افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی 9/11 کی برسی تک موخر 
16 اپریل 2021 2021-04-16

افغانستان سے امریکی فوج کی یکم مئی کو واپسی کا امکان ختم ہو گیا جوبائیڈن انتظامیہ نے نائن الیون کی بیسویں برسی کے موقع پر افغانستان سے فوج واپس بلانے کا اشارہ دے دیا۔ تاہم اس بات کا حتمی اعلان چند روز میں کر دیا جائے گا فروری 2020 معاہدہ دوحہ کے مطابق امریکا کو افغانستان میں موجود اپنی باقی ماندہ 2500 فوجیوں کو یکم مئی سے نکال لینا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغان امور کے ماہر زلمے خلیل زادے نے ڈیڑھ سال تک مذاکرات کے 9 دور کیے اور پھر باالآخر انہوں نے طالبان کو معاہدہ پر رضامند کر لیا۔ اسی معاہدہ کی روشنی میں امریکی فوج کا افغانستان سے نکالا جانا تھا لیکن بائیڈن انتظامیہ نے موجودہ صورت حال کو جواز بنا کر انخلا کا عمل آگے بڑھا دیا تھا۔ اب صورت حال نے پھر سے کروٹ لی ہے اور ترکی میں اقوام متحدہ کی طرف سے ہونے والی 24 اپریل کو امن کانفرنس میں پیش رفت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس سے پہلے یہ کانفرنس 16 اپریل کو ہونی تھی جس میں روس پاکستان اور طالبان نے بھارت کی شمولیت پر شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

امریکا میں نائن الیون 2001 کے حملوں کے محض چند ہفتوں میں افغانستان پر حملہ کر دیا گیا تھا۔ افغانستان کی سرزمین پر امریکا کی ایک لاکھ فوج آگئی اور طالبان کے اقتدار کو رخصت کر دیا۔ 1996 میں قائم ہونے والی طالبان حکومت کو امریکا اور اتحادی فوج نے 2001 میں ختم تو کر دیا لیکن وہاں خون کا بازار ایسا لگا جو آج تک گرم ہے۔اس جنگ میں 2400 سے زائد امریکی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اتحادی فوج کے اہل کاروں کی ہلاکت بھی سیکڑوں میں ہوئی۔ اس وقت بھی افغان سرزمین پر 2500 امریکی اور جرمنی کے 1300 فوجی موجود ہیں۔ 

نائن الیون کی بیسویں برسی پر اگر امریکی فوج اور اتحادی فوج کو نکال لیا جاتا ہے تو پھر افغانستان میں امریکی مفادات کا کیا ہوگا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس نے جوبائیڈن انتظامیہ اور ان کے ناقدین کو پریشان کیے رکھا۔ افغانستان میں روس اور چین کا اثرورسوخ بڑھ جائے گا۔ پاکستان اور ایران کا تو پہلے ہی سے اہم کردار رہا ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ امریکا افغانستان کے سیاسی عمل میں بھارت کو شامل کرنا چارہا ہے۔ ماضی قریب یعنی گزشتہ ماہ ہی امریکا کے وزیر دفاع نے بھارت اور افغانستان کا دورہ بھی کیا۔ استنبول کانفرنس میں بھی بھارت کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہی نہیں بلکہ بھارت کو امریکی قیادت میں بننے والے اتحاد کواڈ (امریکا، آسٹریلیا اور جاپان) میں شامل کیا۔ 

افغانستان سے فوجوں کی واپسی سے پہلے امریکی صدر جوبائیڈن روس اور چین سے تعلقات میں بہتری کے خواہاں دیکھائی دے رہے ہیں۔ رواں ماہ موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والی چالیس ملکی سربراہ کانفرنس سے پہلے روس کے صدر کو ٹیلی فون بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ جاپان کے وزیراعظم بھی جمعہ کو واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس طرح وہ دنیا کے پہلے سربراہ ہیں جو نئے صدر جوبائیڈن کے دورہ سربراہی میں امریکا کا دورہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی پر جوبائیڈن کے نمائندہ خصوصی جان کیری بھی کانفرنس سے پہلے چین کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورہ سے الاسکا وزرائے خارجہ کانفرنس کی تلخیاں کچھ کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔ 

امریکا کے بعض تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد خطے میں امریکا کا اثر ورسوخ کم ہو جائے گا۔چین اور روس جس طرح اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل ملک پاکستان، افغانستان،ترکی اور ایران کے ساتھ تجارتی اور دفاعی تعلقات پروان چڑھا رہے ہیں اس سے امریکا اور اس کا اتحادی ملک بھارت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ ایشیا، مشرق وسطیٰ، سینٹرل ایشیا اور یورپ تک پھیل رہا ہے۔ ان خطوں سے جڑے امریکا کے اتحادی سمیت تمام ممالک منصوبہ کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں امریکا کو دو محاذوں پر اپنی شکست تسلیم کرنی پڑ جائے گی۔افغانستان سے فوجوں کی واپسی کا مطلب طالبان سے 20 سال بعد شکست تسلیم کرنا اور پھر 24 دسمبر 1979 کو جب روس کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں اور پاکستان کی مدد سے اسے 15 فروری 1989 کو واپس جانے پر مجبور کیا۔ اب اسی روس کو دوبارہ سے جنگ کے بجائے جیواکنامکس کے ذریعے فری ہینڈ دے دیا جائے گا۔

بش سے لے کر براک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ تک کوئی بھی صدر افغانستان سے فوج نہیں نکال سکے لیکن جو بائیڈن ایسا کرنے میں بظاہر کامیاب ہو رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے ان کا فیصلہ اسٹریٹیجک اور خطے میں ہاتھ سے نکلتا ہوا اثرورسوخ برقرار رکھنے اور دوست ممالک کو مخالف کیمپ میں جانے سے کیسے روکنے میں کامیاب ہو گا۔


ای پیپر