یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! (تیسری قسط )
16 اپریل 2020 2020-04-16

میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے حوالے سے لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کررہا تھا ”میڈیا میں میرے سٹوڈنٹس کی بہت بڑی تعداد مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے وابستہ ہے۔ ایک بڑے تعلیمی ادارے میں شعبہ صحافت کے ایک نکمے اُستاد کی حیثیت میں جو تربیت اپنے طلبہ کی میں نے کی، اُس کے مطابق اُس کے نتائج کی مجھ اکیلے پر کوئی ذمہ داری ڈالے، میں قبول کرنے کے لیے تیار ہوں، .... البتہ ہمارے حکمران یا دوسرے شعبوں سے وابستہ بے شمار شخصیات جب معاشرے کی ساری خرابیوں کا ذمہ دار صرف میڈیا کو قرار دیتے ہیں، میں اُن سے سوال کرتا ہوں جب آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، کسی شعبے کی سمت درست نہیں، خرابیوں کا یہ نظام ایک دوسرے سے بُری طرح جُڑا اور جکڑا ہوا ہے، اِن حالات میں ہم کسی ایک شخص سے یا ایک شعبے سے کیسے توقع کرسکتے ہیں وہ باقی شعبوں سے مختلف کردار ادا کرے؟ اور فرض کرلیں وہ باقی سارے شعبوں سے مختلف کوئی اچھا کردار ادا کر بھی لے، ہم اُس کے اِس کردار کا اعتراف کریں گے؟ ہم اُسے شاباش دیں گے؟ ہمارے ہاں ایک شعبہ موٹروے پولیس کا ہے، کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے اِس کی بنیاد کسی بہت نیک انسان نے رکھی تھی، یا یوں کہہ لیں ابتدائی طورپر موٹر وے پولیس کی تربیت جس پولیس افسر نے کی، وہ بہت نیک نیت انسان تھا کہ پاکستان کا یہ شعبہ کسی بھی حوالے سے خصوصاً کرپشن کے حوالے سے اُس طرح بدنام نہیں ہوا جس طرح دیگر بے شمار شعبے ہوئے، بطور آئی جی موٹروے کچھ انتہائی کرپٹ اور بدنام افسران بھی آئے، وہ بہت کچھ چاہ کر بھی اِس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے، کم ازکم مجھے آج تک ایک ایسا شخص نہیں ملا جس نے یہ کہا ہو ”موٹروے پولیس کے کسی چھوٹے سے چھوٹے اہل کار اور بڑے سے بڑے افسر نے کسی غلطی پر اُسے روکا اور ”مُک مُکا“ کرکے جانے دیا“ .... ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو موٹروے پولیس کے اِس کردار کو سراہتے ہوں؟ ۔ اُنہیں شاباش دیتے ہوں، اُن کا ذکرخیر کرتے ہوں؟ ۔ ہم جب اچھے کو اچھا نہیں کہیں گے اور بُرے کو بہت بُرا کہیں گے، ایسی صورت میں معاشرے میں تھوڑی بہت جو اچھائی ہے وہ بھی نہیں رہے گی، کسی نے مجھ سے کہا ”موٹروے پولیس اِس لیے اچھی ہے ان کی تنخواہیں اچھی ہیں۔ اُن کی آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی ہے جسے انجام دینے کے بعد وہ سکون کرتے ہیں، اچھی تنخواہوں کی وجہ سے اُنہیں اِدھر اُدھر منہ مارنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی، ....چلیں اِس مو¿قف کو مان لیتے ہیں، مگر تنخواہیں تو ہمارے ججوں کی بھی بہت اچھی ہیں، چند برس پہلے اُن کی تنخواہوں میں شاید سو فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا، وہ بھی دس بارہ گھنٹے یا آٹھ گھنٹے کام کرنے کے بعد سکون کرتے ہیں، کیا تنخواہیں بڑھنے کے بعد اِس شعبے کے معاملات درست ہوئے؟ ۔ کیا وکیل کے بجائے جج کرنے کا تاثر مکمل طورپر ختم ہوا؟ تنخواہیں تو ہمارے افسران کی بھی بہت اچھی ہیں، کسی افسر کو کوئی خصوصی پروجیکٹ سونپ دیا جائے اُس کی تنخواہ وہ الگ سے وصول کرتا ہے جو لاکھوں میں ہوتی ہے، اُن کی مراعات اُن کی تنخواہوں سے بھی اچھی ہوتی ہیں، کیا کسی انتظامی شعبے میں کوئی بہتری دکھائی دی ؟،....سو مسئلہ صرف تنخواہوں کا نہیں، نیک نیتی کا ہے، جس نے ایمانداری سے کام کرنا ہے اُس نے کم تنخواہ میں بھی کرلینا ہے، جس نے نہیں کرنا اُس کی تنخواہ میں دس گنا اضافہ کردیں اُس نے ”ہینگی پھینکی“ کرنے سے پھر بھی باز نہیں آنا، .... ہمارے معاشرے کا ایک اور المیہ ہے جس کا اظہار پہلے بھی کئی بار میں کرچکا ہوں، ہم سب دوسروں کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ خود نہیں ہونا چاہتے، یہ ہمارا ” تکیہ کلام“ بن چکا ہے ” تم ٹھیک ہو جاﺅ“ ....یعنی تم ٹھیک ہو جاﺅ، میں نے نہیں ہونا، اور تم ٹھیک بھی صرف میرے لیے میری مرضی کے مطابق ہو جاﺅ، باقیوں کے ساتھ چاہے جتنے خراب رہو، مجھے اِس سے کوئی غرض نہیں ہے، .... اِس المیے کو میرے خیال میں سب سے زیادہ فروغ ہمارے ”دانشوروں“ نے دیا، اپنی تحریروں میں، اور رات کو مختلف چینلز پر بیٹھ کر اِس طرح وہ ”اظہار خیال“ فرمارہے ہوتے ہیں جیسے پورے معاشرے کی خصوصاً سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اصلاح کا ٹھیکہ اُن کے پاس

ہے ،....دوسروں کے گریبانوں میں جھانکنا اُن کا پسندیدہ عمل ہے، بلکہ یہ کہا جائے زیادہ مناسب ہوگا دوسروں کے گریبان پھاڑنا اُن کا پسندیدہ عمل بن گیا ہے، اپنے گریبانوں میں جھانکنے کا خود کو اُنہوں نے کبھی موقع ہی نہیں دیا، شام کے بعد کسی اور ہی دنیا میں چلے جانے والے ایک ”دانشور“ نے مجھ سے پوچھا ” یار ہماری باتوں کا لوگوں پر اثر کیوں نہیں ہوتا؟“ .... عرض کیا ” ہماری باتوں کا خود ہم پر اثر نہیں ہوتا لوگوں پر کیا ہونا ہے؟؟“۔میرے ساتھ اکثر ایسے ہوتا ہے، کسی فرد یاکسی ادارے یا شعبے کے خلاف لکھتے ہوئے یا اُس کی بُرائیاں بیان کرتے ہوئے میرا ضمیر اچانک ملامت کرنے لگتا ہے، پہلے میں اِس پر شکر ادا کرتا ہوں چلیں تھوڑا بہت ہی سہی ضمیر زندہ تو ہے، پھر یہ سوچ کر غصے سے قلم دیوار پر مار دیتا ہوں میں لکھ کیا رہا ہوں میرا کردار کیا ہے ؟؟؟۔“اکثر دھوکہ دے جاندے نیں ساہڈے ویکھے جاچے لوگ....ساہنوں آکے راہواں دسن اپنے گھروں گواچے لوگ“ .... میں اکثر سوچتا ہوں ہمارے معاملات شاید ایسے ہی چلتے رہیں گے، گو کہ قدرت نے کورونا کی شکل میں اپنے معاملات درست کرنے کا ایک اور موقع ہمیں فراہم کیا ہے پر ہم اس سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں نہ فائدہ اُٹھانے میں سنجیدہ ہیں، ہماری دعائیں ہماری عبادتیں ہمارے اعمال کی طرح ملاوٹی ہیں، شاید اِس لیے اللہ نے ہم سے اِن ملاوٹی عبادتوں کی توفیق بھی چھین لی، اور سچ پوچھیں ملاوٹی دعاﺅں کی توفیق بھی چھین لی، کڑا وقت ہم پر ہے، ایسا کڑاوقت کم ازکم میں نے اپنے زندگی میں نہیں دیکھا۔ ” وہ دہشت تھی آج کی شب تاریکی میں ....لوگ گھروں میں دیپ جلانا بھول گئے“ ....خوف کے اِس عالم میں بھی اُس دعا اور التجا کے عمل سے ہم محروم ہیں جو آسمانوں کو چیڑکر سیدھی اللہ تک پہنچ جاتی ہے، اور اللہ اُس دعا کو رائیگاں نہیں جانے دیتا، خوف کے اِس عالم میں بھی ہم اِس فکر میں مبتلا ہیں ہماری دکانیں، ہمارے کاروبار کب کھلیں گے؟؟ اُس کے مقابلے میں میرے سمیت کتنے لوگ اِس فکر میں مبتلا ہیں ہماری مسجدیں کب کھلیں گی؟ خانہ کعبہ کب کھلے گا؟ روضہ رسول کب کھلے گا ؟....وزیراعظم ہاﺅس میں وزیراعظم کے سامنے بیٹھا میں یہ سوچ رہا تھا اج میں نے وزیراعظم کو ٹھیک کرکے جانا ہے۔ وزیراعظم بھی شاید یہی سوچ رہے ہوں گے ”آج میں نے اِسے ٹھیک کرکے بھیجنا ہے “....(جاری ہے)


ای پیپر