سرسبز و شاداب پنجاب کا شاندار منصوبہ
15 ستمبر 2018 2018-09-15



ہمار وطن عزیز پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اللہ تعالی نے اسے چار موسموں سے نوازا ہے۔ یوں تو سال میں دو مرتبہ خزاں اور بہار کے شروع میں شجر کاری کا موسم آتا ہے جس میں بڑے اہتمام سے شجرکاری مہم کا آغاز کیا جا تا ہے ۔ لاکھوں پودے لگانے کے وعدے کئے جاتے ہیں۔ سینکڑوں پودے بھی لگائے جاتے ہیں لیکن ان پودوں کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کے سبب وہ تناور درخت بننے قبل پہلے سال ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان میں کل رقبے کا صرف ۴ فیصد حصہ پر جنگلات ہیں جو انتہائی کم اور قابل تشویش ہے۔ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا 25 فیصد حصہ پر جنگلات کا ہونا بیحد ضروری ہے کیونکہ ایک تو درخت صدقہ جاریہ ہیں۔ دوسرا درخت نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ درخت سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاؤ اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے کا اہم ذریعہ ہیں ۔ مزیدار شیریں پھل ان سے ہی حاصل کیے جاتے ہیں۔ درختوں کی لکڑی فرنیچر ،مکانوں کے شہتیراور دیگر مقاصد کیلئے استعمال میں لائی جاتی ہے درختوں ہی کی بدولت بارش کا موجب بننے والے بادل وجود میں آتے ہیں۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے شجر کاری مہم کا آغاز کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پنجاب کو سر سبز و شاداب بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ چیف سیکرٹری پنجاب اکبرحسین درانی نے وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق شجر کاری مہم کو 100 روزہ پلان حصہ بنا دیا ہے۔اکبر درانی پنجاب میں شجر کاری مہم کو بڑی محنت و جانفشانی سے کامیاب کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ ان کی محنت و لگن کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ دو تین سالوں میں ہمیں صحیح معنوں میں سرسبز پنجاب دکھے گا۔ وزیر اعلی پنجاب کے اس ویژن کو آگے بڑھانے کے لئے محکمہ زراعت مکمل اور بھر پور حصہ لے گا۔شجر کاری مہم میں ہرمحکمہ کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے۔ اس مہم میں ہر فرد حصہ لے اور اپنے حصے کا ایک ایک پودا ضرور لگائے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت کے ابتدائی 100 روز ہمارے وژن کے ترجمان ہوں گے۔ 100 دن پلان کا مقصد ہے کہ پالیسیوں کو تبدیل کریں۔ ہم نے اداروں کو طاقتور بنانا ہے، کسی بھی ادارے میں سزا و جزا ختم ہو جائے تو ادارہ تباہ ہو جاتا ہے۔سول سروسز میں اصلاحات کریں گے اور گورننس کا نظام ٹھیک کریں گے۔ گزشتہ دور میں کے پی کے میں ایک ارب درخت لگائے گئے۔ عالمی اداروں نے بھی تسلیم کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے گئے۔ پنجاب میں بڑے بڑے جنگلات ختم کر دئیے گئے۔ چھانگا مانگا سے 80 فیصد درخت ختم کر دیے گئے۔ میانوالی کے جنگلات پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔ راجن پور کے جنگلات پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔ پاکستان گلوبل وارمنگ کی زد میں آنے والا ہے ۔ پاکستان میں تیزی سے موسمیاتی تبدیلی کی طرف جا رہا ہے ۔یہ ایک ایمرجنسی کی صورتحال اختیار کر چکی ہے ۔اس مسئلے کا واحد حل صرف درخت اگانا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے ہری پور میں خود پودا لگا کر ’’پلانٹ فار پاکستان‘‘ مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ شجرکاری مہم ہماری زندگی و موت کی جنگ ہے اور اگر درخت نہ لگائے تو پاکستان ریگستان بن جائے گا۔ ملک کو بچانے کیلئے شجر کاری مہم چلا رہے ہیں اور ہم نے 5 سال میں پورے پاکستان کو ہرا کر دینا ہے۔ ’’پلانٹ فار پاکستان‘‘ مہم کے دوران ملک بھر میں 15لاکھ درخت لگائے گئے جبکہ آئندہ پانچ سال کے دوران حکومت ملک بھر میں 10 ارب درخت لگائے گی اور وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو مختلف شہروں میں قائم 190مراکز میں مفت پودے فراہم کریں گی۔ شجر کاری مہم کا مقصد عوام، مختلف کمیونٹیز، تنظیموں، کاروباری و تجارتی افراد، سول سوسائٹی اور حکومت کو مشترکہ طور پر درختوں کو آگانا ہے۔
لاہور میں پلانٹ فار پاکستان مہم کے تحت پراونشل ٹی بی کنٹرول پروگرام پنجاب کے دفتر میں شجرکاری مہم کا آغاز کرتے ہوئے ڈاکٹر زرفشاں طاہر اور ڈائریکٹر ہیڈکوارٹرز محکمہ صحت ڈاکٹر ہارون جہانگیر خان کا کہنا تھا کہ ٹی بی کنٹرول پروگرام کے تمام ضلعی دفاتر میں بھی کم از کم 10پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آلودگی سے پاک ماحول اور سرسبز فضاء تپ دق کے مرض پرقابو پانے میں بہت معاون ثابت ہوتی ہے اور صحت مند ماحول میں ناصرف ٹی بی کا مریض جلد صحت یاب ہوتا ہے بلکہ بہت سے دیگر امراض کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ محکمہ صحت حکومتی ویژن کے مطابق پاکستان کو سرسبز بنانے کیلئے جاری شجرکاری مہم میں بھرپور حصہ لے رہا ہے اور تمام دفاتر میں پودے لگائے جا رہے ہیں۔
ملک بھر میں شجر کاری کی مہم کو پلانٹ فار پاکستان کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت 5 سال میں 10 ارب درخت اگانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ شجر کاری کے فوائد کے پیش نظر اس مہم میں تمام شہری بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ہر صوبے میں وہاں کی زمین اور موسم کے لحاظ سے مختلف اقسام کے پودے لگائے جائیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو مختلف شہروں میں قائم 190 مراکز میں مفت پودے فراہم کر رہی ہیں لہذا ان سے فوری طور پر استفادہ کریں۔
یہ امر قابل افسوس ہے کہ ہم اپنا بہت سارا وقت اپنے سیل فون اور کمپیوٹر سے سامنے بیٹھ کر ضائع کر دیتے ہیں۔ مثبت عملی سرگرمیاں اور مشاغل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اب جب کہ حکومت پنجاب نے متعدد مقامات پر شجرکاری کی اہمیت اجاگر کی ہے اور محکمہ جنگلات کی طرف سے صوبے میں وسیع پیمانے پر شجرکار کا پلان بھی تربیت دیا گیا ہے جس پر تیزی سے عمل درآمد ہمارا فرض ہے۔ شجر کار ی ساتھ ساتھ جنگلات کے رقبوں میں بھی اضافہ کیا جائے تاکہ صوبے میں فروغ جنگلات کے منصوبے مکمل ہوں اور اجتماعی سطح پر کی جانی والی کوششوں سے جنگلات کے رقبوں میں اضافہ ممکن ہوسکے۔ پلانٹ فار پاکستان مہم میں ہر شہری اپنے حصے کا پودا لگائے اور اس کی دیکھ بھال کرکے اسے تناور درخت بنائے تو ملک کے چپے چپے کو سرسبز وشاداب بنایا جاسکتا ہے۔ اب تو گھروں و بلند و بالا عمارتوں میں بھی چھتوں او ر بالکونیوں میں پودے اگا کر ماحول کو سرسبز بنانے کا رجحان عالمی سطح پر فروغ پا رہا ہے اور جن ملکوں کے عوام اس میں عملی طور پر شریک ہیں وہاں واضح تبدیلی دیکھی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں بھی عوامی سطح پر یہ جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم پھلوں کی کھٹلیاں صاف کرکے اگر موجود ہ موسم برسات میں نرم گیلی زمین میں دبا دیں تو ان سے پھلدرپودے پھوٹ سکتے ہیں۔ اسی طرح صرف درختوں کی شاخیں بھی زمین میں لگا دینے سے گھنے اور سایہ دار درخت ہمارے لئے آکسیجن اور سائیے کا سبب بن سکتے ہیں۔



ای پیپر