جناب چیف جسٹس کا جہاد۔۔۔!
16 اپریل 2018

اخبارات میں چھپنے والی ایک طرح کی خبریں قارئین کیلئے زیادہ دلچسپی کا باعث نہیں ہوتی ہیں۔ وہ نیوز چینلز پر ان خبروں اور ان کے ٹِکرز کو دیکھ ، سُن اور پڑھ ہی نہیں چکے ہوتے ہیں بلکہ ان خبروں پر مبنی تجزیے، تبصرے اور ٹاک شوز بھی ملاحظہ کر چکے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اخبارات اپنے قارئین کی وابستگی اور دلچسپی کو قائم رکھنے کیلئے اپنے اداریوں اور ماہرین کے تجزیوں بالخصوص نامی گرامی قلمکاروں اور کالم نگاروں کے کالموں اور تحریروں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اور اس مقصد کے لئے بھاری معاوضوں کے عوض چوٹی کے قلمکاروں ، کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کی خدمات حاصل کرتے ہیں ۔ تاہم اخبارات کی یہ خوش نصیبی ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے کچھ خبریں اور رپورٹیں بھی اُن کے لیے غیبی امداد کا کام کر رہی ہیں اور قارئین کی دلچسپی اور وابستگی قائم رکھنے کیلئے مدد گار ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ خبریں اعلیٰ عدلیہ بالخصوص سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات جن میں سے زیادہ تر کا تعلق از خود نوٹسز (سوموٹو) کی سماعت کے دوران جناب چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے آئے روز دئیے جانے والے ریمارکس کے حوالے سے اخبارات میں چھپتی ہیں اور ان میں کالموں کی تحریروں کی چاشنی اور رنگ جھلک رہا ہوتا ہے۔
جناب چیف جسٹس بلا شبہ مفادِ عامہ سے تعلق رکھنے والے معاملات ، سرکاری محکموں میں بد عنوانی ، اختیارات کے ناجائز استعمال ، عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور گڈ گورننس کے قیام میں وفاقی او رصوبائی حکومتوں کی ناکامی اور اسی طرح کے دوسرے معاملات میں آئے روز از خود نوٹسز (سوموٹو ایکشن) لیتے ہوئے متعلقہ حکومتی محکموں اور اداروں کے سربراہوں اور دیگر ذمہ دار شخصیات اور عہدیداروں کو اپنی عدالت میں طلب کرتے رہتے ہیں۔ جناب چیف جسٹس کا اپنا یہ کہنا ہے کہ وہ عوام کے مفاد اور بد عنوانیوں کے خاتمے کیلئے یہ جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ جناب چیف جسٹس اختتامِ ہفتہ جب کسی صوبائی دارالحکومت میں سپریم کورٹ رجسٹری میں بالخصوص لاہور میں سپریم کورٹ رجسٹری میں از خود نوٹسز کی سماعت کر رہے ہوتے ہیں تو اُن کا یہ جہاد کچھ زیادہ ہی (شاید ضرورت سے زیادہ ) اپنی چمک دمک دکھا رہا ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ عزت مآب چیف جسٹس کو ان معاملات میں جو قانونی اور آئینی طور پر حکومتی دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور جن کی سرانجام دہی حکومتی اہلکاروں کی ذمہ داری بنتی ہے دخل دینا چاہیے یا نہیں لیکن برسرِ زمین حقیقت یہی ہے کہ جناب چیف جسٹس کی درد مندی کے اظہار اور از خود نوٹس لینے میں آئے روز جہاں اضافہ ہو رہا ہے وہاں اُن کی طرف سے سرکاری اہلکاروں اور اعلیٰ عہدیداروں کی سرزنش ، ڈانٹ ڈپٹ اور جواب دہی میں بھی شدت آ رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جناب چیف جسٹس کا جہاد پھیلتا جا رہا ہے۔ یہاں ہفتہ 14 اپریل کو لاہور سپریم کورٹ رجسٹری میں جناب چیف جسٹس اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رُکنی بنچ میں مختلف مقدمات جو زیادہ ترجناب چیف جسٹس کی طرف سے از خود نوٹسز ہیں کی سماعت کے بارے میں ایک قومی معاصر میں خبروں کا اجمالی سا حوالہ دیا جاتا ہے
جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جناب چیف جسٹس کا جاری جہاد کن حدوں کو چھو رہا ہے۔
قومی معاصر میں اس حوالے سے تین خبریں چھپی ہیں ۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ جناب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار مسلسل آٹھ گھنٹے سپریم کورٹ رجسٹری کے کورٹ روم 1 میں مفادِ عامہ کے کیسز کی سماعت کرتے رہے ۔ اس دوران شوگر لیول ڈاؤن ہونے پر چیف جسٹس نے کھجوریں کھائیں اور دور دراز سے آنے والے سائلوں کی شکایات کا ازالہ کرتے رہے۔ خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب جناب چیف جسٹس کے حکم پر سائلوں کی شکایات سُنتے رہے ۔ دوسری خبر ریلوے میں ساٹھ ارب روپے کے خسارے کے بارے میں از خود نوٹس کیس کی سماعت کے متعلق ہے جس میں عدالت نے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو بھی طلب کر رکھا تھا۔ قومی معاصر نے اس خبر کو لیڈ (چھ کالمی بڑی خبر) کے طور پر شائع کیا ہے اور بڑی مزے کی اور چشم کشا سُرخیاں جمائی ہیں۔ بڑی سُرخی اس طرح ہے ’’خواجہ صاحب روسٹرم پر آ جائیں ، لوہے کے چنے ساتھ لائیں‘‘ ،’’ عدلیہ کیلئے جیل کاٹی ۔ سعد رفیق ۔۔ آپ کو دوبارہ جیل بھی ہو سکتی ہے ، چیف جسٹس ‘‘ ۔ ذیلی سُرخیاں اس طرح ہیں ’’آپ نے مجھے یاد کیا ۔۔۔ نہیں طلب کیا‘‘، ’’بولنے کی اجازت ہے ۔۔۔جب تک ہم نہ کہیں چُپ رہیں ‘‘، ’’بیٹھ جاؤں ۔۔۔نہیں نہیں ۔۔۔چلا جاؤں ۔۔۔گئے تو توہینِ عدالت لگے گی ‘‘۔ جناب چیف جسٹس اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے درمیان مزید مکالمات خبر کے متن میں کچھ اس طرح درج ہیں۔ جناب چیف جسٹس نے خواجہ سعد رفیق سے کہا کہ آپ 2,3 دن پہلے جہاں گئے تھے وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔ سعد رفیق نے کہا میری رشتہ داری اور شہر داری ہے چائے پینے گیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا مجھے پتا ہے آپ کون سی چائے پینے اور کیا سفارش کرانے گئے تھے ، جہاد کررہا ہوں اور مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا۔ خبر میں ریلوے کے خسارے ، ریلوے میں ڈی جی لیگل کی تقرری اور ریلوے میں ہونے والے حادثات کے بارے میں بھی جناب چیف جسٹس اور خواجہ سعد رفیق کے درمیان ہونے والے مکالموں کی تفصیل موجود ہے۔
قومی معاصر کی تیسری خبر میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیسز ، سرکاری ہسپتالوں کی ابتر صورت حال ، پنجاب ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں ادویات کے بروقت ٹیسٹ نہ ہونے اور پنجاب صاف پانی کمپنی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر از خود نوٹس کیسز کی سماعت کے دوران جناب چیف جسٹس کے ریمارکس کی تفصیل دی گئی ہے ۔ یہ ریمارکس بھی کچھ کم چشم کشا نہیں ہیں ۔ جناب چیف جسٹس نے کہا کہ ماورائے قانون کوئی اقدام نہیں کریں گے ۔ پہلی بار قانون کی بالا دستی نظر آرہی ہے جس سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی ابتر صورت حال پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جناب چیف جسٹس نے جہاں ہسپتالوں میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کا حکم دیا وہاں پنجاب بھر میں عطائیوں کو ایک ہفتے میں گرفتار کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔ پنجاب صاف پانی کمپنی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جناب چیف جسٹس نے کہا کہ جتنے بیورو کریٹس ان کمپنیوں میں گئے ہیں انہیں اُن کے گریڈز کے مطابق تنخواہ ملے گی ۔ زائد تنخواہیں لینے والے افسروں سے پیسے وصول کر کے صحت اور تعلیم پر لگائے جائیں گے۔ خبر میں وزراء ، سرکاری افسروں اور تمام ہائیکورٹس چیف جسٹسز کے زیر استعمال لگژری کی رپورٹ طلب کرنے کے حکم کا ذکر بھی موجود ہے ۔
چیف جسٹس آف پاکستان جناب میاں ثاقب نثار کی از خود نوٹس کیسز کے ایک دن کی سماعت کے دوران دئیے جانے والے ریمارکس کی یہ تفصیل کچھ طویل ہو گئی ہے۔ لیکن یہ ضروری تھا کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ جناب چیف جسٹس کا جہاد کتنا پھیل چکا ہے اور کس طرح متعلقہ لوگ اس کی گرفت میں آ رہے ہیں۔ جناب چیف جسٹس یقیناًمفادِ عامہ کیلئے از خود نوٹسز لے کر یہ سب کچھ کررہے ہیں بلا شبہ وہ معاشرے میں در آنے والی خرابیوں اور برائیوں کی اصلاح ہی نہیں چاہتے ہیں بلکہ سرکاری محکموں کی ناقص کا رکر دگی کو بہتر بھی بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی روک تھام بھی کرنا چاہتے ہیں ۔ جناب چیف جسٹس اسے جہاد کا نام دیتے ہیں تو یہ بھی کچھ ایسا غلط نہیں لیکن اتنا ضرور دیکھ لیا جانا چاہیے کہ جناب چیف جسٹس جن معاملات میں دخل دے رہے ہیں کیا وہ قانونی اور آئینی طور پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے ہیں؟ اور جناب چیف جسٹس کی دخل اندازی سے روزانہ کے حکومتی معمولات اور معاملات بُری طرح متاثر نہیں ہو رہے ہیں؟ کیا چیف جسٹس آف پاکستان جیسے بلند منصب پر فائز شخصیت کا کسی کو بیٹھ جاؤ، کسی کو کھڑے ہو جاؤ اور کسی کو نکل جاؤ جیسے الفاظ کہنا مناسب ہے؟ کیا اس سے ایک نئے اندازِ فکروعمل کی بنیاد نہیں رکھی جا رہی ہے ؟۔
آخر میں نامور صحافی ، دانشور ، کالم نگار اور سینئر تجزیہ نگار جناب مجیب الرحمن شامی کے اتوار کے روز ایک قومی معاصر میں چھپنے والے کالم کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ یہ کالم انہوں نے سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بنچ کی طرف سے آئین کی دفعہ 62 (F-1 ) کے تحت عوامی عہدوں کیلئے نااہلی کی سزا تا حیات برقرار رکھنے کے فیصلے کے پس منظر میں لکھا ہے جس کے تحت مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف اور تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی عوامی عہدوں کیلئے نااہلی کی میعاد تاحیات سمجھی جائے گی۔ جناب مجیب الرحمن شامی لکھتے ہیں ’’دستور کی دفعہ 62 پر غصہ جھاڑنے یا نکالنے کا کوئی محل نہیں ۔ معاملہ اس کے اطلاق کا ہے اس میں کہاں لکھا ہوا ہے کہ سپریم کورٹ دفعہ 184(3) کے تحت حاصل بنیادی حقوق کی حفاظت کے اختیار کو عوامی نمائندوں کی نااہلیت کیلئے استعمال کر سکتی ہے۔ برسوں پہلے یہ دفعہ دستور میں درج ہوئی لیکن افتخار چوہدری کورٹ سے پہلے کسی نے اس کا استعمال نہیں کیا۔ اٹھارہویں ترمیم کر تے ہوئے دستور میں دفعہ 10-A کا اضافہ کیا گیا تھا، فیئر ٹرائل کو بنیادی حق قرار دیا گیا ۔ سپریم کورٹ کو دفعہ 184(3) کے تحت جو اختیارات تفویض کئے گئے ہیں وہ بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے ہیں ۔ جب کسی فرد کے خلاف سپریم کورٹ براہِ راست فیصلہ کرے گی اور اُسے اپیل کا حق بھی حاصل نہیں ہو گا تو اُسے دفعہ 10-A کی مطابقت میں کیسے سمجھا جائے گا۔ پوچھا جاتا رہے گا کہ کسی عوامی نمائندے پر براہِ راست مقدمہ چلانے کی ہدایت 184(3) میں کہاں درج ہے۔ یہ بھی عرض کیا جاتا رہے گا کہ 10-A کے تحت حاصل بنیادی حق کی نفی کرنے کا اختیار کہاں سے لیا گیا ہے‘‘۔


ای پیپر