نئے صدر کا انتخاب۔۔۔ امیدیں!
15 ستمبر 2018 2018-09-15



تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی نے اپوزیشن کی بھرپور اور نتیجہ خیز تکنیکی معاونت کے ساتھ صدر کا انتخاب جیت لیا ہے اور اس علامتی مگر آئینی عہدے کا مغموم صدر ممنون حسین کی موجودگی میں حلف بھی اٹھا لیا ہے۔شاید یہ سب کچھ سکرپٹ کے مطابق تھا۔ انتخاب جیتنے کے بعد ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ وہ تحریک انصاف کے صدر نہیں بلکہ تمام جماعتوں اور پوری قوم کے صدر ہیں۔ وہ دوسری جماعتوں کے کتنے صدر ہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ ان کے پارلیمنٹ سے پہلے یا دوسرے خطاب میں اگر گو ڈاکٹر گو کے نعرے لگ گئے تو انہیں حقیقت معلوم ہو جائے گی۔
جناب ڈاکٹر عارف علوی ملک کے تیرہویں صدر ہیں۔ وہ دنیا کے دوسرے ڈینٹل سرجن ہیں جو اس عہدے تک پہنچے۔ ان سے قبل ترکمانستان کے ڈاکٹر قربان قلی محمدوف ایک ڈینٹل سرجن کے طور پر اپنے ملک کے صدر رہ چکے ہیں۔ عارف علوی ملک کے تیسرے منتخب صدر ہیں جو رکن قومی اسمبلی ہوتے ہوئے صدر منتخب ہوئے۔ ان سے قبل فضل الٰہی چوہدری ، سردار فاروق لغاری اور ذوالفقار علی بھٹو (کچھ عرصہ کے لیے) رکن قومی اسمبلی ہوتے ہوئے صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ فضل الٰہی چوہدری، سردار فاروق لغاری اور ڈاکٹر عارف نے صدر کا انتخاب جیتنے کے بعد قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا البتہ ذوالفقار علی بھٹومرحوم نے وزارت عظمیٰ کے انتظار میں ایسا نہیں کیا تھا۔ وہ صدر پرویز مشرف اور صدر ممنون حسین کے بعد مسلسل تیسرے اردو بولنے والے صدر ہیں۔ وہ ملک کے پانچویں صدر ہیں جو کسی پارٹی کے مرکزی عہدیدار رہے۔ اس قطار میں ان سے پہلے صدر ایوب خان کنونشن مسلم لیگ کے صدر ، ذوالفقار علی بھٹو پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین ، سردار فاروق لغاری پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل اور آصف علی زرداری کو چیئرمین پیپلزپارٹی نظر آتے ہیں۔ جبکہ پرویز مشرف عہدہ صدارت چھوڑنے کے بعد سے اپنی جماعت کے سربراہ چلے آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی ایک عرصہ تک تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی چونکہ بنیادی طور پر ایک سیاسی آدمی ہیں اور جاگیردارانہ یا سرمایہ دارانہ پس منظر نہیں رکھتے، اس لیے ان کے انتخاب کو عمومی انداز میں سراہا جا رہا ہے۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے ڈی مونٹ مورینسی کالج آف ڈیٹسٹری لاہور کی سٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کے والد حبیب الٰہی علوی جماعت اسلامی سے وابستہ تھے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے بھی جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر کراچی سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ جس کے بعد وہ کچھ عرسہ سیاست سے کنارہ کش رہے اور پھر تحریک انصاف کے قیام کے اول روز ہی سے اس جماعت کے ساتھ چلے آ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے گزشتہ دھرنے کے دوران پی ٹی وی پر حملہ کے الزام میں جن لوگوں پر دہشت گردی کے مقدمے قائم ہوئے تھے ان میں ڈاکٹر عارف علوی بھی شامل ہیں۔ یہ مقدمہ تاحال زیر سماعت ہے۔ اس طرح وہ دہشت گردی کے مقدمہ کے ساتھ ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر براجمان ہونے والے شاید پہلے شخص ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ پاکستان کے پارلیمانی سیاسی نظام میں صدر کا آئینی عہدہ محض علامتی ہے۔ لیکن پروٹوکول کے کروفر کے ساتھ اس عہدے کی بے پناہ اہمیت بھی ہے اور بہت سے مواقع پر منتخب حکومتیں صدر کے سامنے مجبور نظر آتی ہیں۔ اس لیے نئے صدر ڈاکٹر علوی سے عوام کی امیدیں اتنی بے جا بھی نہیں ہیں۔ ہماری نظر میں صدر کی پہلی آئینی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرائیں۔ بانئ پاکستان کے واضح احکامات اور دساتیر پاکستان میں قومی زبان کو حاصل تحفط کے بعد سپریم کورٹ بھی 2015ء میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کا حکم جاری کر چکی ہے۔ جس پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ صدر عارف علوی ذاتی دلچسپی لے کر اس پر عمل درآمد کرائیں اور قوم کو انگریزی زبان کی غلامی سے نجات دلائیں۔ پوری قوم انہیں جھولیاں بھر کر دعائیں دے گی۔ ان کے اس اقدام سے عام آدمی کو ریلیف ملے گا۔ قوم میں اعتماد پیدا ہوگا، مقابلے کے امتحانات اردو میں ہونے سے غریب نوجوان آگے آ سکیں گے اور ملک میں شرح خواندگی میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گا کیونکہ اب تک انگریزی زبان اعلیٰ تعلیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ طلباء و طالبات کی بڑی تعداد انگریزی زبان میں فیل ہونے کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ ہی منقطع کر دیتی ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی اپنی پارٹی قیادت کو بھی اس قومی فریضہ کی ادائیگی کے معاملے میں بآسانی قائل کر سکتے ہیں۔ اردو ہی کی طرح بنک ملازمین کی پنشن سمیت دیگر عدالتی فیصلوں پر بھی صدر محترم کوعمل درآمد کرانا ہوگا
دوسرا کام یہ ہے کہ ڈاکٹر علوی کی شخصیت تمام سیاسی حلقوں میں قابل قبول ہے۔ وہ نہ تو عمران خان کی طرح کی سخت زبان استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی جہانگیر ترین اور علیم خان کی طرح ان پر ناجائز دولت کمانے کے الزامات ہیں۔ اس لیے وہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں سے مسلسل رابطہ رکھ کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں کہ ان کی رائے کا حکومت ہی نہیں اپوزیشن بھی میں بھی احترام ہے۔
صدر مملکت عام آدمی کے مسائل کے حل کو اپنی ترجیح بنائیں اور ایوان صدر میں کوئی ایسا نظام تشکیل دیں کہ جہاں سے عام آدمی کی شکایات اور مشکلات کا ازالہ ہو سکے اور عام پاکساتانی کو یہ احساس ہو کہ اس کی فریاد، آواز، شکایت اور پریشانی کو سننے والا بھی کوئی ہے اس طرح حکومت کا بہت سا بوجھ ہلکا ہو گا اور وہ بڑے بڑے منصوبوں پر یکسو ہو کر کام کر سکے گی۔ صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے اور معاونت سے اگر ملک کے تمام اداروں اور محکموں میں میرٹ کی نگرانی کر سکیں تو اس سے تحریک انصاف کا ایک وعدہ پورا ہو جائے گا اور ملک اجتماعی بہتری کی طرف بڑھنے لگے گا۔ بہرحال صدر صرف ایوان صدر کا پروٹوکول ہی انجوائے نہ کریں ملکی ، قومی اور عوامی مشکلات کے حل میں اپنا کردار بھی ادا کریں کہ عوام، حکومت، حکمران پارٹی اور سیاسی جماعتوں کو ان سے بہت سی امیدیں ہیں۔


ای پیپر