بنی گالہ میں آپ کو خوش آمدید

16 اپریل 2018

اصغر خان عسکری

فوجی آمر ایوب خان نے جب اقتدار پر قبضہ کیا تو انہوں نے ساتھ ساتھ ایک منافع بخش کاروبار بھی شروع کیا۔وہ کاروبار تھا سیاست دانوں کی نرسری کا۔اسی نر سری میں انہوں نے کئی نامی گرامی سیاست دانوں کو کاشت کیا۔اسی نر سری میں لاڑکانہ کے ذوالفقارعلی بھٹو نامی کمزور پودے سے ان کو زیادہ محبت تھی۔ذوالفقار علی بھٹو بھی ان کو ڈیڈی کہا کر تے تھے۔دن،ہفتے،مہینے اور سال گزرتے گئے۔کئی سالوں بعد اسی نر سری کا کمزور پودہ ذوالفقار علی بھٹو تناور درخت بن گیا۔انہوں نے ایوب خان کے خلاف بغاوت کی۔سیاست میں انہوں نے اپنی جڑیں مضبوط کی ہو ئی تھیں۔ان کے پاس روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ بھی تھا۔جس کے حصول کے لئے ان کو سیاسی پارٹی کی ضرورت تھی۔سیاسی طور پر وہ بالغ ہو چکے تھے۔اس لئے کہ ایوب خان کی سیاسی نرسری سے وہ تربیت یافتہ تھے۔لہٰذا اپنی سیاسی پارٹی بنا لی۔ملک کے بہت سارے منجھے ہوئے سیاست دانوں کو انہوں نے ایک چھتری تلے جمع کیا۔بھرپور جدوجہد کے بعد انہوں نے قومی انتخابات میں کامیابی حا صل کی اور ملک کے وزیر اعظم منتخب ہو ئے۔اس دوران ملک بھی دو لخت ہوا۔لیکن وہ پیچھے کی بجائے آگے دیکھنے والے رہنما تھے۔وزارت عظمیٰ کے دوران ان کا سامنا جنرل ضیاء الحق سے ہوا۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ جنرل ضیا ء الحق ،ذوالفقار علی بھٹو کے اتنے ہی وفادار تھے جتنا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کے تھے۔پھر جنرل ضیاء الحق نے ذولفقار علی بھٹو کے ساتھ وہی سلوک کیا ،جو انہوں نے ایوب خان کے ساتھ کیاتھا۔جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو بر طرف کیا ۔ان کو جیل میں ڈالا۔ان پر مقدمہ بنا،جو ملک کی سب سے بڑی عدالت میں چلا ۔سب سے بڑی عدالت نے ان کو موت کی سزا سنا دی۔انہوں نے سزا کے خلاف اپیل کر نے سے انکار کیا۔شنید ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو ان کے وکیلوں اور قریبی دوستوں نے مشورہ دیا تھا کہ وہ سزا کے خلاف اپیل نہ کریں،اس لئے کہ فوجی آمر ذوالفقار علی بھٹوکو تختہ دارپر لٹکا نہیں سکتے۔ان کو یقین دلا یا گیا تھا کہ عوامی دباؤ اتنا ہے کہ ضیاء الحق اس کے سامنے بے بس ہے۔بعض لو گوں کا تو خیال ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو یہاں تک باور کرایا گیا تھا کہ اگر حکومت آپ کو پھانسی دے گی تو اس دن عوام جیل پر ہلہ بول دیں گے۔جیل کی سلا خیں توڑ کر آپ کو بحفاظت حکومتی چنگل سے آزاد کردیں گے۔پھر وہی ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہو ئی لیکن کو ئی بھی جیل پر حملہ کر نے کے لئے باہر نہیں نکلا۔
اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے بھی ایوب خان کی طر ح سیاسی نر سری کا کاروبار شروع کیا تھا۔ ضیاء الحق کی سیاسی نر سری میں لاہور کے چوہدری برادران (چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی)اور شریف برادران (میاں نو از شریف اور میاں شہباز شریف)کی خوب سیاسی تر بیت ہو رہی تھی۔جب ضیا ء الحق حیات تھے تو شریف برادران کا پلڑا بھاری تھا ۔اس لئے کہ اس نر سری کے دربان خا ص جنرل جیلانی کو شریف برادران کا پھول زیادہ پیارا تھا۔جب ضیا ء الحق کا طیارہ ہوا میں پھٹاوہ اور ان کے قریبی ساتھی ہوا میں ہی شہید ہوئے۔ایک دو بر س میاں نوا ز شریف اسلام آباد کی فیصل مسجد میں جنرل ضیا ء کی قبر پر سالانہ حا ضری دیا کرتے تھے۔لیکن چند سال بعد یہ سلسلہ روک دیا گیا۔ جنرل ضیا ء الحق کے صاحبزادے اعجاز الحق نے بھی میاں نواز شریف سے راہیں جدا کر لی ہیں۔
پھر جنرل مشرف نے نواز شریف کے خلاف بغاوت کی۔حالانکہ وہ نوا ز شریف کے اسی طر ح وفادار تھے ،جس طرح ضیا ء الحق ،ذوالفقار علی بھٹو کے تھے۔جنرل مشرف نے نو از شریف کو بھائی سمیت گرفتار کیا۔ان کو جیل میں ڈالا۔پھر ان کے ساتھ معاہدہ کرکے جلا وطن کر دیا۔ جنرل مشرف نے بھی جنرل ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق کی طر ح سیاسی نر سری کا کاروبار جاری رکھا۔پیپلز پارٹی سے محب وطن لوگ ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔مسلم لیگ کا پورا جتھہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پر ویز الٰہی کی قیادت میں ان کے ساتھ شامل ہوا۔ سندھ سے ایم کیوایم اس نر سری میں شامل ہوئے۔پھر حالات نے پلٹا کھایا ۔جنرل مشرف ایوان صدر سے گارڈ آف انر لے کر رخصت ہوئے۔میاں نواز شریف نے ان پر سنگین غداری کا مقدمہ درج کیا۔جس سے ڈر کی وجہ سے وہ ملک سے فرار ہو گئے۔
اب جب میاں نواز شریف اقتدار میں آئے تو انہوں نے پھر جنرل مشرف کی سیاسی نر سری سے سیاست دان ادھار لے لئے۔ان کو منتخب کرایا۔ان کو وفاق میں وزارتیں دیں۔جب نو از شریف نااہل ہوئے تو انہی مشرف کے ساتھیوں نے عدالت کو سینگوں پر لیا۔انہوں نے اسی طر ح میاں نوا ز شریف کا دفاع کیا ،جس طر ح وہ پر ویز مشرف کا کیا کرتے تھے۔
گزشتہ دس سالوں سے ایک نامعلوم سیاسی نر سری قائم ہے۔وہاں سے مو سمی سیاست دانوں کی آبیاری ہو رہی ہے۔مگر اس نر سری سے تر بیت یافتہ سیاست دانوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ یہاں سے تربیت حا صل کر نے کے بعد ریوڑ کی صورت میں بنی گالہ کی پہاڑی کی طرف ہانکے جا رہے ہیں۔ریوڑ میں شامل تمام مو سمی سیاست دان بھی خوشی خوشی بنی گالہ کی طرف رواں دواں ہیں۔ریوڑ کا رکھوالا بھی خوش ہے کہ ریوڑ میں سے کوئی بغاوت کی صدا بلند نہیں ہو رہی ہے۔جبکہ بنی گالہ چراگا ہ کا مالک بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہا ہے اور ریوڑ کو تنگئ چراگاہ کے با وجود خوشی سے قبول کر رہا ہے۔ مانا کہ بنی گالہ میں سبزہ بہت ہے۔جگہ بھی کھلی ہے۔لیکن اس ریوڑ اور اس کے ہانکنے والے پر کیا اعتبار؟
اگر کل کو بنی گالہ کا مالک اقتدار میں آنے کے بعد ان کی تو قعات پر پورا اترنے میں کامیاب نہیں ہوتا،تو پھر وہ یہی ریوڑ لے کر کسی اور چراگاہ کی طر ف لے جائیں گے۔ اگر ایسا کیا گیا۔تو پھر ممکن ہے کہ بنی گالہ چراگاہ کا سبزا بھی ختم ہو جائے۔اس کا احاطہ بھی سکڑ جائے۔پھر یہاں سر سبز و شاداب چراگاہ نہیں بلکہ ایک مزار ہوا کرے گا۔جس پر دھمال ڈالنے کے لئے چند ملنگ ہمہ وقت موجود ہونگے، جبکہ سالانہ عرس کے لئے بھی کثیر تعداد میں مریدین آئیں گے۔چند دن لنگر کھا کر واپس چلے جائیں گے۔مگر افسوس کہ یہاں ہر یالی نہیں ہو گی۔یہاں خوشی کی بجائے اداسی ماتم کناں ہو گی۔ بنی گا لہ کی چراگاہ کے مالک کو معلوم ہو نا چاہئے کہ ان کی چراہ گاہ میں آنے والا ریوڑ گزشتہ 70 سالوں سے سفر میں ہے ۔یہ ہر 5 سال بعد چرا گاہ بدل دیتے ہیں۔ بنی گالہ میں آنے والے سیاسی ریوڑ کو خوش آمدید ،بس دعا ہے کہ ان کی آخری آرام گاہ بنی گالہ ہی ہو۔

مزیدخبریں