سوات میں مکمل امن کے بعد چیک پوسٹس ختم ہوجائیں گی
16 اپریل 2018

سوات میں آپریشن ضرب عضب کے بعد امن قائم ہو گیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں خوش ہیں لیکن فی الحال پاک فوج علاقے میں موجود ہے۔ 2007ء کے بعد آرٹیکل 245کے تحت پاک فوج نے انتظام سنبھال لیاتھا۔ اور پاک فوج ، پولیس، عوام اورصحافیوں کی قربانیوں کی بدولت قائم ہونے والے امن کے بعد اب انتظامی اختیارات کی بتدریج سول انتظامیہ کومنتقلی کاعمل جاری ہے۔ سوات وادی کے داخلی وخارجی ر استوں پر چیک پوسٹ بنائی گئی تھیں جہاں پر آنے جانے والے لوگوں کو چیک کیا جاتا تھا ۔ اس سے عوام کو کچھ مشکلات تو ہیں مگر ان کی جان و مال کی حفاظت اور امن کے حوالے سے یہ ضروری بھی ہے۔ بعض لوگ اب بھی اس کوشش میں ہیں اور موقع کی تلاش میں ہیں کہ ان کو موقع مل جائے اور وہ ملاکنڈڈویژن سوات میں ایک بار پھر حالات خراب کرنے کیلئے راہ ہموار کریں۔ اس سلسلے میں چند مقامی لوگ چیک پوسٹوں کے حوالے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
ضلع سوات میں بھی چیک پوسٹوں کو عنقریب ختم کرنے اور اختیارات مکمل طور پر سول انتظامیہ کے حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سوات پریس کلب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر مالاکنڈ ڈویژن ظہیر الاسلام اور ڈی ائی جی اخترحیات نے کہا کہ سوات میں 61 چیک پوسٹیں قائم تھی جو اب صرف 6 رہ گئی ہے، جس پر اب ڈیوٹی پولیس اور لیویز دے رہے ہیں۔ ڈویژن کے چار اضلاع کے مکمل اختیارات کو سول انتظامیہ کے حوالے کردیئے ہیں۔ آہستہ آہستہ سوات مالاکنڈکے چیک پوسٹوں کو بھی ختم کردیا جائیگا جبکہ پاک فوج سرحدی علاقوں میں بدستور موجود ہوگی۔کمشنر مالاکنڈڈویژن نے کہاکہ سیلاب ، دہشت گردی اور زلزلہ نے سوات کو کافی نقصان پہنچایا ہے جس کے ازالہ کیلئے یہاں ترقیاتی کام جاری ہیں، پل ، سڑکیں اور سکول بن رے ہیں، انہوں نے کہا کہ بیوٹی فکیشن پراجیکٹ سے مینگورہ شہر کے مسائل حل ہو جائینگے۔ سوات میں سیاحت کے کافی مواقع ہیں اوردنیابھر کے صحافیوں کو سوات کی طرف راغب کرنے کے لئے مواقع پیداکرنا ہوں گے۔ اس سیزن میں 25لاکھ سیاحوں کو سوات لانا ہمارا ہدف ہے۔ سوات کے شاہراہوں کی حالت بہتر بنائی جارہی ہے تاکہ شاہراہوں کے حوالے سے کسی کو بھی کوئی پریشانی نہ ہو۔
ضلع سوات کے عوام کو درپیش مشکلات اور18 فروری 2018ء کے مظاہروں کے تناظر میں پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال کی روشنی میں سوات قومی جرگہ کے اکابرین اور ملاکنڈ ڈویژن کے ملٹری و سول حکام کے مابین جرگے کا انعقاد ہوا جس میں اعلی فوجی حکام، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اور ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ ڈویژن سمیت سوات قومی جرگہ کے 15 مشران نے شرکت کی۔ کمشنر ہاؤس میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں فریقین نے فوری طور پر مؤثر اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا کہ سڑکوں پر قائم چیک پوسٹوں پر عوام کی آمدورفت کو انتہائی آسان اور پختون روایات و اقدار کے مطابق رکھا جائیں گا۔ آرمی کے ہمراہ چیک پوسٹوں پر پولیس بھی تعینات ہوگی جبکہ سرچ آپریشن کے موقع پر بھی ملکی قانون اور علاقے کے سماجی قدروں کا خیال رکھا جائے گا۔
وزیراعظم ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ پاکستان واپس آنا اس کا خواب تھا جس کے بارے میں وہ پچھلے پانچ سالوں سے سوچ رہی تھی۔ا س نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد وطن واپس آجائے گی ۔بقول ملالہ ’2012ء اور آج کے پاکستان میں بہت فرق ہے۔ ملک میں چیزیں مثبت ہو رہی ہیں۔ لوگ متحد ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بھی واپس آرہی ہے۔یہ سب چیزیں بہت مثبت ہیں۔ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آجائے گی اور یہاں بچیوں کی تعلیم کے لیے کام کرے گی ، کیونکہ یہ اس کا بھی ملک ہے اور اس پر اس کا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا ہے۔
ملالہ یوسف زئی کو 2012ء میں سوات میں سکول سے واپسی پر حملہ کرکے زخمی کردیا گیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر صرف 15 برس تھی۔ اسے خواتین کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ملالہ یوسف زئی کو ابتدائی طور پر پاکستان میں ہی طبی امداد دی گئی تھی تاہم بعد میں اسے برطانیہ کے ہسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا۔2014 ء میں ملالہ کو صرف 17 سال کی عمر میں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔اگست 2017ء میں ملالہ نے دنیا کی مشہور جامعات میں سے ایک برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں وہ سیاست، فلسفہ اور معاشیات کے مضامین پڑھ رہی ہے۔ملالہ یوسف زئی مسلسل تین سال دنیا کی بااثر ترین شخصیات کی فہرست میں بھی شامل رہی۔
پاکستان میں خواتین کی تعلیم اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کرنے والی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے ساڑھے 5 سال بعد اپنے آبائی علاقے مینگورہ کا دورہ کیا جہاں ان کے دوست اور رشتہ داروں نے اس کا والہانہ استقبال کیا۔ملالہ یوسف زئی اپنے گھر میں داخل ہوتے ہی آبدیدہ ہوگئی جبکہ اس موقع پر علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ملالہ نے سوات گلی میں آل بوائز کیڈٹ کالج کا بھی دورہ کیا۔
ملالہ کے دورہ کے بارے میں چند مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ملالہ کو فوج نے بلایا ہے اور اس کو خاص کر سکیورٹی دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں عسکری ذرائع کے مطابق ملالہ یوسف زئی کو سکیورٹی فراہم کرنے میں فوج کا کوئی کردار نہیں البتہ شورش سے متاثرہ سوات سمیت کسی بھی علاقہ میں اس کے دورہ کی صورت میں اسے سکیورٹی دی گئی۔ملالہ اپنے طور پر پاکستان آئی ہے اس کو فوج یا کسی دوسرے ادارے نے دعوت نہیں دی تھی۔ جہاں تک سکیورٹی کا تعلق ہے تو ملالہ کو ابھی بھی چھپے ہوئے دشمن سے خطرہ ہے۔ چند دہشت گرد جو ابھی بھی مقامی لوگوں کے بھیس میں چھپے ہوئے ہیں وہ ملالہ پر حملہ کر سکتے تھے۔ اسی لئے اس کو سکیورٹی دی گئی۔


ای پیپر