ٹکراؤ کی پالیسی سے اجتناب کیا جائے
16 اپریل 2018

محسود تحفظ موومنٹ ،پختون تحفظ موومنٹ میں تبدیل ہوگئی ،جنوبی وزیر ستان میں آپریشن کے بعد محسود قبائل کی جو مشکلات ،تکالیف اور دشواریاں تھیں ان کے بقول جو مبینہ زیادتیاں ان کے ساتھ کی جارہی تھیں ان کے ازالہ کا روناوہ کس کے آگے روتے ۔نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت کراچی پولیس کے ہاتھوں قتل کے خلاف جس طرح کا پہلے سوشل میڈیا اور پھر الیکٹرانک میڈیا پر جو کوریج ملی اسے محسود قبائل کو حوصلہ دیا اور وہ میدان عمل میں اپنے مطالبات کے حق میں نکل پڑے ۔ ڈیرہ اسلام آباد میں جلسوں دھرنوں اجتماع کے بعد معلوم ہوا کہ مبینہ مشکلات اور زیادتیاں صرف محسود قبائل کے ساتھ نہیں ہورہیں۔ اس کا شکار ہروہ علاقہ ہے جہاں آپریشن کیاگیا ہے جن میں سوات ،شمالی وزیر ستان ودیگر علاقے شامل ہیں ۔یوں ان علاقوں کے لوگ بھی موومنٹ میں شامل ہوگئے اور پھر اس کا نام تبدیل کرکے پختون تحفظ موومنٹ رکھ دیاگیا ۔آج یہ تحریک سر چڑھ کر بول رہی ہے ۔سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا انہیں بہترین کوریج فراہم کررہا ہے جس کے باعث ہمارے دشمن ممالک انڈیا ،امریکہ ،اسرائیل ،یہودونصاری کے چینلز پاک آرمی کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے ۔پی ٹی ایم نے جب اسلام آباد میں کئی دن دھرنا دیا توان کی وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کے بعدان کے چار اہم مطالبات جن میں چیک پوسٹوں پر عوام کے ساتھ بہتر رویہ ،لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرنا اور ان میں سے اگر کوئی دہشت گرد ہے تو ان پر قانون کے مطابق مقدمات اور باقیوں کو رہا کرنا ،آپریشن زدہ علاقوں میں بارودی مواد کو ہٹانا ، کرفیو اور ماورائے عدالت قتل کاخاتمہ شامل تھے ۔ملک کے قانون اورآئین کے مطابق پی ٹی ایم کا کوئی بھی مطالبہ ناجائز نہ تھا ۔اس لئے انہیں وزیر اعظم نے فوری تسلیم کرلیا جس کے بعد پاک آرمی نے بھی مطالبات پر عمل درآمد شروع کردیا ۔حال ہی میں وانا میں احمد زئی قبیلے کا جی سی او میجر جنرل عابد لطیف کے ساتھ گرینڈ جرگہ ہوا ۔میجر جنرل نے قبائلیوں کے مطالبہ پر تنائی چیک پوسٹ پر ایئر کنڈیشن رومز ،کینٹین ،ٹک شاپس ،مسجد ،میڈیکل سٹور اور فرسٹ ایڈ کی سہولت کے علاوہ جنریٹر فراہم کرنے کا اعلان کیا اور چیک پوسٹ کا نام تبدیل کرکے وانا استقبالیہ رکھ دیاگیا ۔اسی طرح اب تک آپریشن راہ نجات میں تباہ شدہ آٹھ سو دکانوں میں سے دو سو دکانوں کی تعمیر کا کام نیم قبائلی علاقوں میں جلد شروع کیا جارہا ہے ۔طلباء کو مفت کتب اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنایا جارہا ہے ۔عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے علاوہ سڑکیں بھی تعمیر کی جارہی ہیں ۔میجر جنرل عابد لطیف نے بتایا ہے کہ جلد ازجلد موبائل سروس بحال کرنے کے علاوہ وانا اعظم ورسک روڈ کو پختہ کیا جائے گا،تحصیل روڈ کو کھولنا اور رات کے اوقات میں ٹانک سے انگور اڈہ تک سفری اجازت دی جائے گی اس کے علاوہ بھی ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان ،جنوبی وزیر ستان میں موجود کئی چیک پوسٹوں پر عملے کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ عوام کے ساتھ رویہ مزید بہتر کریں ۔بارودی سرنگوں اور بارودی مواد کو بھی آپریشن زدہ علاقوں سے ہٹانے کا کام تیزی سے جاری ہے ۔پی ٹی ایم کے مطالبات کو پی ٹی آئی کے قائد عمران خان نے بھی جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں ان مطالبات کے سلسلے میں جنرل قمر باجوہ سے بات کروں گا۔ سارامسئلہ لاپتہ افراد کا ہے جس کی تعداد کے بارے میں پی ٹی ایم کا دعویٰ ہے کہ ان کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے جن میں چارہزر کا تعلق سوات اور باقی کا تعلق شمالی ،جنوبی وزیر ستان سے ہے ۔ان لاپتہ افراد میں سے اگر کوئی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے توا سے قانونی طور پر سزا ملنی چاہیے لیکن جو بے قصور ہیں رہائی ان کا حق ہے۔ یہ کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کے قائد منظور پشین کے اسی مسئلہ کو مغربی میڈیا اچھال رہا ہے ۔لاپتہ افراد کے رشتہ داروں ،والدین کے انٹرویوزمغربی میڈیا ،سوشل میڈیا پر تواتر کے ساتھ آرہے ہیں۔ گزشتہ دنوں واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے سامنے بھی پشتونوں نے پی ٹی ایم کے مطالبات کے حق میں اجتماعی مظاہرہ کیا اب دوبارہ لاہور ودیگر شہروں میں اجتماعی مظاہروں ،دھرنوں کا اعلان کیاگیا ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جلد از جلد اس پرانے ،دیرینہ مسئلے کو حل کیا جائے لیکن دھرنوں ،اجتماع کی آڑ میں پی ٹی ایم کو ایسے عناصر سے دور رہنا چاہیے جو کسی بھی کسی قسم کی شدت پسندی ،امن وامان کو خراب کرنے کی راہ اختیار کریں یاہمارے ملکی دفاعی اداروں ،ایجنسیوں کے خلاف تقاریر ،نعرہ بازی کریں ۔ہمیں دونوں جانب سے ٹکراؤ کی پالیسی سے بچنا ہے ۔پٹھان ہمارے بھائی ہیں۔ملک کے شہری ہیں اگر ہم انہیں راء ،افغانستان کا ایجنٹ اور غدار ثابت کرنے کی کوشش کریں گے ان پر الزامات لگائیں گے ،میڈیا ان کا بائیکاٹ کرے گا تو ان کے اندر مزید اضطراب وبے چینی پیدا ہوگی ۔ان کی تحریک مزید زور پکڑے گی ۔ملک کے قانونی وآئین کے مطابق ہر شہری کو اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنے کا جمہوری حق حاصل ہے ۔کل تک جب امریکہ کے کہنے پر ہم افغانستان میں روس کے خلاف جنگ لڑرہے تھے تو یہ قبائلی مجاہدین تھے لیکن اب امریکہ ہی کے کہنے پر یہ لوگ دہشت گرد ہوگئے، ہرگز نہیں۔ پاکستان کے ہر شہر ی کی جان ومال کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ہمارا دشمن انڈیا ،یہودونصاریٰ آپس میں دست وگریبان کروانے کی پالیسی پر گامزن ہے، ہم سے ہر وقت ڈومور کا مطالبہ کیا جاتا ہے لیکن ہم جو کچھ بھی کر لیں یہود ونصاریٰ بقول قرآن کبھی بھی ہمارے دوست نہیں ہوسکتے ۔پاکستان کے 21 کروڑ عوام محب وطن ہیں۔ ہماری فوج دنیا کی چند بہترین فوج میں شامل ہے۔ یہاں ہر رہنے والا ہر شہری چاہے وہ سندھی ،پنجابی ،بلوچی ،سرائیکی غرض جس قوم ونسل علاقے سے تعلق رکھتا ہو ملک کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے جس کا ثبوت ہم نے گزشتہ دنوں ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان زندہ باد موومنٹ کے جلسے کے دوران دیکھا جہاں ہر رنگ ونسل ،قوم فرقے ،زبان کے افراد نے جوق در جوق شرکت کی ۔ایک دوسرے پر بلیم گیم کا سلسلہ اب بند کرکے ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے اور یہاں پر کوئی بھی ملکی آئین،قانون سے مارواء نہیں ہے ۔ہمیں ٹکراؤ کی پالیسی سے بچنا چاہیے ۔


ای پیپر