’’ہاتھی کا انڈا؟ ۔۔۔ دھوکے باز پھل ۔۔۔؟‘‘

16 اپریل 2018

حافظ مظفرمحسن

واہ ۔۔۔ میاں نمونہ
اندر مٹی باہر چونا
میں حیرت زدہ ہوں کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے تربوز کا سائز ایک سا ہی چلا آ رہا ہے حالانکہ ترقی کے اس دور میں تربوز من دو من کا تو ہونا چاہئے تا کہ ایک تربوز ڈیڑھ دو سو لوگ کھا سکیں ۔۔۔؟
جب پہلی بار انسان کا تربوز کے پاس سے گزر ہوا ہو گا تو اس نے خوف کے مارے ۔۔۔ تر۔۔۔ تا تا ۔۔۔ تا تا ۔۔۔ تر ۔۔۔ بوز کہہ ڈالا ہو گایعنی اس تربوز کو بڑے بلکہ بہت بڑے سائز کی ’’تر‘‘ سمجھ لیا ہو گا مگر جب اس نے اس دھوکے باز پھل کو کھول کر دیکھا ہو گا ۔۔۔ انگلیاں آپس میں میٹھے سے چپک جانے کے بعد چاٹی ہوں گی ۔۔۔ تو وہ پھر تر تر ۔۔۔ تا تا ۔۔۔ تر تر ۔۔۔ بوز کہہ کر اچھل پڑا ہو گا ۔۔۔ گاڑھا سبز اور اندر سے لال سرخ ۔۔۔ کیا کہنے اس ذائقے دار ۔۔۔ جو سو فیصد پانی ہے ۔۔۔ آپ چبانے کی کوشش کریں وہ منہ میں بکھر کر اِدھر اُدھر چلا جائے گا اور بالکل قابو میں نہیں آئے گا ۔۔۔ آپ نے آجکل ٹی وی چینلز پر کئی بڑے بڑے ’’ہدوانے‘‘ بھی آپس میں الجھتے ہوئے دیکھے ہوں گے ۔۔۔ وہ بھی اک دوسرے کے ہاتھ نہیں آتے اِدھر اُدھر نکل جاتے ہیں ۔۔۔ آپ کو یقیناًپتا ہو گا ۔۔۔ کہ پنجابی میں تربوز کو ’’ہدوانہ‘‘ کہتے ہیں ۔۔۔ پچھلے دنوں سعد رفیق بے چارے کی بھی شیخ رشید آف لال حویلی کے ہاتھوں خوب شامت آئی رہی ۔۔۔ شیخ رشید کی دیکھا دیکھی اب گھروں میں ٹی وی دیکھتے بچوں کی خوب حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ وہ بھی آپس میں اِنہی لائنوں پر لڑتے ہیں، الجھتے ہیں اور بور نہیں ہوتے، بُرا نہیں مناتے، انجوائے کرتے ہیں ’’اوئے‘‘ کہنے پر شرمندہ نہیں ہوتے ’’اوئے‘‘ کہلا کر بھی شرمندہ نہیں ہوتے ۔۔۔ ’’دِس اِز پارٹ آف دی گیم ۔۔۔ بوائے‘‘ ۔۔۔ آجکل کے انسانوں کی طرح تربوز مزید چکر بازی بھی جب چاہے کر جاتا ہے ۔۔۔ آپ بڑے اعتماد کے ساتھ دس بارہ ۔۔۔ یا پندرہ بیس کلو کا تربوز خریدیں ۔۔۔ اتنا وزن دار تربوز محبت میں اٹھائیں ۔۔۔ شدید گرمی میں اسے کھا جانے کے تصور سے خوش ہوں ۔۔۔ ہونٹوں پہ زبان پھیریں اور گھر جا کے بڑے اہتمام کے ساتھ کاٹیں ۔۔۔ جیسے اچانک لائٹ بند ہو جانے پر ۔۔۔ غیر ارادی طور پر بچوں کے منہ سے نکلتا ہے ۔۔۔ ’’ہاؤ‘‘ ۔۔۔ ایسے ہی کچا اور اندر سے لال کی بجائے سفید تربوز دیکھ کے سب کے منہ سے نکلتا ہے ۔۔۔ ’’جاؤ‘‘ یعنی اپنا اپنا جاؤ ۔۔۔ کام کرو ۔۔۔ یہ تو تربوز کی بجائے ۔۔۔ ’’کدو‘‘ نکل آیا ہے ۔۔۔ لیکن اس پندرہ بیس کلو کے کدو کو آپ بطورِ سالن پکا نہیں سکتے ۔۔۔ ڈاکٹر مومن لطیفؔ کہتے ہیں کہ ہم دیر تک اپنے بچپن میں تربوز کو ہاتھی کا انڈا سمجھتے رہے اور حیرت زدہ ہوتے رہے ۔۔۔
ان انسانی رشتوں کی طرح جو سیدھے چلتے چلتے ۔۔۔ اچانک راستہ بدل لیتے ہیں ۔۔۔ منہ بھی موڑ لیتے ہیں ۔۔۔ سارے بندھن توڑ لیتے ہیں اور پھر پہچانتے بھی نہیں ۔۔۔ غلطی کر کے اپنی غلطی مانتے بھی نہیں ۔۔۔ مجھے افسوس ہے کہ مرزا غالب نے اس دھوکہ باز پھل کی شان میں ایک بھی شعر نہیں لکھا ۔۔۔ شعر تو ویسے انہوں نے پسندیدہ پھل آم کے لئے بھی شاید نہیں لکھا ۔۔۔ جس کے مرزا غالب عاشق تھے ۔۔۔ مرزا غالب کے بعد دیر تک آم بھی اداس پھرتا رہا ۔۔۔ ایسا قدر دان کہاں ۔۔۔؟
آج دبئی سے خالد بھُٹہ صاحب آئے تھے ۔۔۔ اُن کے سامنے بھی تربوز اور آم کے بارے میں گفتگو ہوتی رہی ۔۔۔ بولے ۔۔۔ یارو، تربوز سے یاد آیا ۔۔۔ ایک دفعہ آپ نے چائنہ سے گنجے پن کے علاج کے لیے لوشن منگوایا تھا ۔۔۔ جس کے ساتھ ہدایات جاری کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا کہ یہ لوشن انگلی سے سر پر مت لگائیں ورنہ انگلی پر بھی بال اُگ آئیں گے ۔۔۔ ایسے ہی ہماری دبئی والی بھابھی صاحبہ بھی سارا دن AC چلا کے سوئی رہتی ہیں ۔۔۔ بھابھی بھیا اور ان کی اکلوتی اولاد یعنی ایک گیارہ سال کا بچہ، موٹاپے نے زندگی برباد کر دی ہے کوئی دوا نہیں ایجاد ہوئی ۔۔۔ ایک مرغا (روسٹ) منگواتے ہیں ۔۔۔ مرغا بھی ذلیل ہوتا اور کھانے والے بھی ۔۔۔ اس قدر آرام دہ زندگی ۔۔۔ ’’پھول کر کپا ہو گئے ہیں ۔۔۔ سبز رنگ کے کپڑے پہن لیں تو ۔۔۔ مت پوچھئے ۔۔۔ میں سمجھ گیا ۔۔۔ بات پھلوں کی ہو رہی تھی کہاں آم اور کہاں بے چارہ تربوز ۔۔۔ کہاں دبئی میں رہنے والی نہایت خوشحال زندگی گزارنے والی بہت بڑی بڑی عورتیں اور کہاں ہمارے ہاں کی بیویاں ۔۔۔ دن بھر محنت ۔۔۔ خاوند بچوں کی خوب خدمت لیکن ۔۔۔ خاوند کی جھاڑیں جھڑکیاں اور ضدی پن ۔۔۔ مگر جدید تعلیم کے حصول نے موبائل فون کی آمد ۔۔۔ انٹرنیٹ کی طاقت سے یہاں بھی نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے ۔۔۔ آپ بازار میں جائیں ۔۔۔ اپنے شوہروں کے لیے خواتین خریداری کرتی دکھائی دیں گی ۔۔۔ گاڑیاں چلاتی عورتیں اب شہروں میں آپ کو عام ملیں گی ۔۔۔ سعودی عرب میں بھی اب تو خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت مل رہی ہے ۔۔۔ اچھی تبدیلی ہے ۔۔۔ بہر حال ابھی مزید تبدیلی کی گنجائش ہے ۔۔۔ ’’عورت راج‘‘ کی طرف خاصی تندی سے چلتا جا رہا ہے ہمارا معاشرہ ۔۔۔ مرد اگر اِسی طرح تھوڑی دیر مزید سوئے رہے تو ’’پانی سر سے گزر جائے گا‘‘ ۔۔۔ ویسے جہاں جہاں پانی سروں سے گزر چکا ہے وہاں کی صورت حال میں نے اپنی اس نظم میں بیان کی ہے ۔۔۔ آپ بھی ملاحظہ کریں اور خود کو کسی جگہ فٹ کرنے کی کوشش کریں مزہ آ جائے گا۔۔۔
دو دھاری تلوار سمجھ کر بیوی کو
پھولوں کی مہکار سمجھ کر بیوی کو
سونے جیسا منڈا اپنا دے ڈالا
شہر کا بڑا سونار سمجھ کر بیوی کو
ایسے لوگ سنبھال سنبھال کے رکھتے ہیں
ڈالر پاؤنڈ دینار سمجھ کر بیوی کو
جھکا رہا بیوی کے آگے جھکا رہا
ہائے ’’قطب مینار‘‘ سمجھ کر بیوی کو
حکم بجا لانے میں ہر دم جلدی کی
ماسٹر کانٹے دار سمجھ کر بیوی کو
بات بات پر وہ ڈانٹے اور ہم چپ
حاکم ، زمیندار سمجھ کر بیوی کو
در پردہ ہے نئی کہانی بھی سن لو
سب رکھتے ہیں ہار سمجھ کر بیوی کو
کچھ کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں محسن
ایک سو چار بخار سمجھ کر بیوی کو
بات چلی تھی تربوز سے آموں سے اور پہنچ گئی بیوی کے کڑوے رویے تک تلخ باتوں تک ۔۔۔ لیکن سچ کو ہم چھپا نہیں سکتے ۔۔۔ گرمیوں میں تربوز بھی کھانا ہے اور آموں سے بھی لطف اندوز ہونا ہے ۔۔۔ بدلتے زمانے میں اب یہ نہیں ہو سکتا کہ زندگی کی گاڑی کے دو پہیے مختلف سائز کے ہوں ۔۔۔ ایک ٹرک کا پہیہ دوسری طرف بے بی سائیکل کا پہیہ ۔۔۔ اب تو ایک ہی سائز کے پہیے ہوں تو گاڑی چلے گی کیونکہ اب گاڑی گاؤں کی پگڈنڈی پر نہیں لاہور کی مال روڈ پر چلتی ہے ۔۔۔ بیوی بھی جدید دور کے TV چینل دیکھتی ہے اور خاوند بھی (ذرا زیادہ غور سے دیکھتا ہے) ۔۔۔
ایک 85 سالہ شخص نے اپنے ایک دوست کو شادی کی 60 ویں سالگرہ پر بلایا ۔۔۔ وہ بار بار بیوی کو کچن سے ’’جان‘‘ یا ’’ڈارلنگ‘‘ کہہ کر بلاتا اور کچھ نہ کچھ منگواتا ۔۔۔
دوست اس محبت بھری ادا سے بہت متاثر ہوا اور کہے بغیر نہ رہ سکا ۔۔۔
بولا ۔۔۔ ’’دوست! بڑی حیرت کی بات ہے، شادی کو ساٹھ سال گزرنے کے باوجود تم اپنی بیوی کو اتنے محبت بھرے ناموں سے بلاتے ہو ۔۔۔؟‘‘
شوہر نے راز دارانہ انداز میں جواب دیا ۔۔۔
’’یار ۔۔۔ کیا بتاؤں ۔۔۔ بیس سال ہوئے میں بیوی کا نام بھول چکا ہوں ۔۔۔؟‘‘

مزیدخبریں