ڈاکٹر اسرار احمدؒ : اکیسویں صدی کے شاہ نعمت اللہ
16 اپریل 2018 2018-04-16

میں اس لحاظ سے اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ عمر کے اولین دور میں ہی نیک ، متقی اور پرہیز گار ایسے لوگوں کی رفاقت میسر آئی جس کی بدولت جسم وروح کو گناہوں کی زنگ آلود آلائشوں سے محفوظ رکھنے میں مدد حاصل ہوئی ۔ انکی قربت جہاں باعث بر کت تھی وہاں ان کی نظر کرم کی وجہ سے آنے والے دور میں مجھ جیسے نکمے،جاہل اور سست انسان کو بھی عزت اور شہرت نصیب ہوئی ۔ یہ میری زندگی کا مشکل ترین دور تھا جب میری والدہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور جن کے علاج کے لئے مجھے کسی بھی حد تک جانا پڑتا، اس سے دریغ نہ کرتا۔ صبح اردو بازار میں واقع پرانی کتابوں کے سٹال پرکتابیں بیچتا اور پھر پوری رات ٹیمپل روڈ کے ہوٹل پر چائے بناتا،لیکن اس کے باوجود بھی شام پانچ بجے سے رات گیار ہ بجے تک کا وقت میسر آجا تا۔ اسی دوران ایک ٹی۔وی چینل پر معروف دینی سکالر ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کا درس قرآن بہت شوق سے دیکھتا تھا۔ایک روز ایسے ہی دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ ڈاکٹر اسرار کو خط لکھا جائے اور اس میں اپنی مصیبتوں کا احوال بیان کرتے ہوئے جو وقت میسر آتا تھا اس میں کسی ملازمت کی درخواست کی جائے تاکہ مزید کچھ رقم جمع ہو سکے اور امی جان کا علاج مزید بہتر طور پر ہو سکے۔ لہٰذا اسی روز خط لکھا اور پوسٹ کر دیا۔ ابھی چار روز بھی نہ گزرے تھے کہ مجھے انجمن خدام القرآن کے ناظم اعلیٰ کی کال موصول ہوئی جس میں انہوں نے مجھے جز وقتی ملازمت کی پیشکش کی اور یوں ڈاکٹر صاحب ؒ کے ساتھ آٹھ سالہ رفاقت کاآغاز ہوا۔
میری ذمہ داری میں ڈاکٹر صاحب ؒ کی ٹیلی فون کالز سننا اور ملانا شامل تھا ، اس لئے مجھے انہیں بہت قریب سے دیکھنے کا موقع میسر آیا۔ان کی زند گی کسی نمو د و نما ئش سے پاک تھی،قرآن اکیڈمی کے ایک کمرے میں رہا ئش پذیر تھے،ایک سٹڈی ٹیبل ، صوفہ کم بیڈ اور پرا نا فریج اس کمرے کی کل ملکیت تھا۔آپ کی بے انتہا خو بیوں میں ایک با ت یہ بھی تھی کہ آپ نے اپنے خاندان سے تما م جا ہلی رسو مات کا خا تمہ کیا اور پھر اپنے رفقا ء کار اور تنظیمی سا تھیوں کو بھی ان رسو مات کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دینے کو کہا جس میں آپ کا فی حد تک کامیاب بھی ہو ئے۔جہیز جیسی لعنت کے خاتمے کے لئے آپ نے مو ثر اقدا مات کئے اور مسجد میں نکاح کے لئے لوگوں کو تر غیب دی۔آپ نے اپنی تمام زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ارشادات مبارک کے حکم کے مطابق بسر کی اور لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیتے رہے۔ ڈاکٹر صاحبؒ کی زندگی اسو ہ حسنہ کا بہترین نمو نہ ہے جس میں قرآن کی محبت کُوٹ کُو ٹ کے بھری تھی۔ ڈاکٹر صاحب ؒ کا کمال یہ تھا کہ وہ کئی سفید پوش لوگوں کی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے ایسے طریقے سے امداد فر ماتے کہ کسی کو معلوم نہ ہوتا۔ مجھے بھی یہ شرف حاصل ہے کہ زندگی میں سب سے پہلی موٹر سائیکل کی رقم ڈاکٹر صاحب ؒ نے اپنی جیب سے دی۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی شخصیت اسی قبیلے سے تعلق رکھتی ہے جنہوں نے اپنی ساری زند گی قال اللہ و قال الر سولؐ کی صدائیں لگا تے لگا تے اور لوگوں کو کتاب ہدایت(قرآن حکیم)کی طرف بُلاتے گزار دی۔آپ جب قرآن کی تفسیر بیان کر تے تو مجھ جیسے بہت سے لوگوں کے زنگ آلودہ دل ،خشیت الٰہی سے موم ہو جا تے ،عجب سی پُر کیف سکو نت طاری ہو جا تی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کی پر ورش ایسے دینی گھرا نے اور ماحول میں ہو ئی جہاں اسلام سے محبت اور قرآن حکیم سے شغف معمولات زند گی کا حصہ تھا،اسی گھریلو ماحول اور خاندانی پس منظر کا کما ل تھا کہ ڈاکٹر صاحب ؒ نے ایم۔اے اسلا میات کر نے کا فیصلہ کیا۔1965ء میں کرا چی یونیورسٹی سے اس امتحان میں اول پو زیش حا صل کر کے گولڈ میڈل حا صل کیااور اس کے بعد قرآن اور اقبال کو گہری نظر سے پڑھنا شروع کیااوران دو اہم علوم کی تحصیل کے لئے جُت گئے اور اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے مرکزی انجمن خدام القرآن کی بنیا د رکھی جس کے پلیٹ فام سے قرآنی دروس کا لا متنا ہی سلسلہ شروع کیا۔جس کا مقصدعوام با لخصوص نو جوانوں کو عر بی زبان اور قرآنی تعلیمات سے روشناس کر انا تھا۔ ڈاکٹر صاحبؒ کا انداز علمی اور استدلال انتہائی معقول اور منطقی ہو تا تھا جس کی وجہ سے اللہ جی کے خصوصی کرم کی بدو لت قرآنی دروس میں روز بروز اضافہ ہو تا چلا گیا اورملک عزیز کے طول و عرض میں اس کے ثمرات دیکھنے کو ملے جس کے نتیجے میں ڈاکٹر صاحب نے میڈیکل پر یکٹس کو خیر باد کہہ کر اپنا تمام وقت اس تحریک کو دینا شروع کر دیا اور ساتھ ہی غلبہ دین کے لئے تنظیم اسلامی کا قیام بھی عمل میں لا ئے اور دین حق کو قا ئم کر نے کی جدو جہد کا آغاز کیا۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی نما یا ں خصوصیت قرآن سے وابستگی ہے ،قرآن کی تعلیمات کو عام کر نے میں جو لگن انہوں نے ظاہر کی وہ کچھ ہی لوگوں کے نصیب میں ہو تی ہے ۔قرآن کا درس دینے میں جو محنت اور تسلسل انہوں نے دکھا یا بر صغیر کی تا ریخ میں سب سے نما یاں نام انہی کاہے ۔ آپ ؒ ایک صاحب کردار اور قلندرانہ اوصاف کے انسا ن تھے۔جس چیز کو حق جانا بلا خوف و خطر اس پر ڈٹے رہے،اپنی بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی اور اس کے نتیجے میں آنے والے مصائب اور مشکلا ت کی پروا نہیں کی،اور اس کے لئے جو قر با نی دینی پڑی اسے دینے سے گریز نہیں کیا۔ان کی تقا ریر اور خطبا ت میں علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار نگینوں کی طرح چمکتے ہیں،ملت اسلامیہ کی شو کتِ رفتہ پر اقبال نے جن جذبات کا اظہا ر کیا اور اسے دوبارہ پا لینے کا جو حسین خواب دیکھا تھااس کے لئے بشا رتیں سنا ئیں،امید کی کر نیں بکھیریں اور سوئے ہوئے لوگوں کو جگا نے کے لئے نغمہ سرا ئی کی،اقبال کے اسی مشن کو ڈاکٹر صاحب آگے لے کر بڑھے اور سچ تو یہ ہے کہ اس کا خوب حق ادا کیا۔میرے نزدیک ڈاکٹر صاحب ؒ کا شمار اکیسویں صدی کے شاہ نعمت اللہ کے طور پر ہوتا ہے ۔ آپ نے عالم اسلام کے حوالے سے جو کچھ کہا وہ پورا ہو تا دکھائی دے رہا ہے اور بالخصوص عالم عرب کے حوالے سے لفظ بہ لفظ واقعات حقیقت میں تبدیل ہوتے نظرآرہے ہیں جس کا واضح ثبوت حالیہ دنوں میں سعودی ولی عہد کا یہ بیان ہے کہ جو اسرائیل کا دشمن ہے وہ ہمارا دشمن ہے اور یہی چیز اہل عرب کو لے بیٹھے گی ۔
وفات سے ایک دن پہلے آپ ؒ نے جو دعا منگو ا ئی اس میں سوز و کر ب میں لپٹے الفاظ تھے جو دل کی گہرا ئیوں سے نکل کر آنسوؤں کی صورت آپ کی لرزتی زبان سے نکل رہے تھے۔ وہ الفاظ یہ تھے ’’کُل حمد،کُل شکر،کُل تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں ہدا یت بخشی،اور ہم ہر گز ہدایت یا فتہ نہ ہوتے اگر اللہ ہمیں ہدا یت نہ دیتا۔کبھی بادشاہ پر احسان نہ کر نا کہ تم اس کی خدمت کر رہے ہو ،بلکہ با دشاہ کا احسان مانو کہ اس نے تمہیں اپنی خد مت کے لئے قبول کیا۔اے اللہ !جو ہدا یت تو نے ہمیں بخشی ہے اس پر ہمیں استقا مت نصیب فر ما،اے اللہ !اپنے ہر اس بندے کی مدد فر ما جو تیرے دین کی خدمت کر رہا ہے،خواہ وہ کو ئی بھی ہو اور کہیں بھی ہو۔اے اللہ !ہمیں اپنی پناہ میں رکھ،ہما رے گنا ہوں کو معاف فر ما،ہماری خطا ؤں کو در گزر کر۔اے اللہ !اپنی جناب میں اس طرح حا ضر کر کہ تو ہم سے راضی ہو۔آمین‘‘۔


ای پیپر