کلثوم آنکھیں کھولو! باؤ جی
15 ستمبر 2018 2018-09-15



کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا میں کہتا ہوں شاید وطن عزیز کی سیاست ضمیر سے بھی عاری ہے۔ جناب نوازشریف کا سیاسی و جمہوری ماضی ہمیشہ ہی انہیں تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا رکھے گا حالانکہ میاں صاحب نے غلام اسحق خان، پرویز مشرف اور اپنے ماضی قریب کے حالیہ اقتدار میں اپنے سیاسی کردار سے اپنے ماضی کا کافی حد تک ازالہ کیا کر دیا اور عوامی حکمرانی کے اصولی مؤقف کے دعویدار بن کر ابھرے نتیجتاً تیسری بار حکومت اور آزادی بھی گنوا بیٹھے۔ بلکہ بیٹی کو جیل بھی دکھا دی۔ بیگم کلثوم نواز جب بیمار تھیں تو کمرشل اور سوشل میڈیا پر میں ایسے لوگوں کو بھی ان کی بیماری کا تمسخر اڑاتے اور بہتان طرزای کرتے سنا جن کا اپنا گھناؤنا کردار سب کے سامنے ہے۔ جب چند لوگوں اور بعض اینکرز نے بے حسی کی حدوں کو پیچھے چھوڑ دیا تو میں نے اپنے انتہائی معتبر دوست جناب سمیع اللہ ملک صاحب جو لندن میں ہی مقیم ہیں تقریباً ہفتہ وار محترمہ بیگم کلثوم نواز کی عیادت کرتے رہے سے فون پر استفسار کیا کہ یہاں پر کچھ لوگ کہتے ہیں محترمہ بیگم کلثوم نواز بالکل ٹھیک ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ وفات پا چکی ہیں ملک صاحب کہنے لگے کہ اللہ کریم بیگم صاحبہ کے لیے آسانی کر دے اور جو لوگ لغو گفتاری کذب بیانی کرتے ہیں ان کو اللہ کا خوف نہیں۔ ملک صاحب نے مزید بتایا کہ نواز شریف لندن سے پاکستان روانگی سے قبل اپنی مسز کو دیکھ کر الوداع کہتے پھوٹ کر روئے کچھ اس طرح کہ میں لرز گیا کیونکہ میں نے انہیں ایسے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔
نواز شریف پر تنقید کرنے والے شاید انہیں اس حوالے سے تو جانتے ہیں کہ وہ سیاست میں کیسے آئے اور انہوں نے سیاسی کلچر میں کیا کیا متعارف کرایا۔ مگر وہ دوسری طرف ان لوگوں کو بالکل بھول جاتے ہیں جو نواز شریف کو سیاست میں لائے اور پیپلزپارٹی کو ہدف بنا کر مٹا دینے کا ٹاسک سونپا اس میں وطن عزیز کے تمام معتبر ادارے اور سٹیک ہولڈرز میاں صاحب کی پشت پر کھڑے تھے بلکہ ان کی راہنمائی کرتے سازشوں، زیادتیوں، اقتدار کی ریشہ دوانیوں کے اس سفرمیں وہ سب کے سب بھی میاں صاحب کے لئے اجنبی نہیں تھے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ناقدین میاں صاحب کو اس حوالے سے نہیں جانتے کہ ان کے سینے اور آنکھوں میں کیا کیا محفوظ ہے جیسے زرداری نے ایک دفعہ کہا تھا سینے میں اتنا کچھ ہے کہہ دوں تو آگ لگ جائے۔ پرویز مشرف جو ڈرت ورتے کسی سے نہیں تھے ، اب ملتے جلتے نہیں ہیں پر جس روز فرد جرم عائد ہونا تھی راستے میں ہی پسینے میں نہا گئے اور عدالت جانے کی بجائے ہسپتال پہنچ گئے۔ اداکاری سے آنسو تو دلیپ کمار جیسا فنکار آنکھوں میں بھر سکتا ہے لیکن پسینہ نہیں لا سکتا مشرف کا پسینے میں نہا جانا بہانہ نہیں بلکہ ڈپریشن کی انتہا تھی۔ موجودہ وزیراعظم تنقید اور الزام جن کا محبوب مشغلہ تھا حامد میر سے انٹر ویو میں بتاتے ہیں۔ کس طرح دس دس فٹ اونچے گیٹ اور دیواریں پھلانگ کر گرفتاری سے بھاگے تھے میں نے تو جنرل ضیاء کے دور میں جناب پرویز صالح کو دیکھا گھر میں ہر وقت کپڑوں اور ضروری اشیاء کا بریف کیس جیل جانے کے لیے تیار ہوتا۔ میاں صاحب جب پہلی بار بی بی بینظیر سے ملے تو کھڑے نہ ہو پا رہے تھے لیکن تجربے ذمہ داریاں، عوام کے اعتماد اور رویوں نے میاں صاحب کو نظریاتی اور ذاتی نفع نقصان سے ماورا سوچ رکھنے والا ایسا راہنما بنا دیا کہ وہ لندن میں بستر مرگ پر بیمار بیوی کو چھوڑ کر اپنی بیٹی کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باسی بن گئے۔ جعلی تجزیہ کار ،یہ لوٹے سیاست دان ، یہ لمبی زبانوں والے اینکرز خود تو ایک فون کال پر ڈھیر ہو جایا کرتے ہیں، نظریات اور سیاسی جماعت چند ساعتوں میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ ان کے ضمیر پر اگر کبھی غیرت کی دستک سنائی دے تو چوہدری اعتزاز احسن کی طرح چند لفظوں سے ازالہ کر دیں دراصل چوہدری صاحب بھی سیاسی تاریخ اور آنے والے کل کا ادراک رکھنے والے سیاستدان ہیں وہ لمحوں کا تاریخ کا حصہ بنتے دیکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوراً اپنی غلطی کو عظمت میں بدل دیا۔ بیگم کلثوم نواز گھریلو خاتون ہونے کے باوجود مشرف کی ڈکٹیٹر شپ کے سامنے ڈٹ گئی جب بڑے برے ڈیرے دار سیاست دان نیب کا سامنا کرنے کی بجائے مشرف کی حکومت میں پناہ گزین ہو رہے تھے۔ مگر مادرِ جمہوریت سرکاری ، عوامی اور تاریخی طور پر محترمہ نصرت بھٹو کا ہی اعزاز رہے گا۔
اسٹیبلشمنٹ جناب بھٹو، کو پھانسی دینے کے بعد دفنا نہ پائی اور پنجاب میں اشرافیہ کے راہنما کو شاید ملک بدر کرنے میں بہتری سمجھی۔ جو جیل سے جدہ کا معاہدہ ہو گیا۔ بھٹو صاحب کی 22 ماہ کی اذیت ناک جیل، ورکروں کو قید، کوڑے ، پھانسیاں، قلعے، جیلیں، جلاوطنیاں اور پھر جناب بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی وطن عزیز میں موجود بیوی، بیٹی اور خاندان والوں کو چہرہ تک کسی کو دیکھنے نہ دیا گیا۔ گھر والوں کو جنازے میں شرکت کی بجائے جیل میں رکھا۔ کاش سیاسی قوتیں اس وقت اس ظالمانہ حرکت کا ساتھ نہ دیتیں۔
زرداری کو 12 سال جیل میں رکھ کر بے گناہ قرار دیا گیا۔ جناب بھٹو کا عدالتی، محترمہ بینظیر بھٹو کا سرعام قتل لواحقین کی بے بسی، جناب بھٹو کے بیٹوں کے پراسرار قتل۔لواحقین کی بے بسی ۔ دیار غیر میں محترمہ بیگم کلثوم نواز کی موت اور نواز شریف اور بیٹی کی جیل۔ مشرف جو وطن عزیز میں کسی سیاسی مخالف کو گھسنے نہیں دیتے تھے آج خود نہیں آ سکتے۔ ضیاء الحق جس نے جنا ب بھٹو کا چہرہ نہ دیکھنے دیا اور خود لوگ تو موجود تھے مگر ان کا چہرہ موجود نہیں تھا۔ کاش یہ ظلم بربریت، غیر انسانی، وحشت و دہشت ، ذاتی دشمنی پر مبنی خونیں سانحات و واقعات ہماری تاریخ کاحصہ نہ ہوتے۔
جناب نواز شریف کی وائرل ہونے والی ویڈیو کلثوم آنکھیں کھولو ! باؤ جی نے ہلا کر رکھ دیا مجھے اپنا ہی کہا ہوا کہ ’’انسان کے بس میں اتنا ہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے بس تسلیم کرتے ، بہت یاد آیااور میر مرتضیٰ بھٹو کے آخری لمحے بہت یاد آئے جب ہسپتال میں آکسیجن ، ہارٹ بیٹ اور دیگر مشینیں انہیں مانیٹر کر رہی تھیں اور ان کی ریڈنگ زگ زیگ کی بجائے سیدھی ہو چکی تھی۔ اس حالت میں فاطمہ بھٹو آئیں اور اپنے باپ کے پاؤں پکڑ کر پکار رہی تھیں پایا میں فاطمہ! پاپا میں فاطمہ! کہتے ہیں بیٹی کے پکارنے پر میر مرتضیٰ بھٹو کو مانیٹر کرنے والی مشینوں کی ریڈنگ واپس آئی جو اس بات کی غماز تھی کہ موت کی آغوش میں تقریباً جا چکے میر مرتضیٰ بھٹو نے بیٹی کی پکار پر ریسپانڈ کیا۔ اس طرح جناب نوا زشریف کی پکار کلثوم آنکھیں کھولو ! باؤ جی پر غور سے سنیں تو محترمہ کلثوم صاحبہ کی جنبش کی آہٹ بھی سنی جا سکتی ہے۔ دشت سیاست کب تک مکافات عمل کے دور سے گزرتا رہے گا۔ کب تک انتقام اور نفرت سسٹم کی بنیاد رہے گا۔ سٹیک ہولڈرز کو ہتھ ہولا رکھنا چاہیے۔ اللہ کرے نفرت عناد، رنجش کی بجائے اختیارات قانون کے مطابق استعمال کیے جائیں تو پھر بھٹو صاحب کی آخری ملاقات اور اپنوں کے بغیر جنازہ۔ ضیاء کا ساتھیوں سمیت آگ میں بھسم ہونا، جناب بھٹو کے بیٹوں کے قتل، بینظیر شہید جیسے سانحات اور کلثوم آنکھیں کھولو ! باؤ جی جیسے جانکاہ مناظر جن سے روح کانپ اٹھے دیکھنے کو نہ ملے۔ محترمہ کلثوم مرحومہ کو نہیں سٹیک ہولڈرز کو آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر