باؤ جی کی کلثوم اور انسانی امید!
15 ستمبر 2018 2018-09-15



قارئین! میرا گزشتہ کالم آبی ذخائر اور ان کی تعمیر کے متعلق تھا، جس کا اگلا حصہ ابھی باقی تھا اور اصولاً مجھے آج کے کالم میں اسی بات پر بات کرنا چاہئے تھی، مگر جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس دوران بیگم کلثوم نواز کا انتقال ہو گیا اور ملک بھر میں سوگ کی لہر دوڑ گئی، جس نے سیاسی اور سماجی سطح پر ہر اس شخص کو متاثر کیا جو دل میں درد اور انسانیت کی ہلکی سی رمق بھی رکھتا ہے اور دنیاوی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر شریف خاندان کے اس غم میں کسی نہ کسی طرح شامل ہے، جس نے جاتی امراء کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ بیگم کلثوم نواز گرچہ ساری زندگی میاں نوازشریف کے ساتھ رہیں اور انہوں نے ان کی زندگی میں نہایت خاموشی اور متانت سے اپنا کردار ادا کیا، مگر ان کی شخصی خوبیاں، ذہانت اور ذات کا ٹھہراؤ اس وقت سامنے آیا جب شریف خاندان پرویز مشرف کے خلاف بچھائے ہوئے جال میں خود ہی پھنس گیا، یہ اس خاندان پر آنے والی پہلی اور بڑی مصیبت تھی، جس نے اسے ہلا کر رکھ دیا۔ اس کڑے وقت میں بیگم کلثوم نواز نے جس تدبر اور بردباری سے اپنے خاندان کو بچایا اور پرویز مشرف سے ایک خاموش معاہدے کے تحت راتوں رات اپنے کنبے کو لے کر جدہ روانہ ہوئیں، یہ وہ واقع ہے جس نے اس گھریلو عورت کے کردار کے ان مخفی پہلوؤں کو عوام الناس سے روشناس کرایا جو اس سے قبل ہرگز ظاہر نہ تھے۔ اور یہ ثابت کیا کہ وہ نہ صرف اعصابی لحاظ سے مضبوط ہیں بلکہ تدبر، ذہانت اور بردباری ان کے شخصی مزاج کا حصہ ہے۔ اس کے بعد طویل جلاوطنی، ملک واپسی اور میاں نوازشریف کا دورِ اقتدار گرچہ شریف خاندان کی زندگی کے ایسے سنگِ میل ہیں جن کے بغیر ان کی خاندانی اور سیاسی زندگی کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی، مگر ہم دیکتے ہیں ان ادوار میں بیگم کلثوم نواز دوبارہ خاتونِ خانہ بن کر گھریلو معاملات میں مصروف ہو جاتی ہیں اور شریف خاندان کی سیاسی زندگی میں ان کا بظاہر کوئی کردار دکھائی نہیں دیتا، البتہ اس دوران ان کی بیٹی مریم سیاست کی غلام گردشوں میں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں، میاں نوازشریف کی سیاسی وارث کی حیثیت سے ، مگر بیٹی کا مزاج ماں سے بالکل مختلف ہے، جس تدبر، متانت اور ٹھہراؤ کو ہم بیگم کلثوم کے مزاج کا غالب حصہ پاتے ہیں، مریم بی بی کی ذات میں وہ دکھائی نہیں دیتا، ہو سکتا ہے انہیں بیٹی کی تربیت کا مزید موقع ملتا تو معاملات مختلف ہو جاتے، بہرحال اب وہ مقام آتا ہے جہاں میاں صاحب نااہل ہو جاتے ہیں اور مریم بی بی کے ہمراہ گلی گلی ان کا احتجاج شروع ہو جاتا ہے، انہی دنوں بیگم صاحبہ کو اپنے آبائی حلقے سے ضمنی انتخابات میں کامیاب کروا
کر وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز کرنے کا میاں صاحب کا ارادہ سامنے آتا ہے اور بیگم صاحبہ کی سیاسی ذہانت دوبارہ زیربحث آنے لگتی ہے، مگر اس دوران اچانک ان کی لندن روانگی کی خبر آتی ہے اور اس کے بعد اس کینسر کی ، جس سے لڑتے لڑتے اب وہ زندگی کی جنگ ہار چکی ہیں۔
یہ خبر ایسا دھچکا ثابت ہوئی ہے جو شریف خاندان کو ہلا کر رکھ دیتی ہے پھر ایک طویل اور مشکل جنگ شروع ہو جاتی ہے، اس خوفناک بیماری کے خلاف جسے کینسر کہتے ہیں، یہ بیماری کتنی تکلیف دہ اور کرب ناک ہے، اس کی اذیت صرف وہی جانتے ہیں جو کسی نہ کسی رنگ میں اس سے گزرے ہوتے ہیں۔ یہ مریض پر تو وارد ہوتی ہی ہے مگر اس کی گرفت میں مریض کے لواحقین کیسے آتے ہیں اور ان پر کیا گزرتی ہے، یہ قصہ اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہے! شریف خاندان کا سیاسی کردار، ان کے ادوار میں ملک و قوم پر کیا گزری؟ انہوں نے اپنے اچھے برے اعمال کے تحت اس ملک کو کن بدحالیوں تک پہنچا دیا اس کے ذکر سے اجتناب کرتے ہوئے اس موقع پر میں ملک کے امیر ترین اور طاقت ور ترین خاندان کی بے بسی تک ہی خود کو محدود رکھنا چاہتی ہوں، جس سے وہ اسی طرح گزرا جس طرح کوئی بھی عام انسان گزرتا ہے، اسی طرح رویا جس طرح کوئی عام انسان اپنے ذاتی دکھوں پر روتا ہے۔ اس کی طاقت، دولت، اختیار اور دنیاوی تدابیر سے باؤ جی کی کلثوم ، آسودگی کا ایک سانس، سکھ کا ایک لمحہ تک نہ خرید سکی کہ اس کے رگ و ریشے میں اترے ہوئے مہلک مرض کا کوئی ایک بپھرا ہوا خلیہ ہی سکون پذیر ہو جاتا، پسپا ہو جاتا۔ ہارلے اسٹریٹ کا وہ مہنگا کلینک، کینسر کی دیمک کھاتے وجود کو وینٹی لیٹر پر چڑھا کر عارضی سانسوں کے علاوہ بھلا کیا مہیا کر سکتا تھا؟ لواحقین کی بے بسی، ان کا ہاتھ ملنا، وینٹی لیٹر پر چڑھتی دوڑتی کمزور، مضحمل سانسوں کی گنتی شمار کرنے کے علاوہ، ایسے موقعوں پر اور کیا ہی کیا جا سکتا ہے؟
باؤ جی کی اسیری اور وینٹی لیٹر پر چڑھی ان کی کلثوم کی دوری ہی وہ حقیقت ہے جو انسانی بے بسی اور بے اختیاری لکھتی ہے، افسوس صد افسوس، ہمارا پیسہ، اختیارات، طاقت اور اس طاقت کا غرور، کچھ بھی امتحان کے موقعوں پر کام نہیں آتے۔ کچھ فیصلے اٹل ہیں اور خالقِ کائنات کے اپنے ہاتھ میں ہیں، ہم بس مجبور محض ہیں، جو اپنی اکڑ، تکبر اور اس کی بخشی ہوئی عزت کو اپنا کمال اپنا جاہ و جلال سمجھ بیٹھتے ہیں جبکہ یہ ایک آزمائش کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
آج بیگم صاحبہ منوں مٹی تلے دب کر شریف خاندان کے اس قبرستان کا حصہ ہو چکی ہیں جہاں میاں شریف صاحب آسودۂ خاک ہیں اور المیئے کی اس کہانی کا یہ باب بھی خاصا چشم کشا ہے کہ وہ باپ جس نے شریف خاندان کو لوہار کی بھٹی سے اٹھا کر اتفاق فاؤنڈری تک پہنچایا، جب اس کا جنازہ اٹھا تو دونوں بیٹے اسے کندھا دینے کو موجود نہ تھے۔ اور اسی تاریخ کا اک تسلسل ہے جو اس وقت اس خاندان کے ساتھ چل رہا ہے کہ بیگم صاحبہ کے جنازے کو کندھا دینے کو ان کے دونوں بیٹے موجود نہیں، جبکہ اس ضمن میں ان کی آخری خواہش یہ تھی کہ انہیں ان کے دونوں پسران قبر میں اتاریں۔!
بیگم کلثوم نواز کی طویل علالت اور اس پر سیاست، افواہیں اور من گھڑت کہانیاں ہمارے سیاسی اور میڈیائی کلچر کا ایسا ناقابلِ برداشت حصہ ہیں، جو کسی بھی طرح ہمارے سماجی مزاج سے میل نہیں کھاتا، یہ سماجی مزاج ’’دشمن مرے تو خوشی نہ کریئے، سجناں وی مر جاناں‘‘۔۔۔ کے اصولوں پر اٹھایا گیا تھا، جسے آہستہ آہستہ انہی اچھی اقدار کی طرح بالائے طاق رکھ دیا گیا جو ہمارے سماج کو حسن، مروت اور رواداری کے اصولوں پر استوار کئے ہوئے تھیں، مگر بیگم صاحبہ کے انتقال پر موجودہ حکومت کا شریف خاندان سے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر حسنِ سلوک، اپوزیشن جماعتوں، بشمول حکومتی اعلیٰ عہدے داروں کا جنازے میں شامل ہونا اور قوم کا سابقہ خاتونِ اول کے کردار کو سراہنا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم چاہیں تو اپنا سماج بدل سکتے ہیں، اور ایک دوسرے کے غموں میں شریک ہو کر اس اخلاقی کردار کا مظاہرہ کر سکتے ہیں جو سوشل میڈیا گالم گلوچ اور نفسانفسی کے طوفان میں کہیں بہتا جا رہا ہے۔ رہا شریف خاندان کا المیہ، تو اس میں اگر کسی کا قصور ہے تو وہ خود شریف خاندان کا ہے، جو دنوں کے الٹ پھیر کی زد میں آ کر دوسروں کو موردِالزام ٹھہرا رہا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، جسے وہ ماننے کو تیار نہیں۔ کوئی بھی نہیں مانتا، ہم انسان اسی طرح ہیں ضدی، ناشکرے اور متکبر۔ اسی لئے ہم خسارے میں ہیں، اس خسارے کے نصیب کو بدلنے کے لئے جاہ و جلال، شان و شوکت، تکبر اور امارت نہیں، چند بنیادی اخلاق ضروری ہیں، اگر ان میں سے ایک بھی حاصل ہو جائے تو خسارے کا یہ سودا بدل سکتا ہے، وگرنہ یہی دنیا اور یہی ہمارا ہاتھ ملنا اور ہاتھ ملتے ہی منوں مٹی کے تلے سما جانا، قرآن نے انسان کو بے سبب تو سرکش اور ناشکرا نہیں کہا، غوروفکر کی تلقین بے وجہ تو نہیں۔ اسباب و واقعات پر، دنوں کی گردش، طوالت اور نشیب و فراز پر، تاکہ ہمیں ہماری اوقات کا اندازہ ہو سکے، جو درحقیقت پانی کے ایک بلبلے سے زیادہ نہیں۔


ای پیپر