ایک ارب تیس کروڑ میں ایک مسلمان بھی ایسا نہیں
16 اپریل 2020 2020-04-16

یہ خادم حرمین شریفین کے شاہ فہد کا زمانہ تھا، اور میرا زمانہ طالب علمی تھا میں اپنے بہنوئی اور اپنی بڑی ہمشیرہ کے ساتھ حج ادا کرنے ”اسلامی مملکت سعودیہ العربیہ“ اسلامی مملکت خداداد پاکستان سے گیا ہوا تھا سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فہد بھی حج ادا کرنے پچھلے سال آئے تھے تو پتہ چلا، کہ جب شاہ فہد کا کانوائے گزررہا تھا، تو ایک بدو نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے روکنے کو کہا بادشاہ فہد نے اسے دیکھ کر اپنے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا حکم دیا، اور اس طرح جب گاڑی رکی، تو بدو نے اپنی جیب سے چند ہزار ریال نکالے، اور شاہ فہد کو دیئے، بادشاہ نے پوچھا، کہ یہ کیا ہے؟ تو بدو بولا پچھلے سال میں نے یہ رقم آپ سے ادھار لی تھی، اور میں نے یہ وعدہ کیا تھا، کہ اگلے سال میں یہ رقم آپ کو واپس کردوں گا، بادشاہ یہ معمولی رقم دیکھ کر پریشان ہوگئے، اور بولے یہ رقم تم رکھ لو، تو بدو نے جواب دیا، کہ میں نے آپ سے خیرات یا امداد نہیں لی تھی، ادھار لیا تھا آپ یہ پیسے کسی مستحق کو دے دیں۔

قارئین کرام، میں سمجھتا ہوں، غیرت مسلم اس وقت بھی زندہ تھی ، اور آج بھی زندہ ہے، جس کا ثبوت سعودی عرب میں خاندان شاہ سلمان کے اندر وقفے وقفے سے بغاوت، بے چینی گرفتاریوں، پابندیوں، پابند سلاسل اور پس زنداں میں دھکیلنے سے لگایا جاسکتا ہے، بقول سید مظفر شاہ

آﺅ کتاب عشق کے ابواب دیکھ لیں

یوں تلخی حیات کے اسباب دیکھ لیں

قارئین ، دراصل میں آپ سے یہ مشورہ کرنا چاہتا ہوں کہ، یہ انا یہ خودداری یہ غیرت مسلم، تمام مسلمانوں میں ہے ، یا صرف یہ عربوں کا خاصہ ہے، دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ایک ارب اور تیس کروڑ کے ہے ہم اپنے پیارے رسول عربی یہ اپنی جان ، مال اور آل اولاد نچھاور کرنے کو تیار ہوتے ہیں، بلکہ مسلمان ہونے کی شرط اول ہی یہی ہے کہ ہمیں اپنی جان ومال سے اپنے نبی محترم سے زیادہ پیار ہو مگر کیا وجہ ہے، کہ ہم باقی تمام احکامات اسلامی روحانیت وطریقت میں تو اتباع رسول کرتے ہیں، مگر ایک بات ایسی ہے کہ جس میں مجھ سمیت باقی تمام ناصح لکھاری ،قلمکار ، جنہوں نے اپنے ہم وطنوں کو پندونصیحت ، وعظ وتلقین اور اپنی ہر تحریر وتقریر میں ازخود نوٹس لے کر بیڑہ اٹھایا ہوا ہے، اور ہمارے علاوہ وہ چاہے، عوام ہوں، یا خواص ، رعایا ہو، یا حکمران ، اپنے حضور کی تقلید میں اپنا گھر ان جیسا کیوں نہیں بنواتے، بلکہ ریاست مدینہ کا نام لے کر بائیس کروڑ مسلمانوں کے حاکم سینکڑوں کنالوں کے مکانات ہیں محلات میں رہتے ہیں، اور وہ یہ بات کیسے بھول جاتے ہیں، کہ ان کے نبی معظم ومحترم کا گھرتو ایسا تھا، کہ جیسے آج بھی دیکھا جاسکتا ہے اور قیامت تک ایسے ہی رہے گا ان شاءاللہ، ہمارے نبی ذی احتشام جس کٹیا نما گھر میں رہتے ہیں، وہ آج بھی وہیں آرام پذیر ہیں، جن کو اللہ سبحانہ تعالیٰ فرمایا، تھا کہ اگر کہیں تو یہ پہاڑ احد سونے کا بنادوں ، مگر انہوں نے اپنے لیے فقر اور مسکین کی زندگی گزارنے کو ترجیح دی مگر ان کے اس مقدس مسکن کا نظارہ کرنے، اور تحفہ درود وسلام پیش کرنے ، آسمان 60ہزار ملائک روزانہ اترتے ہیں، اور قیامت تک کسی بھی فرشتے کو دوبارہ آنے کا موقعہ نہیں ملے گا، بقول نیر

پیش خدمت ہیں ملائیک لیے ابدائے درود

ہم نے دیکھا ہے مواجہ سے نظارہ کرتے !

ایک نیر ہی نہیں ہے طالب خیرات رسول

ساری مخلوق کو پایا ہے تقاضہ کرتے!

قارئین جیسے کہ میں عرض کررہا تھا، کہ چاہے علماءہوں چاہے مفتیان کرام اور چاہے فقہا ہوں، کون اپنے نبی کی تقلید کرتا نظر آتا ہے، کوئی بھی ان کی طرح چھوٹے سے ایک کمرے میں نہیں رہتا، جس کا نام گھر تھا، جس کا کوئی دروازہ نہیں تھا، یعنی کواڑنہیں تھا اس کی جگہ پردہ لٹکا ہوا تھا، کمرے کی سائز بہت چھوٹی سی تھی، اور جس کی چھت کو چارپائی پہ کھڑے ہوکر ہاتھ باآسانی لگایا جاسکتا تھا یہ گھر مالک کون ومکان کا تھا، جس کی بادشاہی عرش سے فرش تک تھی، اور اس گھر میں چالیس دن تک راتوں کو چراغ روشن نہیں ہوتا تھا، اور نہ ہی چالیس چالیس دنوں تک گھر میں چولہا جلتا، جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اذن سے ازواج مطہرات کی تعداد بڑھ گئی تو مسجد نبوی میں ہی ایک قطار میں ازدواج مطہرات کے حجرے تعمیر کرائے تھے، جو تمام ایک جیسے تھے، جس میں کسی کو بھی دوسرے حجرے پہ فوقیت نہیں تھی، حضرت بی بی عائشہ ؓ رسول پاک کی محبوب زوجہ تھیں، مگر ان کا حجرہ مبارک بھی ویسا تھا، جیسے باقی ازواج مطہرات کے تھے۔ مجھے حیرت تو اس جسارت پہ ہوتی ہے، کہ ”ریاست مدینہ“ کا نام لے کر حکمرانی کرنے والا، ریاست مدینہ کے بانی کے کس عمل پہ عمل پیرا ہے، اور اگر قارئین مجھے ایک بات کہنے کی اجازت دیں کہ اس نازک ترین اوقات میں جب ہمیں اپنے اعمال کی وجہ سے یہ کرونا کا دن دیکھنا پڑا کہ حرمین شریفین ، خانہ کعبہ، اور مسجد نبوی میں سجدہ ریزی کی بندش مجھے اور آپ کو دیکھنی پڑی، مگر میں سمجھتا ہوں، کہ خود سعودیہ ہی اس کا ذمہ دار ہے، کہ جب ٹرمپ کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی عرب میں اس دور کو واپس لانے کی کوشش کی گئیں کہ جس کی اصلاح کے رسول رحمت کو معبوث فرمایا گیا تھا، بقول مفکر اسلام حضرت علامہ اقبال ؒ

آہ اس راز سے واقف ہے، ملانہ فقیہہ

وحدت افکار کی بے وحدت کردار ہے خام

(جاری ہے)


ای پیپر