خدارا، آپ ایسے حکمران نہ بنئیے گا
15 ستمبر 2018 2018-09-15



سوشل میڈیا ہو یا مین سٹریم میڈیا ایک نظر میں آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ''ڈیم اور چندہ'' ہے۔ ڈیم بننا چاہیے یا نہیں، چندے کی اپیل درست فیصلہ ہے یا غلط، یوتھیئے فرماتے ہیں کہ وزیر اعظم نے چندے کی اپیل کر کے زبردست کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں عمران خان کو دور حاضر کا سب سے بڑا لیڈر مان لیا گیا ہے۔ دوسری طرف پٹواریوں کا دعوی ہے کہ ملک چندوں پر نہیں چلتے۔ وزیر اعظم عمران خان نے وطن عزیر کو جگ ہنسائی کا سامان بنا دیا
ہے۔ انڈیا کے میڈیا نے ڈیم کے لئے چندے کی اپیل کو بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا۔ فوٹیجز دکھائی جا رہیں جس میں کچھ ہندوستانی چند سکے اور روپے جمع کر رہے جن کو پاکستان ''ڈیم فنڈ'' کے لئے بھجوایا جائے گا ۔بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کنگال ہو چکا ہے۔ اتنے پیسے بھی نہیں کہ ڈیم ہی بنا سکیں، پاکستانیوں کو پیاسا مرنے سے بچانے کے لئے ہندوستانیوں کو چندہ مہم شروع کرنی پڑ ی۔ انڈین میڈیا کی اس حرکت کو یوتھئے عمران خان کی کامیابی تعبیر کر رہے۔ ڈونگڑے برسائے جا رہے کہ ''دیکھا یہ ہوتا ہے راہنما، یہ ہوتا ہے ویژن، عمران خان کی ساکھ تو دیکھو، پاکستانی تو ایک طرف ہندوستانی بھی چندے دے رہے''۔ دوسری طرف'' پٹواری'' اس حرکت پر سیخ پا ہیں اور یوتھئیوں
کو شرم دلا رہے کہ کیسے ان کے وزیر اعظم نے گری ہوئی حرکت کر کے پاکستان کو ہندوستان میں بھی تماشا بنا دیا ہے۔ جب سے نیا پاکستان ''لانچ'' ہوا ہے ایک سے ایک لطیفہ ہو رہا ہے۔ یوتھیؤں اور پٹواریوں(یوتھیا اور پٹواری کہنا عام حالات میں مناسب نہ ہوتا لیکن چونکہ دونوں فریق ان القابات پر فخر کرتے ہیں اس لئے ایسا کرنے میں مضائقہ نہیں) نے ملک کو تھیٹر بنا رکھا ہے اور سوشل میڈیا کو اس کا اسٹیج۔ ہیلی کاپٹر فی لیٹر 50 روپے میں اڑتا ہے یا 10 ہزار روپوں میں، گاڑی مہنگی پڑتی ہے یا ہیلی کاپٹر، وزیر اعظم ہاوس میں رہنا عیاشی ہے اور وزیر اعظم ہاوس میں ہی واقع ملٹری سیکرٹری کے بنگلے میں رہنا عین سادگی ہے، ملک مزاروں کے بھروسے چلے گا یا کوئی سائنسی تڑکا بہتر رہے گا ، پروٹوکول اور روٹس لگائے جائیں گے یا پھر سائیکلیں بھگائی جائیں گی۔ انتخابات جیتے گئے ہیں یا جتائے گے ہیں، گورنر ہاوسز، وزیر اعظم ہاوسز، ایوان صدر اور بڑے بڑے محلات و بنگلوں کو ایسے ہی رہنے دیا جائے یا پھر یونیورسٹیاں اور اسپتال بنا دئیے جائیں۔ مودی کا اصل یار کون ہے؟ انیل مسرت کی کیا کہانی ہے، عاطف میاں کو واقعی بھگا دیا گیا ہے یا چھپ چھپا کر نئے پاکستان کی ''خدمت'' جاری رکھے گا ، ایون فیلڈ فلیٹس اور نواز شریف سے لوٹی ہوئی دولتیں کب واپس لی جائیں گی، کرپٹ لوگوں کو چوراہوں پر الٹا لٹکا دیا جائے گا یا وصولی کر کے چھوڑ دیا جائے گا ، پومپئیو سچا ہے یا عمران خان، فرانس سے واقعی کال آئی تھی یا پبلسٹی سٹنٹ تھا، کرپشن کے خلاف سخت ایکشن نے ''پٹواریوں'' کی چیخیں نکال دی ہیں یا یوتھئیے زہنی بیمار ہیں۔ بے سر و پا باتیں، جھوٹی کہانیاں، خوش گمانیاں اور بے ایمانیوں کا سونامی ہے۔ یوتھیوں اور پٹواریوں کی اڑائی دھول سے نیا پاکستان ہو یا پرانا دونوں پر دھول اٹی پڑی ہے۔ کوئی سمجھنے کو تیار نہیں کوئی سننے کو راضی نہیں۔ یوتھیوں اور پٹواریوں کی اس
جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان اور اصل عوام کا ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کو بیت الخلاء بنانے والے ووٹ کا حق استعمال کرنے والوں کا 2 فیصد بھی نہیں ہوں گے لیکن آپ سارے یوتھئیوں اور پٹواریوں کو اکھٹا بھی کر لیں تو یہ تین کروڑ کے قریب بنتے ہیں۔ یہ تین کروڑ کی اقلیت مل کر پاکستان کے باقی 19 کروڑ عوام کے مقدر سے کھیل رہی ہے۔ جن کا اوپر بیان کی گئی باتوں سے کچھ لینا دینا نہیں۔ وہ صرف اپنی حالت سنوارنا چاہتے ہیں۔ وہ روٹی، روزگار، طبعی سہولیات، تعلیم، چھت اور جان و مال کے تحفظ کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے۔ ان کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ان کے مسائل کے حل کا سہرہ یوتھئیوں کے لیڈر کے سر بندھتا ہے یا پٹواریوں کا راہنما بازی مار جاتا ہے۔ ان کے مسائل حل ہو جائیں بس، سہریکوئی بھی باندھ لے ان کی بلا سے۔ مٹھی بھر یوتھئیوں اور پٹواریوں کے سوشل میڈیا جنگجووں نے پورے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ میری وزیر اعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ اگر واقعی وہ غربت، بے روزگاری، دہشت گردی اور جہالت کے خلاف یہ جنگ جیتنا چاہتے ہیں۔ تو سوشل میڈیا کی واہ واہ اور تنقید پر سے توجہ ہٹا کر پاکستان کے اصل مسائل کا ادراک کریں۔ جامع منصوبہ بندی سے پالیسیز ترتیب دی جائیں بلکہ ان پر فوری طور پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر فوری عمل کیا جائے، ٹورازم کو فروغ دیا جائے۔ بیرون ممالک چھپایا گیا سرمایہ جلد از جلد واپس لایا جائے۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ''وسل بلو'' منصوبے پر فوری عمل شروع کیا جائے، یہ ایک ایسا پروگرام ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کھربوں ڈالرز اکھٹے ہو سکتے ہیں۔ کسٹمز، ایکسائز، انکم ٹیکس سمیت کئی ایسے ادارے ہیں جن کے افسر تو ایک طرف رہے ان کے چھوٹے اہلکاروں نے ہی اتنی لوٹ مار کر رکھی ہے کہ جس کا تصور بھی محال ہے۔انہیں لٹیروں سے اتنی ریکوری ہو جائے گی کہ چھوٹے موٹے ڈیم تو ارام سے بن جائیں۔ وزیر اعظم پاکستان ''لی کوآن یو'' اور ''مہاتیر محمد'' کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔لیکن آپ بھول جاتے ہیں کہ لی کوآن یو نے سنگاپور کو چند برسوں میں تیسری دنیا سے پہلی دنیا کاکامیاب ترین ملک بنا دیا اور مہاتیر محمد نے ملائیشیا کو غریب ترین ملکوں میں سے نکال کر ایشئین ٹائیگر بنا دیا۔ یہ سب ایسے ہی باتیں کرنے سے نہیں ہو گیا۔ انہیں ادراک تھا کہ مسئلے حل تب ہوتے ہیں جب ان کو حل کرنے کے لئے عملی کوششیں کی جائیں۔جناب، وہ جانتے تھے کہ ترقی کے لئے درست پالیسیوں اور سمت کے ساتھ ساتھ عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ انہوں نے سوشل۔میڈیا پر پراپیگنڈہ کے زریعے نہیں بلکہ عملی جدوجہد سے عوام اور تاریخ میں اپنے بلند مقام کا حصول یقینی بنایا۔ اگرجناب نے آج اپنی ذمہ داری اور ملکی مسائل کا احساس کرتے ہوئے اپنی سمت درست نہ کی اور سوشل میڈیا پر ہی اپنے نام اور کام کے ڈونگرے بجواتے رہے تو تاریخ کے اندر بھی ایک خاص جگہ ہوتی ہے جسے ''کوڑا دان'' کہتے ہیں، تاریخ کا کوڑا دان۔ اور یہی جگہ ناسمجھ اور نادان راہنماوں کی ''اصل جگہ'' قرار پاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر دھول اڑانا، دھوم مچانا سب بے معنی رہ جاتا ہے۔ وزیر اعظم کو چاہئیے کہ وہ یوتھئیوں اور سوشل میڈیا کے ان ''ذہنی بیماروں'' کی جھوٹی تعریفوں پر کان دھرنے کی بجائے عوام کے وزیر اعظم بنتے ہوئے ترقی اور خوشحالی کے ایجنڈے کی طرف آئیں۔ اگر آپ واقعی ایسا کر گئے تو آپ کو سوشل میڈیا بریگیڈ کی جھوٹی محبت کی بجائیعوام کی اصل محبت ملے گی اور عزت بھی۔ آپ تاریخ کے اوراق میں اپنے پسندیدہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوں گے۔ دوسری صورت میں، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ لی کوآن یو یا مہاتیر محمد تو کبھی نہیں بن پائیں گے لیکن بہادر شاہ ظفر ضرور بن جائیں گے۔ وزیر اعظم صاحب، یاد رکھئے گا کہ اگر حاکم وقت خوش آمدیوں کے نرغے میں پھس جائے تو وہ پھر قوم کے اصل مسائل اور زمینی حقائق دیکھنے کے قابل نہیں رہ جاتا۔ ایسا ہی حکمران پھر دفن کے واسطے دو گز زمین ڈھونڈتا پایاجاتا ہے۔ خدارا، آپ ایسے حکمران نہ بنئیے گا ۔


ای پیپر