15 ستمبر 2018 2018-09-15



قیدی اپنی بیوی کے جسد خاکی کا دیدار اور نماز جنازہ میں شرکت کے لیے قانون کے تحت دو تین روز کے پیرول پر راولپنڈی جیل سے لاہور اپنے گھر آیا۔۔۔ یہ وہ سہولت ہے جو پاکستان یا دنیا کے کسی بھی ملک کے اندر قید و بند کی سزا بھگتنے والے مجرم کو حاصل ہوتی ہے۔۔۔ اس ’ مجرم ‘ پر بھی کوئی خاص عنایت نہ کی گئی تھی۔۔۔ لیکن اس کی بیوی کی موت عالمی سطح کی خبر بن چکی تھی۔۔۔ پاکستان کے اندر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اک افسردگی سی چھا گئی تھی۔۔۔ حالانکہ مرحومہ گزشتہ سوا برس سے کینسر کے موذی مرض کی شکار لندن کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھی۔۔۔ مہینوں سے مصنوعی تنفس کے سہارے زندہ چلی آ رہی تھی۔۔۔ اس دوران میں اس پر دل کا حملہ بھی ہوا۔۔۔ بچ جانے کی امید کم کم تھی۔۔۔ اس کامجرم ‘ شوہر کی پیرول پر رہائی کے بعد جس کی درخواست پر اس نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس سے رحم کی بھیک مانگنے کا تاثر پیدا ہوتا تھا۔۔۔ اس کے بھائی نے اپنی جانب سے درخواست پیش کر کے قانون کی ضرورت پوری کی ۔۔۔ وہ جیل سے نکلا تو فطری طور پر غم واندوہ کی تصویر تھا۔۔۔ یہ تصویر وائرل ہو گئی۔۔۔ جسے دیکھ کر کئی آنکھیں اشک بار ہوتے ہوتے رہ گئیں۔۔۔ ہمدردی کی زور دار لہر اٹھی۔۔۔ اس کے گھر میں جو لاہور کے ایک نواحی علاقے میں قدرے دور کے مقام پر واقع ہے ’ مجرم ‘ سے ملنے اور اظہار تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔۔۔ ٹریفک کا بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ’ مجرم ‘ سے ملاقات کی خواہش رکھنے والوں میں عام لوگوں کی غیر معمولی تعداد کے علاوہ بڑے بڑے سیاستدان و اراکین پارلیمنٹ اور غیر ملکی سفیر بھی تھے۔۔۔ سب اس کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے تھے بلڈ پریشر کے عارضے نے گرفت میں لے رکھاتھا۔۔۔ ڈاکٹر آرام کا مشورہ دے رہے تھے۔۔۔ کیونکہ اگلے روز اہلیہ کی نماز جنازہ اور تدفین کے دل شکن مراحل سے گزرنا تھا۔۔۔ اس کے باوجود یہ مجرم تھوڑی دیر کے لیے گھر کے صحن میں بیتابی کے کے ساتھ انتظار کرنے والے جم غفیر کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ان کے سامنے آیا تو لوگوں پر عجیب کیفیت طاری ہو گئی ۔۔۔ ہر ایک زیادہ قریب ہونے اور مصافحہ کرنے کا خواہشمند تھا۔ جو ممکن نہ تھا۔۔۔ لیکن بے تابی اور بے چینی کی کیفیت دیدنی تھی۔۔۔ ’ مجرم ‘ جلد واپس اپنے کمرے میں چلا گیا لوگ اس کی مجبوری کو سمجھ رہے تھے۔۔۔ مگر غم اور ہمدردی کے ملے جلے جذبات سے لبریز اپنے دلوں پر بھی قابو نہ پا رہے تھے۔۔۔ ایک بڑی تعداد میں ’’وی آئی پیز‘‘ بھی ان میں شامل تھے۔۔۔ ان میں سے کچھ تو ملک و قوم کے خاصان خاص میں سے تھے۔۔۔ سابق صدر مملکت، دو سابق وزرائے اعظم پارلیمنٹ کے بعض جید اراکین سفیران گرامی اور صحافیوں کی بڑی تعداد پیدل اور موٹر سائیکلوں پر آنے والوں کے ساتھ وہ بھی تھے جو کروڑوں کی گاڑیوں میں سوار ہو کر آئے تھے۔۔۔ یہاں غریب و امیر اور خاص و عام کی تمیز باقی نہ رہی تھی۔۔۔ خاصان میں سے کچھ وہ بھی تھے جو ’ مجرم ‘ کے ساتھ زندگی بھر کی ذاتی اور قومی امور کی قربت رکھتے تھے۔۔۔ ایسے بھی تھے جن کا شمار اس کے مخالفین میں ہوتا ہے۔۔۔ سب کے جذبات ایک تھے۔۔۔ ان میں سے بعض کے ساتھ چند لمحوں کی بالمشافہ ملاقات بھی ہوئی۔۔۔ دوست ملکوں کے سفیر حضرات بھی آئے اور ملاقاتیں کیں۔۔۔ چشم فلک نے ایسا مجرم کم دیکھا ہو گا جسے اس کی بیٹی اور داماد کو بالترتیب دس، سات اور ایک برس کی قید اور بھاری جرمانوں کی سزا دے چکی ہو مگر دلوں میں بسا ہوا تھا۔۔۔ رات ہو چکی تھی۔۔۔ کئی لوگوں نے غم کی اس گھڑی پر اس کے گھر پہنچ ہی جانے کو غنیمت جان کر واپس جانا شروع کر دیا تھا۔۔۔ کچھ رات گئے تک بیٹھے رہے۔۔۔ اور کئی ایسے تھے جو صحن کی گھاس اور بڑے دروازے کی سڑک پردراز ہو گئے کہ صبح ہو گی۔۔۔ بیگم صاحبہ کی میت آئے گی اسے اپنے ہاتھوں سے وصول کریں گے یا یہاں سے سیدھے ہوائی اڈے پہنچے جائیں اور میت کے ساتھ دوبارہ لوٹ آئیں گے۔۔۔ اگلے روز شام 5 بجے نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد گھروں کو واپس جانے کے بارے میں سوچ لیں گے۔
صبح ہوئی۔۔۔ اخبارات ، خبروں اور تصویروں سے بھرے ہوئے تھے۔۔۔ ہر ایک کے اداریے اور بہت سے کالموں کا عنوان ’ مجرمکی بیوی کی موت پر اظہار رنج و افسوس کے ساتھ مرحومہ کے اوصاف حمیدہ کا ذکر اور تحسین تھی۔۔۔ اس نے ایک روایتی مشرقی بیوی کی سی وفا شعاری کے علاوہ جس بہادری، غیر معمولی جرأت اور استقامت کے ساتھ اچھے اور برے حالات میں شوہر کا ساتھ دیا تھا۔۔۔ ’جرائم‘ کی پاداش میں اسے ملنے والی ہر سزا اور آزمائش کے موقع پر بپھری ہوئی شیرنی کی مانند آن کھڑی ہوتی تھی۔۔۔ اچھے دنوں میں اور ’جرائم‘ کے ارتکاب یا قومی فرائض کی ادائیگی کے دوران اعلیٰ
درجے کی رفاقت اور مشیر خاص کے فرائض انجام دیتی تھی۔۔۔ تقریباً تمام اخبارات کے صفحے ان باتوں کے تذکرے سے بھرے ہوئے تھے۔۔۔ ایک گھریلو عورت ہر قدم پر ’ مجرم ‘ شوہر کا ساتھ دینے کی وجہ سے قومی ہیرو کا درجہ اختیار کر چکی تھی۔۔۔ جمعہ 14 ستمبر کو طلوع آفتاب کے بعد پی آئی اے کا لندن سے پرواز بھرنے والا طیارہ پیرول پر عارضی طور پر رہائی پانے والے قیدی کی بیوی کی میت کے تابوت کو لاہور کے ہوائی اڈے پر اترا تو تمام کے تمام ٹیلی ویژن چینل غم بھری دھنوں اور اینکروں کے دلسوز جملوں کے ساتھ ملک بھر کے عوام اور غیر ممالک میں آباد پاکستانیوں کو واقعے کا چشم دید منظر دکھا رہے تھے۔۔۔ یوں پورے کا پورا پاکستان مجلس غم کی صورت بنا ہوا تھا۔۔۔ مگر وطن عزیز کے اصلی اور ریاستی طاقت کے مالک حکمرانوں کا نئے حواریوں کے ساتھ ایک بڑا طبقہ وہ بھی تھا جن کے ایما پر ’ مجرم ‘ کو سزا دی گئی تھی۔۔۔ ان سب کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔۔۔ وہ مطمئن تھے کہ مجرم کو کیفر کردار تک پہنچا دیا ہے۔۔۔ جو کسر باقی رہ گئی ہے وہ بھی پوری ہو جائے گی۔۔۔ بیوی کی موت واقع ہو جانے کی وجہ سے یہ ایک وقتی اور جذباتی لمحہ ہے جو جلد گزر جائے گا۔۔۔ اس کے بعد ہم ہوں گے اور ہمارا راج مجرم جو ہمارا ہے ’’عبرت‘‘ کا نشان بنا رہے گا۔۔۔ اس کے برابر کی سزا کاٹنے والی جواں عمر بیٹی بھی جو ماں کی علالت کے بعد باپ کے شانہ بشانہ آن کھڑی ہوئی تھی لمبی لمبی تقریریں کرنے لگ گئی تھی۔۔۔ ہمارے خلاف جرائم میں حصہ دار بننے لگی تھی۔۔۔ اس کی زندگی کو بھی جہنم زار میں تبدیل کر کے رکھ دیں گے۔۔۔ مگر 3 محرم الحرام بمطابق 14 ستمبر 2018ء بروز جمعہ کی اس صبح پیشتر فرزندان لاہور گردو نواح کے شہروں ، قصبات اور دیہات میں بسنے والے لوگ یہاں تک کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے لے کر پشاور کے کئی باسی جاتی عمرہ کی جانب رواں دواں تھے ۔۔۔ نماز جنازہ کے وقت کا اعلان بار بار کیا جا رہا تھا۔۔۔ غمزدہ لوگوں کی بڑی بڑی تعداد نے قبل از دوپہر جنازگاہ کا رخ کر لیا مبادا دیر ہو جائے۔۔۔ وقت پر پہنچ نہ پائیں۔۔۔ نماز کی ادائیگی کے لیے مناسب جگہ نہ مل پائے۔۔۔ دوپہر بارہ بجے سے پہلے گاڑیوں کی لمبی قطار لگ چکی تھی۔۔۔ پیدل آنے والوں کا شمار ممکن نہ تھا۔۔۔ جاتی عمرہ سے دو میل ادھر شہر کی جانب اڈا پلاٹ سے آگے گاڑیاں لے کر جانا سخت مشکل ثابت ہورہا تھا۔۔۔ ان میں سوار کئی بزرگ اور نوجوان اپنی گاڑیوں کو سڑک کے کنارے کھڑا کر کے والہانہ جذبے کے ساتھ آگے کی جانب پیدل چلنا شروع ہو گئے تاکہ جاتی عمرہ کی مسجد میں پہنچ کر نماز جمعہ ادا کریں گے پھر تین گھنٹے بعد نماز جنازہ میں شرکت کے لیے درختوں کے جھڑمٹ میں بہنے والے نالے کے اس پار شریف میڈیکل کمپلیکس کے وسیع میدان کا رخ کر لیں گے تا کہ مناسب جگہ مل سکے۔۔۔ یہ تو بوڑھوں اور جوانوں کا حال تھا مگر لاہور کے اطراف و اکناف سے چلی آنے والی خواتین کی حالت دیدنی تھی۔۔۔ وہ بھی کثیر تعداد میں امڈ آئی تھیں۔۔۔ دھوپ تلے دو تین میل کی مسافت کوئی مسئلہ نہ تھا۔۔۔ بس میت کی ایک جھلک دیکھنے کی تمنا اور لمحہ بھر کے لیے مریم نواز سے ملاقات کی آرزو انہیں بیتاب کیے جا رہی تھی۔۔۔وہ تیزی کے ساتھ جاتی عمرہ کی جانب چلی جا رہی تھیں۔۔۔ کچھ تو دوڑ لگانے کی کوشش بھی کر رہی تھیں۔۔۔ نماز جنازہ کا وسیع و عریض میدان 4 بجے سے پہلے بھر چکا تھا۔۔۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے وفود اور ان کے قائدین بھی آنا شروع ہو گئے۔۔۔ یہ مسلم لیگ (ن) کا اجتماع نہ تھا۔۔۔ لگتا تھا کہ پاکستانی قوم امڈتی چلی آ رہی ہے۔۔۔ ’ مجرمکی بیوی کی نماز جنازہ کی خاطر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا۔۔۔ سوا پانچ بجے کے قریب مولانا طارق جمیل نے اللہ اکبر کی پہلی تکبیر بلند کی تو انسانوں کا اژدہام ایک دم صف آراستہ ہو گیا۔۔۔ سسکیاں لینے اور آنسوؤں پر بمشکل ضبط پاتے یہ ہزار ہا فرزندان پاکستان اپنے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے اور سی پیک کا امریکہ و بھارت میں تھراتھراہٹ پیدا کرنے والا منصوبہ شروع کرنے والے سابق وزیرعظم کی بیگم کلثوم نواز کی مغفرت اس کی بلندی درجات اور سزا یافتہ شوہر و بیٹی سمیت پورے خاندان کے لیے صبرو استقامت کی دعائیں مانگتے ہوئے اللہ رب العٰلمین کے حضور ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔۔۔ بعد کی خبروں سے معلوم ہوا کہ اسی روز بعد از مغرب عظیم دوست ملک جمہوریہ ترکی کے وزیر خارجہ نے بھی میاں نواز شریف کے پاس آ کر اپنے صدر اور افراد قوم کی جانب سے تعزیت پیش کی ۔
قصور اس مجرم کا کیا ہے۔۔۔ جیل میں اسے کس گناہ کی پاداش میں ڈالا گیا ہے۔۔۔ اتنی بڑی مصیبت اس پر کس ریاستی طاقت نے مسلط کی ہے۔۔۔ اس کی تفصیلات سے ملک کا بچہ بچہ واقف ہے ۔۔۔ اس کا نوحہ لکھنے کی حاجت نہیں عوام نے تین بار اپنا وزیراعظم منتخب کیا۔۔۔ تینوں بار بزور طاقت مند اقتدار سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔۔۔ کرپشن کے اتنے زیادہ الزامات لگائے گئے ہیں کہ شاید دنیا کے کسی اور حکمران یا سیاستدان کے نصیب میں نہ آئے ہوں۔۔۔ ثابت مگر ایک بھی نہیں ہوا۔۔۔ سپریم کورٹ سے لے کر احتساب عدالت تک کسی کو سراغ نہ ملا۔۔۔ سزا اور سخت سزا دینا چونکہ مقصود تھی اس لیے پہلے اقامہ جیسے مضحکہ خیز الزام کی پاداش میں ملک کے سب سے بڑے منتخب عہدے سے برطرف اور نا اہل قرار دے دیا گیا۔۔۔ اس پر صبر نہیںآیا تو ماتحت احتساب عدالت کے ایک جج مسمی محمد بشیر کے قلم سے ناقص انگریزی اور ’’پھوکی‘‘ قانونی زبان میں فیصلہ صادر کر دیا گیا۔۔۔ حکم نازل ہوا کہ نواز کو دس مریم کو سات اور اس کے شوہر صفدر کو ایک سال کی قید با مشقت مع بھاری جرمانوں کے پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔۔۔ ساتھ ہی جج صاحب لکھنے پر مجبور ہوئے کرپشن کا ثبوت تمام تر ریکارڈ کی چھان بین اور شہادتوں کے باوجود نہیں ملا۔۔۔ مگر لندن کے اثاثے آمدنی سے زیادہ ہیں۔۔۔ بیچارے جج صاحب بتانے سے قاصر رہے کہ کس کی ملکیت اور کتنی مالیت کے آثاثے اور کونسی آمدنی جس کے ساتھ تفاوت پایا جاتا ہے۔۔۔ تو پھر اصل جرم کیا ہے۔۔۔ وہی جو لیاقت علی خان کا تھا۔۔۔ وہ قتل ہوا۔۔۔ سہروردی سے اس کا ارتکاب ہوا اٹھا باہر پھینک دیا گیا اور بھٹو کو اسی کی پاداش میں قتل کے الزام کی آڑ میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔۔۔ اس کے بعد محمد خان جونیجو اور بینظیر بھٹو بھی تختہ مشق بنیں ۔۔۔ جونیجو گھر بیٹھا دم گھٹ گھٹ کر مر گیا اور بینظیر بم دھماکے کی نذر ہو گئیں۔۔۔ نواز شریف قدرے سخت جاں ثابت ہوا ہے۔۔۔ برطرفی اور جیل کی سزا تو بھگت رہا ہے مگر اس کے باوجود گلے میں پھنسا ہوا ہے۔۔۔ نگلا جا رہا ہے نہ انڈیلا۔۔۔ یہ سارے مجرم قائداعظم کے سول بالادستی کو یقینی بنانے والے نظریہ جمہوریت کی پاسداری کے لیے ڈٹ گئے تھے۔۔۔ جبکہ انہیں نشان عبرت بنانے والوں کہ زبردستی کی ریاستی طاقت اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں اول اول مارشل لاء بہت مرغوب تھا۔۔۔ اس کے تجربوں کی ناکامی کے بعد انہوں نے میجر جنرل سکندر مرزا کے کنٹرول جمہوریت کو حرز جاں بنا لیا ہے۔۔۔ اصل جنگ اس ملک میں قائداعظم اور سکندر مرزا کی روحوں کے درمیان جاری ہے زمانے کے ساتھ کردار بدلتے رہتے ہیں۔


ای پیپر