سیاسی مہرے اور از خود نوٹس
16 اپریل 2018

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محترم ثاقب نثار صاحب آئین کے آرٹیکل کے تحت عوامی فلاح و بہبود کی بنیاد پر بھرپور اننگ کھیل رہے ہیں۔ کافی اچھے کام کر رہے ہیں۔ خاص طور صحت اور تعلیم کے شعبہ میں اپنی بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں مگر اُن کا فوکس یوں تو سندھ اور پنجاب تھا۔ اب اس کا دائرہ کار بلوچستان تک جا پہنچا ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے کپتان یہ تاثر دے رہے ہیں آگے کس کے خلاف فیصلہ آئے گا۔ کپتان الزامات لگاتے ہیں دوسرے دن نیب حرکت میں آتی ہے۔ ادب سے مصنف اعلیٰ سے سوال کی جسارت کروں کیونکہ توہین عدالت سے ڈر بھی لگتا ہے مگر جرأت اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے پیمرا کے مسائل اور میڈیا کے حوالے سے کل کی سماعت کے دوران فرمایا ہے کہ مثبت تنقید برداشت کی جا سکتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 62 کی تشریح کرتے ہوئے ضیاء الحق کے اسلامی نظریہ کو زندہ کیا گیا ہے۔ ویسے بھی امیر المومنین حضرت عمرؓ ایک جج کی حیثیت سے ہمارے سامنے مثالی منصف ہیں۔
فیصلوں سے محسوس ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں انصاف میں کچھ نہ کچھ خامی ہے۔ خواجہ آصف کا ٹویٹ منظر عام پر آیا اور یہ اخبارات میں بھی شائع ہوا ہے کہ عمران خان کے نا اہلی کے مقدمے میں حنیف عباسی کی درخواست کا فیصلہ جو آپ کی سربراہی میں سنایا گیا تھا اُس سے پہلے ہی کپتان نے بتا دیا تھا کہ جہانگیر ترین نا اہل ہوں گے۔ یہ سوال آپ کی طرف جا رہا ہے اگر مناسب سمجھیں تو خواجہ آصف سے پوچھیے کہ اُس نے آپ پر تہمت لگانے کی جرأت کیسے کی۔ یہ بھی تاثر ہے کہ مقدمات تو ایک خاندان اور صوبے کے خلاف کھل رہے ہیں اور یہ تنقید ایک جماعت کی جانب سے آ رہی ہے۔ آپ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بارے میں از خود نوٹس لے کر معاملہ 15 دن میں نمٹانے کا جو حکم دیا ہے یہ درست اور بروقت فیصلہ ہے مگر 12 مئی 2007ء کو سانحہ کراچی کے بارے میں بھی ایسا ہی حکم جاری کر دیں جس میں افراد گاجر اور مولی کی طرح کاٹ دیئے گئے اور بلدیہ ٹاؤن میں 250 آدمی زندہ جلا دیئے گئے۔ وکیلوں کو ان کے چیمبر میں زندہ جلا دیا گیا۔ یہ مقدمات بھی انصاف کی دہلیز پر تنہا اور لاوراث کھڑے ہیں۔ چھ ارب روپیہ زرداری اور اُن کی اہلیہ کے ذمہ ہے۔ جعلی خط لکھ کر مقدمہ کو ہی دفن کر دیا گیا۔ بات کافی پرانی ہے مگر اتنی بھی پرانی نہیں۔ دونوں اس دولت سے انکار کرتے رہے۔ بالآخر سچ سامنے آ گیا۔ یہ اگست 2003ء کے پہلے ہفتے کی بات ہے جب سوئٹزر لینڈ کی عدالت نے ایس جی ایس کو ٹیکنا کیس میں رشوت اور منی لانڈرنگ کے الزام کے تحت سابق وزیراعظم بینظیر اور آصف علی زرداری کو چھ چھ ماہ قید اور پچاس پچاس ہزار ڈالر کا جرمانہ کیا تھا، وہاں بے نظیر بھٹو اور زرداری کے اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیئے گئے، وہاں عدالت کے جج نے یہ بھی لکھا کہ دو اکاؤنٹس میں 14 ملین ڈالر میں سے 11 ملین ڈالر پاکستان کو منتقل کیے جائیں کیونکہ یہ لوٹی ہوئی دولت تھی۔ یہ فیصلہ تفتیشی جج ڈیوو کا ہے۔ فیصلے پر اس وقت کے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ نے اپنے ردعمل میں کہا تھا ’’یہ فیصلہ پاکستان اور عوام کی کامیابی ہے خاص طور نیب چیئرمین نے نیب ہیڈ کوارٹر میں میڈیا کو بلا کر یہ خوش خبری سنائی تھی۔ جس پر زرداری اور بینظیر بھٹو کے وکیل نے ردعمل دیا۔ فاروق ایچ نائیک آصف زرداری کے وکیل ہی نہیں اُن کے ذاتی دوست اور وفادار بھی ہیں اورآج بھی ہیں۔ انہوں نے سوئس تحقیقاتی افسر کے فیصلے کو بدنیتی اور سیاست پر مبنی فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے تحقیقاتی افسر کے بارے میں بھی کہہ دیا تحقیقاتی افسر نے اپنا سیاسی کیریئر بڑھانے کے لیے ایسا فیصلہ سنایا ہے۔ یہ فیصلہ جھوٹا تھا یا سچا مگر یہ حقیقت تھی کہ چھ ارب روپے کی رقم سوئس اکاؤنٹس میں موجود تھی اور مشرف کے این آر او جاری کرنے تک موجود تھی۔ جبکہ وزیر اطلاعات و نشریات شیخ رشید نے اس وقت دعویٰ کیا تھا اس کیس کی کامیابی کا سارا کریڈٹ نیب کو جاتا ہے، بینظیر بھٹو سے 14ملین ڈالر لے کر سیلاب زدگان پر خرچ کریں گے۔
بینظیر بھٹو کا قتل ہوتے ہی آصف علی زرداری اور اُن کے بیٹا بلاول بھٹو پارٹی پر وصیت کے ذریعے قابض ہوے تو معاملہ کھلا کہ صدر بننے سے پہلے زرداری کے لیے بی اے کی شرط بھی ختم ہو گئی مگر جب این آر او غیر قانونی قرار پایا سوئس مقدمات کھولنے کے لیے حکام کو خط لکھنے سے انکار پر گیلانی کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے۔ نئے وزیراعظم راجہ
پرویز اشرف کے لیے بھی خط نہ لکھنے کی سزا وہی تھی۔ سپریم کورٹ کے این آر او عمل درآمد ججز سے منظوری کے بعد جو خط سوئس حکام کو بھیجا گیا اس خط کے اثرات کو ضائع کرنے کے لیے وزارت قانون کی جانب سے ایک جعلی خط سوئس حکام کو بھیجا گیا۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کا عدالتی کیریئر ختم ہوا اور وہ ریٹائر ہو گئے مگر وہ اکاؤنٹ خالی ہو گئے ۔ وہ رقم کہاں سفر کر گئی ، کس کی جیب میں گئی۔ یہ سوال بڑا اہم ہے اگر ایک از خود نوٹس زرداری صاحب کے لیے بھی ہو جائے۔ یقیناًاس وقت جوڈیشل ایکٹوازم کا تیسرا دور چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ ہوا ہے، یہ قابل مذمت ہے۔ کپتان اس کو سیاسی رنگ دے رہا ہے۔ یہ اُن کا حق نہیں مگر کپتان تو پہلے جوڈیشل کمیشن میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہے، کمیشن کے روبرو، آر اوز کے کردار کو ثابت نہ کر سکے۔ 35 پنکچر کی کہانی جھوٹی ثابت ہوئی، الیکشن کمیشن کے ارکان پر الزامات لگائے ثابت نہ ہو سکے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو دھاندلی کا کردار بتایا۔ کچھ ثابت نہ کر سکے اس کے باوجود نواز شریف کا مقدمہ احتساب عدالت میں ہے۔ کپتان میڈیا ٹرائل کر کے اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ سوال تو اٹھتے ہیں۔ میاں نواز شریف عجیب سیاست دان ہے بار بار اقتدار میں آتا ہے اور بار بار نکلتا ہے۔ اب تازہ فیصلے میں تو تاحیات نا اہل ہو چکے۔ پہلی بار وزارت عظمیٰ بچانے کے لیے مشرف کو جانے دیا۔ پرویز رشید کے مطابق اگر پرویز مشرف کو نہ جانے دیا جاتا تو 12 اکتوبر 1999ء والا معاملہ ہوتا۔ یہ معلوم نہیں کہ پرویز رشید نے اندازہ لگایا ہے یا کوئی ایسی دھمکی موجود تھی۔ پاکستان میں جمہوریت کا معیار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم 1950ء کی دہائی میں جا چکے ہیں۔ ’’ مہرے ‘‘ ہیں قطار اندر قطار چلے آ رہے ہیں۔ بلوچستان میں ایک مضبوط اور اکثریت کی جماعت کو گرا دیا جاتا ہے۔ دولت چلی اور خوب چلی یہ الزامات سیاست دان آج بھی اُٹھا رہے ہیں۔ پھر سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب ہوئے، ہارس ٹریڈنگ کا ’’غوغا‘‘ ہوا مگر اسفند یار ولی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہاں تو پورا اصطبل ہی بک گیا۔ پھر فاروق ستا رہی نہیں ایم کیو ایم بہادر آباد والے صدیقی صاحب بھی کہہ رہے ہیں دباؤ ڈالا جا رہا ہے، دھمایا جا رہا ہے چیف جسٹس اور سپہ سالار نوٹس لیں۔ پھر بلوچستان کو ایک نئی پارٹی مل گئی۔ ایک تحفظ پاکستان کا قافلہ چل رہا ہے۔ مگر سب سے بڑا دھماکہ تو بہاولپور اور ڈی جی خان سے تعلق رکھنے والے جاگیرداروں نے کیا ہے۔ خسرو بختیار اس کے سرخیل ٹھہرے۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ ان لوگوں نے تو غربت دیکھی ہی نہیں ہے۔ مخدوم شاہ پور قریشاں سے تعلق رکھنے والے خسرور بختیار کے پیٹ میں محرومی کا مروڑ کیسے اُٹھ گیا۔ ان کے دادا، باپ، چاچے، مامے، تائے بھائی نہ جانے کس کس عہدے پر رہے۔ بہاولپور میں جمہوری عمل شروع ہوا تو پنجاب کے سابق سینئر وزیر مخدوم الطاف کے والد 1952ء میں بہاولپور اسمبلی کے رکن بنے۔ 1965ء میں ایوب خان کی کنونشن لیگ کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی چنے گئے۔ خود مخدود الطاف ضیاء الحق کے نظریے سے محبت کی بنا پر نواز شریف کی کابینہ کے رکن بنے۔ پھر پیپلز پارٹی میں چلے گئے۔ مخدوم شہاب الدین کے والد اور خسرو بختیار کے انکل پیپلزپارٹی میں ہیں وہ وزیر صحت رہے ایفی ڈرین کیس کے ملزم ہیں مخدوم شہاب الدین کے والد مخدوم حمید الدین بھی دوسری دستوریہ کے رکن بنے، مسلم لیگی تھے راتوں رات وفاداری تبدیل کر کے ری پبلیکن پارٹی میں شامل ہوئے۔ 1962ء میں قومی اسمبلی کے رکن بنے ایوب خان نے کنونشن لیگ تخلیق کی تو اس میں شامل ہو گئے۔ 1965ء میں نواب کا لا باغ کی طرز سیاست کو پسند کرنے کی وجہ سے گورنر کی کابینہ میں شامل ہو گئے۔ ایوب خان کا اقتدار ختم ہوا تو 1970ء کا انتخابات میں کنونشن لیگ کے ٹکٹ پر ایم پی اے بنے۔ بھٹو کو اپنا لیڈر مان کر پیپلزپارٹی میں ممبری سمیت شامل ہوئے۔ 1977 ء میں بھٹو کی قربت کی وجہ سے انہیں قومی اسمبلی کا ٹکٹ ملا۔ میاں سراج الدین کو شکست دی۔ 1970ء میں اس خاندان کے اہم رکن مخدوم نور ہاشمی بہاولپور صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم سے رکن قومی اسمبلی کامیاب ہوئے۔ انہوں نے سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کے والد حسن محمود کو شکست دی۔ بہاولپور صوبہ کا مطالبہ چھوڑ کر مخدوم نور بھی پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے۔ 1977 ء میں وہ بھی اسلم نارو کے مقابلے میں پی پی پی کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ اس طرح اس خاندان کے صوبہ بہاولپور کے مطالبے سے دستبردار ہوتے ہی صوبہ کی تحریک دم توڑ گئی۔ اور وہ قربانیاں ضائع گئیں جو عوام نے ان کے اکسانے پر دی تھیں۔ مخدوم الطاف کا بیٹا مخدوم مخدوم ارتضیٰ اور مخدوم اشفاق بھی صوبائی اسمبلی کے رکن بنے جبکہ مخدوم الطاف تو پرویز الٰہی کابینہ میں وزیر ماحولیات رہے۔ خسرور بختیار کے والد مخدوم رکن الدین 1988ء میں آئی جے آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے جبکہ مخدوم رکن الدین 1990ء میں وفاداری تبدیل کر کے پیپلزپارٹی میں جانے کی وجہ سے ناکام رہے۔ مخدوم عماد الدین 1985ء اور 1997ء میں ناکام رہے۔ خسرور بختیار نے مسلم لیگ (ن) سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔
1997ء میں ممبر صوبائی اسمبلی بنے اور شہباز شریف نے نوجوان کو سیاسی میدان میں آگے بڑھانے کے لیے اپنا مشیر بنا لیا۔ دو سال بعد ہی شہباز شریف کا اقتدار ختم ہوتے ہوئے گھر بیٹھ گئے اور موقع کا انتظار کرنے لگے۔ 2002ء میں قومی اسمبلی میں جہانگیر ترین اور صوبائی نشست سے پرویز الٰہی کے مقابلے میں ناکام رہے اور دوسری قومی نشست سے کامیاب ہونے کے بعد وزیر مملکت برائے خارجہ بنے۔ 2001ء میں تحصیل ناظم اور مشرف کے ریفرنڈم میں بھرپور کام کیا۔ خدشات ہیں یہ کدھر سے آ گئے۔ خواجہ سعد رفیق مسلم لیگ (ن) میں ایسے سیاست دان ہیں جو کھل کر اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں۔ ایک تقریب میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے ’’انجینئرڈ الیکشن ملک اور جمہوریت کے لیے خطرناک ہوں گے ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا‘‘۔ انہوں نے یہ بات اس پس منظر میں کہی جب جنوبی پنجاب صوبہ تحریک شروع کرنے والے خسرو بختیار ہیں۔ انہوں نے اس تحریک میں ایسے جاگیرداروں کے سر پر نئے صوبہ کی پگ باندھی ہے جن کی سیاسی تاریخ 1857ء میں مجاہدوں کے مؤقف کے خلاف شروع ہوتی ہے۔ شاہ پور قریشاں خاندان، مزاری، دریشک، کھوسے، نون اور باقی تمام وہ لوگ ہیں جو ہر اقتدار میں آنے والی پارٹی کے وفادار ہوئے۔ آج بھی ان کی حیثیت ’’مہروں‘‘ سے زیادہ نہیں۔ عوام دیکھ رہے ہیں انتخاب سے پہلے سارا کھیل سیاست کا ہے اور کون ہے جو یہ نظام چلا رہا ہے۔


ای پیپر