حسین حقانی کی کتاب ’’ری امیجننگ پاکستان ‘‘
16 اپریل 2018 2018-04-16

حسین حقانی کی کتاب " ری امیجننگ پاکستان " پڑھی تو ساڑھی میں لپٹی موم بتی ہاتھ میں لیے ایک ایسی عورت کا خیال ذہن میں ابھرتا گیا جس کے بکھرے جیون کی بے ترتیب خواہشات میں سے ایک یہ ہے کہ پاکستانی فوج کو فلفور معطل کرکے اس ملک کی کمان احمدیوں کے ہاتھ میں دے دی جائے اور پاکستان کا بھارت سے الحاق کرکے اکھنڈ بھارت کی بنیاد رکھ دی جائے۔ حسین حقانی نے پاکستان دشمنی میں دشمنوں میں اعلیٰ مقام پایا ہے۔ پاکستان اور اسلام دشمنی میں وہی امریکی تھنک ٹینک جس نے زرداری کو مجبور کیا کہ حسین حقانی کو امریکی سفیر لگایا جائے، حسین حقانی سے پاکستان کے دفاع کی بنیاد کے خلاف میموگیٹ سکینڈل والے ایک خط سے لے کر متعدد کتابیں لکھوا چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے موصوف کی یہ تصنیف منظر عام پر آئی ہے۔ ہمیشہ کی طرح یہ کتاب بھی اسلام دشمنی، پاکستان کی تاریخ سے متعلق لغو اور گمراہ کن تحریر سے عبارت ہے۔ کتاب پر ذرا بعد میں آتے ہیں۔ کتاب کی رونمائی کے فیصلے اور اس کی تقریب کے مہمانان خصوصی پر غور فرمائیے۔ حسین حقانی نے پاکستان دشمنی کے ثبوت ثبت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ کتاب کی رونمائی بھارت میں رکھ کر اس میں پاکستان کے دشمن نمبر ایک بھارت کے معروف اخبار ’’دی ہندو‘‘ کے ایڈیٹر موکنڈ پدومن بھن کو خصوصی اہمیت دیا جانا حسین حقانی کی پاکستان مخالفت اور اینٹی پاکستان ایجنڈے کی کھلی تائید ہے۔
کچھ سال قبل ایک سابق امریکی سینیٹر لیری پریسلر کی لکھی کتاب "نیبرز ان آرمز " کی تقریب رونمائی کا اہتمام آصف علی زرداری حکومت کے امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر اور موجودہ ڈائریکٹر ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشیا ہڈ سن انسٹیٹیوٹ واشنگٹن ڈی سی حسین حقانی کی جانب سے ہی کیا گیا تھا۔ لیری پریسلر کی کتاب مشہور زمانہ پاکستان مخالف کتا ب ہے۔ اس نے کتاب میں لکھا ہے کہ پاکستان آرمی کو دی جانے والی مدد امریکیوں کی سب سے بڑی غلطی تھی لہٰذا اسے فورا بند کیا جائے اور پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دیا جائے۔ جبکہ پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اس وقت امریکہ کے ڈالروں کے نشے نے حسین حقانی کو پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کے بارے میں امریکی اداروں کی تعریف اور پذیرائی بھری لاتعداد رپورٹس گنوانے کی بجائے خود کو پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کے خلاف کتاب کی مارکیٹنگ تک محدود رکھا اور اب خود پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کے خلاف کتاب لکھ دی۔ حسین حقانی کی پاکستان دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ موصوف کی اس سے پہلے شائع شدہ تمام کتابیں پاکستان دشمن قوتوں کی زبانوں سے لیے گئے مضامین کا منبع و محور ہیں۔ حسین حقانی اپنی ایک اور کتاب 'Magnificent Delusions'' یا ’غیرمعمولی واہمے‘ میں رقم طراز ہیں کہ "امریکی امداد سے صرف پاکستانی فوج کو فائدہ پہنچا اور یہ کہ امریکہ کی جانب سے پاکستانی فوج کو عشروں سے دی جانے والی امداد ایک بڑی غلطی تھی۔ "
میمو گیٹ سکینڈل کے بغیر حسین حقانی کا تعرف نا مکمل ہے۔ حسین حقانی 2002ء سے امریکہ میں رہ رہے تھے۔ اس وقت سے لے کر امریکہ کے کہنے پر سفیر بننے اور اس دوران پاکستان مخالف کی گئی کار گزاریوں بارے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے صدر زرداری کو آگاہ کرنے پر ایک بات واضح تھی کہ حسین حقانی بچ نہیں سکیں گے، یہ خوف حسین حقانی تک پہنچا، حسین حقانی نے اپنے دوست منصور اعجاز کو اعتماد میں لیا، دونوں نے مائیک مولن کے لیے چھوٹا سا مضمون ڈیزائن کیا، منصور اعجاز نے یہ مضمون مائیک لولن کو پہنچا دیا، پیغام میں درج تھا ’’فوج دو مئی کے آپریشن کی وجہ سے ناراض ہے، یہ سویلین حکومت پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، آپ جنرل کیانی کو روکیں ‘‘ یہ پیغام پاکستان میں بعد ازاں میمو سکینڈل کہلایا۔ منصور اعجاز نے 10 اکتوبر 2011ء کو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں اپنے مضمون میں ’’اعتراف جرم‘‘ کر لیا یوں حقائق کی تصدیق ہو گئی، صدر آصف علی زرداری کے پاس اب بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ حکومت نے شدید دباؤ میں حسین حقانی کو پاکستان طلب کیا اور22 نومبر کو ان سے استعفیٰ لے لیا، سپریم کورٹ نے حسین حقانی کا نام ای سی ایل پر ڈالا اور تحقیقات کے لیے تین رکنی عدالتی کمیشن بنا دیا، کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تھے، کمیشن نے 11 جون 2012ء کو رپورٹ پیش کر دی، رپورٹ میں میمو کو حقیقت اور اس حقیقت کا خالق حسین حقانی کو قرار دیا گیا، کمیشن نے لکھا، حسین حقانی سفیر کی حیثیت سے پاکستان سے سالانہ 20 لاکھ ڈالر (دو ملین) تنخواہ لیتے تھے لیکن ان کی وفاداریاں امریکہ کے ساتھ تھیں، اب صورت حال یہ ہے کہ عدالت میں میموگیٹ کے حوالے سے چل رہے کیس میں عدالت نے حسین حقانی کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے لانے کی سفارش کی ہے۔ حسین حقانی کا پاکستان مخالف امیج سمجھنے کے بعد اب آئیے موصوف کی زیر نظر کتاب " ری امیجننگ پاکستان " کی طرف۔ کتاب کے سرورق پر ٹائیٹل کے فورا بعد ایک جملہ تحریر کیا گیا ہے " ٹراسفارمنگ اے ڈسفنکشنل نیو کلیئرسٹیٹ" خبث باطن سر ورق سے واضح ہے۔
مو صوف لکھتے ہیں " پاکستان کی آئیڈیالوجی اسلام نہیں ہونی چاہئے یہ مسائل کی جڑ ہے"۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ " پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ اسی دن دفن ہوگیا تھا جب بنگالیوں نے بھارت کی طرف جھکاؤ اور مدد سے الگ وطن حاصل کیا تھا "ایک اور جگہ کتاب میں لکھا ہے کہ "ہندوستان میں ہندوتوا تنظیم کی کارروائیوں اور حکومت میں ان کے حصے کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں مذہبی جماعتیں اپنے کیس میں تقویت محسوس کررہی ہیں اور مذہبی انتہاء پسندی کے ایجنڈے پر تیزی سے کام جاری ہے‘‘۔
حسین حقانی کو پاکستان میں احمدیوں کے اقلیت قرار دیے جانے پر شدید رنج اور غم ہے۔ تاریخ کے سہارے لے کر اسلام سے نابلد قوتوں کو خوش کرنے کی خاطر احمدیوں کو پاکستان کا مظلوم ترین طبقہ بتا کر ان کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی گئی ہے۔ بھٹو کی اس ضمن میں کاوش کو بھی توڑ مروڑ کر بیان کیا گیا ہے ۔ فوج پر ایک اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ "ضیا دور کی اسلامائزیشن اور انتہاء پسندی کی چھاپ آج بھی پاکستانی فوج پر موجود ہے"۔ غدار کی آنکھوں پر نفرت اور دشمنی کی پٹی بندھی ہوتی ہے۔ اسے کچھ دکھائی اور سنائی نہیں دیتا۔ ضیا دور میں ہونے والی غلطی کا اعتراف اور اسے سدھار دیے جانے پر تفصیلی روشنی خود موجودہ چیف آف آرمی سٹاف ڈال چکے ہیں۔ آخر میں سب سے اہم بات اس کتاب کا مقصد پاکستان کو ایک ناکام نیو کلیئر سٹیٹ قرار دینے کے لیے قارئین کی ذہن سازی کرنا اور لغو تاریخی حوالہ جات کے ذریعے پاکستان آرمی اور عسکری قیادت کو اس کا ذمہ دار قرار دینا ہے۔ علاوہ ازیں زیر نظر کتاب میں ختم نبوتؐ کے معاملات پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ بحث کی گئی ہے۔ عزت کے نام پر قتل کا ذمہ دار اسلام کو قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قوم کو ترغیب دی گئی ہے کہ مذہب اسلام کی بجائے ہندوستانی تاریخ ہماری اصل تاریخ ہے
مفرورِ وطن دہشتِ اغیار کے کرتار
ہر فتنۂ مغرب کے وفادار پہ لعنت


ای پیپر