فوٹوبشکریہ فیس بک

ڈیم کی تعمیر روکوانے والوں کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہوگی: چیف جسٹس
15 ستمبر 2018 (13:58) 2018-09-15

لاہور: پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے خبردار کیا ہے کہ جس نے ڈیم روکنے کی کوشش کی ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کروں گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے زیر زمین پانی نکال کر منرل واٹر بنانے والی کمپنیوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں وفاقی حکومت کے وکیل اور ایم ڈی واسا سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمپنیاں حکومت کو 25 پیسے فی لیٹر ادا کرکے 50 روپے فی لیٹر فروخت کررہی ہیں جب کہ ایم ڈی واسا نے بتایا کہ 2018 سے قبل پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں زمین سے مفت پانی نکال رہی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پانی بیچنے والی کمپنیاں حکومت کے ساتھ پانی نکالنے کا ریٹ طے کر لیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ دیکھنا ہو گا کہ منرل واٹر میں منرلز ہیں بھی یا نہیں، میں گھر میں خود نلکے کا پانی ابال کر پیتا ہوں کیونکہ میری قوم یہ پانی پی رہی ہے، غریب آدمی آج بھی چھپڑ کا پانی پینے پر مجبور ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پانی اب سونے سے بھی زیادہ مہنگا ہے اس کی ڈکیتی کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ایک بات بتا دوں ماسوائے قوم کی خدمت میرا کوئی مقصد نہیں، میں نے آرٹیکل 6 کا مطالعہ شروع کر دیا ہے، جس نے ڈیم روکنے کی کوشش کی ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کروں گا۔ عدالت نے منرل واٹر کی تمام بڑی کمپنیوں کے سی ای او کو کل صبح گیارہ بجے طلب کر لیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


ای پیپر