صوبہ جنوبی پنجاب ۔ میڈیا اپنا حصہ ڈالے
16 اپریل 2018

مجھے وسطی پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں کام کرتے ہوئے تین سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا اور میری ٹرانسفر کسی بھی وقت متوقع تھی کیونکہ بطور ڈی سی او یہ عرصہ نارمل tenure سے زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ میرے ذہن میں یہ خیال کبھی نہیں آیا تھا کہ میں صوبہ پنجاب کے آخری ضلع یعنی رحیم یار خان میں پہنچ جاؤنگا۔رحیم یار خان کا شمار صوبہ پنجاب کے بڑے اضلاع میں ہوتا ہے لیکن سچ پوچھیں فاصلہ سن کر دل گھبرا سا گیا۔ وہ جو کہا جاتا ہے کہ نوکری کیا اور نخرہ کیا ، بہت سچ لگا۔ رحیم یار خان جانا ٹھہر ہی گیا۔بچے لاہور کے مختلف اداروں میں پڑھ رہے تھے ، لہٰذا فیملی لاہور میں۔ مجھے اکیلے ہی رحیم یار خان جانا تھا۔براستہ روڈ رحیم یار خان جانے میں دس سے بارہ گھنٹے لگ جاتے ہیں لیکن خوش قسمتی سے ان دنوں رحیم یار خان سے لاہور اور لاہور سے رحیم یار خان کے لیے ایک فلائٹ روزانہ کی بنیاد پر مہیا تھی۔ سنا ہے روزانہ کی فلائٹ والی یہ سہولت آجکل ختم ہو چکی ہے۔ میجر شاہنواز بدر کی بات کتنی سچی لگتی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ بدقسمت ملک ہے جس کا ہر گزرا دن آج سے بہتر تھا۔اس ملک کی بدقسمتی دیکھیں کہ یہ ترقی معکوس پر رواں دواں ہے۔ بتدریج ہر شعبہ زندگی میں حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔بہرکیف رحیم یار خان پہنچ گیا ، اس سے پہلے میں کبھی بھی رحیم یار خان نہیں گیا تھا۔یہاں کے لوگ حافظ آباد کی نسبت بہت نرم گفتار، ملنسار اور مجسمہ عاجزی ہیں۔
ر حیم یار خان کے لوگ یہ محاورہ سنانے لگے کہ یہاں باہر سے ہر آنے والا روتے ہوئے آتا ہے اور جاتے ہوئے بھی روتا جاتا ہے۔ پہلے پہل تو یہ محاورہ حوصلہ بڑھانے کی ایک کوشش ہی لگا ، لیکن سچ پوچھیں وہاں کے لوگوں کے لہجے کی مٹھاس دھیرے دھیرے دل کو چھونے لگی اور اجنبیت ختم ہونا شروع ہو گئی۔ حالات سے آگاہی بڑھنے لگی۔ وہاں جاگیردارانہ نظام کی چھاپ بڑی واضح نظر آتی ہے۔ زیادہ تر وڈیرے ہی ان کے ایم این ایز ، ایم پی ایز اور وزیر ہوتے ہیں ۔تقریباً سب کے گھر لاہور میں بھی ہیں جہاں ان کی اولادیں اچھے اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر تی ہیں۔ اگر کوئی فیملی ممبر بیمار ہو جائے تو اس کا علاج بھی لاہور کے ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔ کئی ایک تو اپنے ہوائی جہاز وں پر سفر کرتے ہیں۔
زیادہ تر عوام غلاموں کی سی زندگی گزارتے ہیں۔ میں ایک ایم این اے جو اس وقت وزیر مملکت بھی تھے کے گھر کھانے پر گیا ۔ ان کے ایک نوکر کو بہت مستعد اور رات گئے تک کام کرتے دیکھا۔ اس سے پوچھا آپ کو کتنی تنخواہ ملتی ہے۔ کہنے لگا جناب یہاں تنخواہ نہیں ہوتی ۔ ہمارا سارا خاندان نسلوں سے ان کی خدمت کرتا آ رہا ہے۔ میرا باپ بھی یہیں کام کرتا تھا۔ ہمیں کھانا پینا ، رہایش اور کپڑے پہننے کو مل جاتے ہیں اور بس۔ آپ حیران ہونگے کہ وہاں کے رہنے والوں کی کافی تعداد نے آج تک لاہور نہیں دیکھا۔ صوبائی دارالحکومت اور حکومتی اداروں کی دوری سے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں اتنے مسائل اور مشکلیں ہیں کہ ان کااحاطہ کرنا ایک کالم میں مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں۔ ایک روز میرے پاس ایک ہیڈماسٹر جو ڈپٹی ڈی ای او کے طور پر کام کر رہا تھا آیا اور کہنے لگا سر مجھے آڈٹ پیرا کے نتیجے میں بننے والی ایک انکوائری کے سلسلے میں لاہور جانا ہے کیونکہ سیکرٹری سکولز کے پاس میری ذاتی شنوائی ہے ۔اس لیے مجھے لاہور جانے کی اجازت دیں۔ میں نے اس کی درخواست منظور کرکے اسے واپس کر دی۔
چند دن بعد ایک میٹنگ میں اس سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ کیسی رہی آپ کی ذاتی شنوائی۔کہنے لگا میرے پہنچنے پر سیکرٹری کے سٹاف نے بتایا کہ سیکرٹری صاحب وزیر اعلیٰ ہاؤس گئے ہوئے ہیں۔چھٹی تک سیکرٹری صاحب نہ آئے تو ان کے سٹاف نے بتایا کہ اب سیکرٹری صاحب نہیں آئیں گے ،آپ چلے جائیں۔اگلی تاریخ کی اطلاع آپ کوکردیں گے۔ کہنے لگا سر پچھلے دوسال سے میں اسی طرح لاہور جا رہا ہوں۔ کبھی سیکرٹری صاحب اسلام آباد گئے ہوتے ہیں تو کبھی وزیراعلیٰ ہاوس۔ہمارے مقدر میں انارکلی بازار کے ہوٹل ہیں اور بسوں کے بارہ بارہ گھنٹے کے سفر۔ نہ جانے کب یہ سزا پوری ہوگی۔ ایسے حالات کا سامنا جنوبی پنجاب کا تقریباً ہر سرکاری ملازم کر رہا ہے۔میں پاکستان میں غربت سے متعلق حکومت پاکستان کے پلاننگ ڈویژن سے جاری شدہ ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا۔ اس کے مطابق صوبہ پنجاب میں ضلع مظفرگڑھ اورضلع راجن پور سب سے غریب اضلاع ہیں۔ ان کے بعد ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کے اضلاع آتے ہیں۔ ضلع مظفرگڑھ کی 64.8فیصد، راجن پور کی 64.4فیصد، ڈیرہ غازی خان کی 63.7فیصد اور بہاول پور کی 53فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ان اضلاع کے لوگوں کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ یہ تمام اضلاع جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں ۔ان حالات میں کیا ان کی رسائی تعلیم یا صحت کی سہولیات تک ہو سکتی ہے۔ ان کی زندگی کا معیار کیا ہوگا۔ یہ کیسی زندگی جی رہے ہونگے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ ان علاقوں کی طرف مختلف حکومتوں کی طرف سے عدم توجہ ہے۔جیسا میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ ان علاقوں کے سیاستدان جو اسمبلیوں اور حکومتوں میں پہنچتے ہیں وہ تقریباً سب کے سب ان علاقوں کے جاگیردار اور وڈیرے ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے علاقوں کے غرباء کے مفادات سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پنجاب میں سب سے لمبا عرصہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت رہی ہے۔یہ جماعت لاہور کے ایک خاندان کی ہے جن کی اولینترجیح اپنا شہر لاہور اور لاہور کے عوام ہیں۔ انہیں جنوبی پنجاب کے گاؤں میں رہنے والے غرباء سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ان علاقوں کے عوامی نمائندے یعنی ان علاقوں کے وڈیرے اپنی اغراض کی وجہ سے ا ن کی مٹھی میں ہوتے ہیں۔ لیکن حوصلہ افزاء اور خوش کن بات یہ ہے کہ اب جنوبی پنجاب کے عوام کو اپنی غربت اور بدحالی کا احساس ہو چلا ہے اور وہ اب صوبہ جنوبی پنجاب کی ڈیمانڈ شدت سے کر رہے ہیں۔ میرے ذاتی مشاہدہ میں ہے کہ اب وہاں کے لوگ کسی بھی ایسے سیاستدان کو ووٹ دینے کو تیار نہیں ہوں گے جو جنوبی پنجاب صوبہ کے لیے کھڑا نہیں ہوگا۔اسی لیے آپ نے دیکھا ہوگا کہ حال ہی میں ان علاقوں کے ایم این ایز ، ایم پی ایز کی ایک بڑی تعداد نے ایک پریس کانفرنس کر کے ’’ صوبہ جنوبی پنجاب محاذ ‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنی اسمبلی کی سیٹوں کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ اگرچہ کافی لوگ ان کے اس تحرک کو تشکیک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں لیکن بہرطور یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پنجاب سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) اور پنجاب کی بیورو کریسی ہے۔ انسان بنیادی طور پر بہت خودغرض واقع ہوا ہے۔بھلا یہ لوگ جو پنجاب کے ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل سے لے کر رحیم یارخان کی تحصیل صادق آباد تک حکومت کر رہے ہیں وہ اپنی حکومت کی سرحدوں کو کم کرنے پر کیونکر آسانی سے تیارہو جائیں گے۔ اس لیے یہ لوگ اس معاملہ کو حتی المقدور التواء میں ڈالنے کی ہر کوشش کریں گے۔ لہٰذا جنوبی پنجاب کے غریب اور مظلوم عوام کو ایک لمبی اور مسلسل جنگ لڑنی پڑے گی۔اس کالم کے ٹائٹل میں میڈیا سے کہا گیا ہے کہ وہ صوبہ جنوبی پنجاب کے سلسلہ میں اپنا حصہ ڈالے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں صرف میڈیا ہی ہے، الیکٹرانک اور پرنٹ دونوں،جو اس ملک کے عوام کے حقوق کے لیے بے لوث سینہ سپر ہو جاتا ہے۔
کسی زمانہ میں عوام کے حقوق کے لیے شاعر ، ادیب، اور وکلاء کھڑے ہو جاتے تھے لیکن نہ جانے ہم کہاں آن پہنچے ہیں کہ یہ سب لوگ ایک خاموشی طاری کیے وقت گزارنے کو ہی اپنا وتیرہ بنائے ہوئے ہیں ۔اگر بات صرف سیاستدانوں تک ہی رہی تو یہ صوبہ اس صدی کے اختتام تک بھی منظر شہود پر نہیں آ سکے گا ۔ جنوبی پنجاب کے مظلوم عوام میڈیاکو پکار رہے ہیں۔


ای پیپر