹی او لاہورسید حماد عابد ے ڈاکٹرز سے بہتری علاج ومعالجے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ علاج و معالجہ میں کوئی کسر ہیں چھوڑی جائے۔

بادی ال ظر میں سربراہ پ جاب پولیس کی اپ ے دلیر اور بہادر اہلکاروں اور افسرا کو کسی شکایت کی صورت میں براہ راست رسائی کا دروازہ کھول ے کا اعلا بھی کر ا چاہیے تاکہ کسی کو سہولتوں کی فراہمی میں فقدا یا علاج معالجے میں کوتاہی کی شکایت ہو تو کم از کم ایسا کر یوالوں کے خلاف اپ ے سربراہ کو وہ آگاہ تو کر سکیں۔بصورت دیگر یہ افسر شاہی کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے تھک جائیں گے اور سربراہ چی کی با سری بجاتے رہیں گے۔اب اس سارے معاملے پر ہماری گفتگو جب بوڑھے حوالدار سے ہوئی ا سے جگہ جگہ پولیس اور مظاہری کو ایک دوسرے کا خو بہا ے سے متعلق پوچھا تو وہ چ د لمحے گہری سوچ میں مبتلا ہو گئے پھر اچا ک بولے س و ؟یہ صورتحال اور یہ روئیے بحیثیت مجموعی ہماری قومی تباہی کے عکاس ہیں۔ کہتے ہیں کہ پولیس کو ہ گاموں سے مٹ ے کی خاص تربیت دی گئی ہے۔ جو تربیت دی وہ تو ظر آگئی۔ ایک اور بات کر ا چاہتا ہوں کہ جرائم بڑھ رہے ہیں۔ اس کی وجوہ کچھ بھی ہوں۔ ک ٹرول کر ا تو پولیس کا کام بلکہ فرض ہے۔ ہمارے افسر بھی عجیب ہیں، بیا دیتے ہیں کہ قا و کو ہاتھ میں لی ے کی اجازت ہیں دی جائے گی۔ ا بھلے ما سوں سے پوچھو کہ قا و شک ے کبھی ا سے قا و ہاتھ میں لی ے کی اجازت طلب کی جو ا ہوں ے ہیں دی۔ اللہ کے ب دو یہ تو ا سا ی شر ہے، اس سے کیسے مٹ ا ہے ، اس کا طریقہ مجرموں کے طریقہ واردات کے ساتھ ساتھ تبدیل کر ا ہے۔ اس پر بھی ذرا غور کر لیا کرو۔


ای پیپر