اپنی ہی غفلت کی بدولت
15 ستمبر 2018 2018-09-15



نیا ہجری سال (طلوع ہلال کی مسنون دعا کے ساتھ) مملکت خداداد پاکستان، اہالیان پاکستان اور امت مسلمہ کے لیے امن وایمان ، سلامتی واسلام کی برکات ہمراہ لائے۔ ان اعمال کی توفیق عوام اور حکمرانوں کو عطا ہو جورب تعالیٰ کی رضا اور محبوبیت پالینے کا ذریعہ بن جائیں۔ (آمین)۔ ہماری خوشیاں اور غم،ہماری تہذیب اور اقدار رب کائنات کے عطا کردہ پیمانوں کی بنا پر ایک نرالی شان کے حامل ہیں۔ ہمارے نئے سال کی آمد، ہاؤ ہو، ہلا گلا،مصنوعی خوشیوں کی تلاش میں شراب وشباب سے ماوراء ہے۔ پاکیزگی، شائستگی ، متانت، خداشناسی اور خودشناسی لیے ہوئے ہے۔ سال نو کا آغاز ہجرت سے وابستہ ہے۔ ہجرت ، ایمان کی خاطر قیمتی ترین، محبوب ترین املاک، مال ومتاع زندگی چھوڑ کر تن بہ تقدیر نکل پڑنا۔ اللہ کے گھر کی سرزمین ابراہیمؑ واسماعیلؑ کے بیٹے محمدؐ پرتنگ ہوگئی۔ توحید، رسالت ، آخرت پر ایمان جرم ٹھہرا دیا گیا۔ تو آپؐ نے ہجرت کرلی۔ رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے اسوۂ رسولؐ ہرہجری سال کے آغاز پر تربیت کا اہم ترین باب تازہ کرواتا ہے۔ ہجرت کے نتیجے میں ریاست مدینہ، وجود میں آئی۔ دنیا کو وہ منفرد دستور حیات عطا ہوا جو جبرائیل امین خالق کائنات کی طرف سے لے کر اترتے رہے۔ 23سال مسلسل انسانیت کو ہرشعبہ زندگی کے لیے ربانی پیمانے عطا ہوئے۔ مسائل اور سوالات زمین پر اٹھتے تھے جواب آسمان سے آتا ہے۔ یہ منفرد، یکتا، کامل واکمل نظام زندگی، روئے زمین کی عظیم ترین ہستی، سید الانبیاء خاتم النبین محمدؐ کے ذریعے عطا ہوا۔ اس کے امین، نگران اور محافظ مسلمان ٹھہرے ۔قانون سازی انسانوں کے مختلف الخیال مفاداتی سیاسی گروہ نے نہ کی ۔ خالق کل نے آفاقی ، غیر فانی ضابطے عطا کیے۔ ہرشعبہ زندگی میں قیامت تک کے لیے مکمل رہنمائی۔ صدی ساتویں ہو اکیسویں یا چالیسویں، آفتاب وماہتاب کی طرح ازلی ابدی نور اور ضوپاشیاں ہمراہ لیے۔ سود کی استحصالی سرمایہ دارانہ جاگیردارانہ معیشت سے نکل کر پاکیزہ زکوٰۃ ، صدقات، قرض حسنہ کی انسان دوست معیشت لیے عورت کی آزادی، مساوات، ترقی کے فریب اور چکا چوند اسلامی تہذیب اسے بے حیائی، عریانی، ہراسانی کے جنگلوں میں ہوسفاک بھیڑیوں کے حوالے کردینے سے محفوظ ومامون کردینے کی ضامن، یہاں وہ ماں، بیٹی، بہن یا نکاح کے محفوظ قلعے میں بیوی ہے۔ پاکیزہ رشتوں کے حصار میں آبگینوں کی نزاکت اور حیا کی پاکیزہ مہک عطا کرنے والا مضبوط نظام زندگی۔ حکمرانوں کو خلافت کی گرانبار ذمہ داری، جواب دہی اور ایمان بالآخرۃ کی زنجیروں میں باندھ دیتا ہے۔ سیاست کی ہوسناکی، ظلم وجبر، لوٹ کھسوٹ کی بجائے حقیقی فلاحی ریاست سے رعایا کو جنت نظیر زندگی عطا کرنے والا نظام۔ جہاں حکمران ، گورنر مستحق زکوٰۃ ہوجائیں اور رعایا خوشحالیوں میں پھلے پھولے یہ ہے ہجری سال سے وابستہ ہماری تاریخ ۔ یہ محض ماہ وسال ، سن اور تقویم نہیں، دنیا کا مقدر بدل دینے والا سنگ میل ہے۔ اور ہم اس کے وارث ہیں۔ ہجرت! یاد کیجئے نبیؐ کو ہجرت کے سفر میں (معراج کی طرح) شاہی سواری، براق عطا نہ ہوا کہ پلک جھپکتے میں مدینہ پہنچ جاتے۔ نبی مکرمؐ نے سفر ہجرت کے تمام دکھ، خطرات، صعوبت ، طوالت، سر پر باندھی قیمت اور پیچھا کرتے حریض دشمن کا خوف۔ سبھی کچھ جھیلا۔ امت نے زندگی بھر بار بار اس اسوۂ پر آبلہ پائی کرنی تھی۔ قیام پاکستان کے لیے ہجرت۔ اور آج برما، شام، فلسطین، غرض پوری دنیا میں اندرونی، بیرونی مہاجرتوں پر مجبور و مقہور مسلمان !حقوق انسانی پر صرف صفحے کالے کرتے، کانفرنسوں ورکشاپوں میں دجل فریب بھرے انسانیت کے غم میں گھلتے ادارے۔ دانشور، سوٹ بوٹ پہنے، ڈالر کھرے کرتوں کو دیکھئے، دوسری جانب عورتوں بچوں، بوڑھوں، پوٹلیاں، گٹھڑیاں اٹھائے ملک ملک، سمندروں، دریاؤں میں رلتے مسلمانوں کی لاکھوں کی آبادیاں ملاحظہ ہوں۔ ہجری سال اپنے جلو میں جہاد بھی لے کر آتا ہے۔ ہرشکوہ اسلام بے مثل شجاعت۔ دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا ودریا ، سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی۔ اور تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا ۔۔۔ یہ شوکت وہیبت ہجرت وجہاد سے نتھی تھی۔ مسلم امہ نے رضا کارانہ طورپر 9/11کے 5ہزار امریکی مارے جانے کے بدلے تمامتر حقوق جہاد، دنیائے کفر کو دے دیئے۔ اب جہاد ان پر فرض عین ہے اور ہم گھور کر دیکھنے پر بھی دہشت گرد ہو جاتے ہیں۔ سو روسی ، بشار الاسد وہمنوا، امریکہ ، نیٹو، اسرائیل بھارت، برما سب جنگ آزما ہیں۔ مسلمان!37لاکھ شامی تو ان کی جنگوں کے نتیجے میں صرف ترکی میں پناہ گزین ہیں۔ پورے شام کی اینٹ سے اینٹ بجاکر اس کا گراؤنڈ زیرو (5ہزار کے بدلے اترتے دیکھے۔ افغانستان تا شام) بنادیا۔ اب آخری پناہ گاہ ادلب، 35لاکھ آبادی کے ساتھ قہروظلم کے نئے ریکارڈ رقم کرنے کو روس ایران کے نشانے پر ہے۔ جنازے ، ہسپتال (خواتین بچوں کے علاوہ) خصوصی ہدف رہے ہیں ان مہذب مغربی جنگجوؤں کے ہاں۔ سو 4طبی مراکز کو پہلے درندگی کا نشانہ بناکر تباہ کیا ہے موت ارزاں کرنے کو، تاہم مت بھولیے۔ دہشت گرد آج بھی نہتے مسلمانوں مردوزن ہیں۔ اپنے علاقوں سے جبراً بے دخل کرکے نکال پھینکے جانے والے فلسطینی ہیں۔ بھارتی فوج کے مظالم تلے نسل درنسل کٹتے، پستے کشمیری ہیں۔ فاسفورس بم، بیرل بم، کارپٹ بمباری، کیمیائی حملے، تمام بموں کی ماں برسانے والے اعلیٰ تہذیب کی حامل فاختائیں، زیتون کی شاخ منہ میں دبائے، خونیں افق کی لالیوں میں قہقہے بکھیرتی مغربی قوتیں ہیں۔ ان کے نام نہاد مسلمان گماشتے ہیں کٹھ پتلیاں ہیں جو شاہوں سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں غرق مسلم ممالک کے اہل دین کے خون کے پیاسے ہیں۔ جن کے قہر سے نہ بوڑھے جوان مرد مامون ہیں نہ دادی نانی عمر کی عورتیں! ایمان، اسلام قرآن اور جہاد کی جیم بولنے پر بھی جھلا اٹھتے ہیں !
اس دوران کلثوم نواز، کینسر کی شدید آزمائش سے نکل کر رب تعالیٰ کے حصور حاضر ہوگئیں۔ جسمانی تکالیف کے عوض اللہ تعالیٰ مغفرت عطا فرمائے۔ (آمین) منزل آخر فنا، اس سے زیادہ بڑا سبق کوئی دوسرا نہیں۔ یہ مال ودولت دنیا یہ رشتہ وپیوند، تبان وہم وگمان لا الہ الا اللہ، حقائق کی دنیا میں پیشی اور جواب دہی سے بڑا خوف اور غم بھی کوئی ہوسکتا ہے، تمام عدالتیں، احتساب کے نعرے، نیب کی پیشیاں ریکارڈ الٹ پلٹ، فائلیں، اعدادوشمار ، کیا اوقات ہے ان سب کی ، اس دن کے مقابل جب زمین سارے راز اگل دے گی۔ مونہوں
پر مہر ہوگی اور جسم کی کھالیں، ہاتھ پیر گویا ہوجائیں گے۔ الساعۃ حق۔ الجنۃ حق۔ النار حق، قیامت، جنت دوزخ اٹل حق ہے۔ سارے سیکولروں لبرلوں ، ملحدین منکرین کے شوروغوغا کا ایک سناٹے میں بدل جانے کا وہ دن تو آکر رہنا ہے۔ فکر صرف اس کی کیجئے یہ ہے ریاست مدینہ، کی روح، اس کا جوہر، ہرفرد کے اندر رب کے حضور پیشی کا خوف سیرت وکردار کو منور کرکے اندر وہ پہریدار بٹھا دیتا ہے جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک لامنتہا فہرست ( جیسی ہماری ہاں ہے ) کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
مشاورتی کونسل سے قادیانی ہٹائے جانے پر لبرل سیکولر سسکیاں، مغرب بھارت کا دکھ ہنوز جاری ہے اچھا ہوا یہ تجربہ شروع ہی میں ہوگیا اور خوش فہمیاں بروقت دور ہوگئیں۔ اس پر دو مزید افراد کا استعفیٰ ان کی مسلمانی پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ پاکستان کی ترقی کا نام لے کر رونے والوں کا اصل غم عالمی ایجنڈوں (قوانین ختم نبوت وتوہین رسالتؐ کی منسوخی) کے امکانات مسدود ہوجانا ہے۔ اقلیت کے حق، کا دھوکا نہ دیجئے ۔ عیسائی سکھ ہندواقلیتیں ہیں۔ جوہری فرق قادیانیت سے یہ ہے کہ اقلیتیں ، مسلمان ہونے کا سوانگ نہیں بھرتیں۔ اپنے مندروں چرچوں کو مسجد بناکر پیش نہیں کرتیں۔ وہ خود کو مسلمان اور 20کروڑ مسلم آبادی کو کافر نہیں کہتیں۔ خاتم النبین کے مقابل نبوت کی دعویداری نہیں ہے۔ اسی لیے دیگر اقلیتوں پر مسلمان سیخ پا نہیں ہوتے۔ عاطف میاں، ملالہ مغربی کارندے ہیں۔ اندازہ کیجئے کہ مرحومہ کلثوم نواز کی تعزیت کے لیے پیغامات میں میرواعظ عمر فاروق، مودی، شسماسوراج کے ساتھ ملالہ کا نام جڑا ہوا ہے۔ میڈیا اسے عالمی قیادت میں جگہ دے رہا ہے؟ پاکستان کے مستقبل کے لیے عاطف میاں نوعیت کا یہ فتنہ پالاپوسا جارہا ہے۔ ہمارے مناصب کے فیصلے سامراجی قوتیں آج بھی ہمیں اپنی کالونی سمجھ کر کرتی ہیں۔ ان کی ڈگریاں، لیاقتیں، (ملالہ کی ڈائری اور لکھوائی کتاب کی طرح) دانشوریاں، نوبل پرائز سبھی مخصوص مقاصد کی مرہون منت ہیں، قوم یہ فریب پہچانتی ہے!
اگرچہ : دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت


ای پیپر