نئے و پرانے صدورپاکستان!
15 ستمبر 2018 2018-09-15

پی ٹی آئی کی حکومت مکمل ہوگئی، اللہ کرے اُس کا عرصہ بھی مکمل ہوجائے، صدر پاکستان کا انتخاب بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا، جناب ممنون حسین فارغ ہوگئے، ویسے وہ جتنا عرصہ صدر رہے ” فارغ“ ہی رہے۔ نون لیگ نے جب صدر پاکستان کے لیے انہیں نامزد کیا تھا تب ہی لوگوں نے اندازہ لگالیا تھا وہ ”فارغ“ ہیں، وہ جب تک صدر رہے لوگوں کے اس اندازے کو ہلکی سی زد پہنچانے کی کوشش بھی انہوں نے نہیں کی۔ انہیں جب صدر نامزد کیا گیا میں سوچ میں پڑ گیا تھا ان کی کون سی خوبی کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے ؟ ممکن ہے انہیں اس لیے نامزد کیا گیا ہو ان کے نام میں ”نون“ آتا ہے، یا پھر نون لیگ نے یہ سوچ کر انہیں صدر بنادیا ہو وہ ساری زندگی ہمارے ”ممنون “ رہیں گے، اب وہ صدر نہیں رہے پھر بھی ”ممنون“ ہی ہیں۔ پنجاب کے وزیر اطلاعات نے جنہیں اصل میں ”وزیر بدزبانی“ کہا جانا چاہیے ایک بار پھر اپنی سیاسی واخلاقی تربیت کے مطابق جناب ممنون حسین کے بارے میں فرمایا ” انہیں صدر اس لیے بنایا گیا تھا وہ نواز شریف کو دہی بھلے سپلائی کرتے تھے“۔....جناب فیاض الحسن چوہان خود کیا سپلائی کرکے وزیر بنے ؟ یہ راز بھی کبھی نہ کبھی کھل ہی جائے گا، .... ایک بار چائنہ کے صدر پاکستان کے دورے پر آئے، ایوان صدر میں ان کے اعزاز میں زبردست عشائیے کا اہتمام کیا گیا، اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف بھی وہاں موجود تھے، سنا ہے چائنہ کے صدر چند منٹوں تک ہمارے صدر ممنون حسین کی حرکات کا جائزہ لیتے رہے، پھر اپنے ساتھ بیٹے نواز شریف سے انہوں نے پوچھا ”سرآپ کے صدر بھی چائنہ کے ہیں ؟“۔وہ یہ بات مجھ سے پوچھتے میں عرض کرتا ” ہمارے صدر تو پتہ نہیں چائنہ کے ہوتے ہیں یا نہیں ہمارے وزیراعظم اکثر امریکہ کے ہوتے ہیں “....اب پہلی بار عمران خان کی صدارت میں ہمیں پاکستانی وزیراعظم نصیب ہوا ہے۔ ہمیں ان کی قدرکرنی چاہیے۔ اور انہیں بھی چاہیے ہم سے قدر کروانے کی پوری کوشش کریں اور ایسی بونگیاں نہ ماریں جس سے ان کی قدر میں کمی واقع ہوجائے ....بہرحال ممنون حسین بے ضرر سے اک انسان ہیں، بطور صدر پاکستان وہ کسی کا کچھ سنوار نہیں سکے، تو میرے خیال میں بگاڑ بھی نہیں سکے۔ ایک حوالے سے ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جوکچھ نواز شریف کے ساتھ بطور وزیراعظم ہونے والا تھا وہ اس سے بخوبی آگاہ تھے۔ پانامہ کیس ظاہر ہونے کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمادیا تھا ”جس جس نے اس ملک کو لُوٹا ہے اس پر بہت سخت وقت آنے والا ہے وہ سب جیل میں ہوں گے“۔....نواز شریف نے شاید یہ سمجھا ہوگا ممنون حسین یہ ”خوشخبری“ زرداری کے لیے دے رہے ہیں، ممکن ہے انہوں نے ان سے یہ وضاحت بھی طلب کی ہو اور انہوں نے بھی جواباً یہی فرمایا ہو” میاں صاحب میں نے یہ زرداری کے بارے میں کہا ہے، آپ نے تو زندگی میں ایک پائی بلکہ ” چارپائی“ تک کبھی نہیں لُوٹی، جس کا سب سے اہم اور بڑا ثبوت یہ ہے آپ نے مجھے صدر بنایا، کیونکہ آپ جیسا کوئی ”نیک آدمی“ ہی مجھ ایسے نیک آدمی کو صدر بناسکتا تھا“.... نئے وزیراعظم عمران خان سے حلف لیتے ہوئے وہ بہت پریشان دکھائی دے رہے تھے، ویسے تو خود خان صاحب بھی شاید یہ سوچ کر اس موقع پر بڑے پریشان دکھائی دے رہے تھے کہ یہ واقعہ بالآخر ہوکیسے گیا ؟۔ ممنون حسین کی پریشانی البتہ ذراوکھری ٹائپ کی تھی۔ ان کے چہرے پر اتنی پریشانی اتنی ویرانی تھی جیسے وہ اگلے چند دنوں میں عہدے سے نہیں زندگی سے فارغ ہونے والے ہوں۔ اللہ ان کی عمر دراز کرے، کیونکہ اب وہ عمر کے جس حصے میں ہیں ان کی صرف عمردراز ہونے کی دعاہی کی جاسکتی ہے۔ جہاں تک نئے صدر مملکت کا تعلق ہے ہماری دعا ہے اللہ ان کی زبان دراز نہ کرے ورنہ ہمیں یوں محسوس ہوگا وہ صرف پی ٹی آئی کے صدر ہیں، جبکہ صدر بننے کے بعد پہلا بیان انہوں نے یہ جاری کیا ہے ”وہ صرف پی ٹی آئی کے صدر نہیں ہوں گے“۔ صدر سب کا سانجھا ہوتا ہے۔ جیسے مائیں بہنیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ سابق صدر ممنون حسین کا کردار ” بیگم“ کی طرح کا تھا جو سب کی سانجھی نہیں ہوسکتی ۔ جناب عارف علوی پڑھے لکھے انسان ہیں، میری ان سے صرف ایک بار ملاقات ہوئی، وہ لاہور میں عمران خان کے ساتھ علیم خان کے ایک عشائیے میں شرکت کے لیے تشریف لائے تھے، میں بھی وہاں موجود تھا۔ عمران خان نے میرا ان سے تعارف کروایا ”یہ توفیق بٹ ہیں ہمارے مہربان ہیں ، بہت زبردست آدمی ہیں“،....مجھے فخر ہوا ایک انتہائی ایماندار شخص میرے بارے میں ایسے جذبات کا اظہار کررہا تھا۔ وہاں جناب عارف علوی سے دوچار منٹ گپ شپ کا موقع ملا، جتنی خوبصورت گفتگو
انہوں نے کی، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا وہ کسی اہم عہدے پر تعینات ہو جائیں گے، کیونکہ ہمارے ہاں کسی اہم عہدے پر تعینات ہونے کے لیے ایک بڑی شرط اس کا بدزبان ہونا ہے۔ ہمارے شیخ رشید احمد ایسے ہی تو نہیں بار بار وزیر بن جاتے، ویسے شکر ہے خان صاحب نے ان کی شدید ترین خواہش کے مطابق انہیں ڈپٹی وزیراعظم یا وفاقی وزیر داخلہ نہیں بنایا ورنہ اس سے خان صاحب کی جو ساکھ متاثر ہوتی اس کا ازالہ شاید صدیوں میں نہیں ہونا تھا۔ اسی طرح مجھے یقین ہے طلال چودھری، عابد شیرعلی، دانیال عزیز اور رانا ثناءاللہ وغیرہ بھی بار بار اپنی بدزبانی کے زورپر ہی وزیر بنادیئے جاتے تھے۔ پہلی بار ان کی بدزبانی ان کے کام نہیں آئی لہٰذاپنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کبھی کبھی بدزبانی نہیں بھی کام آتی۔ اس لیے انہیں چاہیے کوئی اور خوبی اپنے اندر پیدا کرلیں جس کی بنیاد پر آئندہ بھی انہیں وزیر شذیر بنایا جاسکے،.... ویسے جب تک ڈاکٹر عارف علوی کی بطور صدر نامزدگی نہیں ہوئی ہم مختلف خدشات کا شکار ہی رہے کہ کہیں صدر پاکستان کے عہدے پر تعینات کرنے کے لیے بھی کوئی ”عثمان بزدار “ نہ ڈھونڈا جارہا ہو۔ شکر ہے کم ازکم اس عہدے پر وزیراعظم عمران خان نے خالصتاً میرٹ اور دیانت سے کام لیا لہٰذا ہم امید کرسکتے ہیں مستقبل میں وہ مزید ایسے اچھے فیصلے کریں گے جن سے ابتدائی طورپر ان کے کچھ غلط فیصلوں کا کسی حدتک ازالہ ہوسکے گا ۔.... جناب عارف علوی پیشے کے لحاظ سے ”ڈینٹسٹ“ ہیں۔ اب پتہ چلا وہ ہروقت دانت کیوں نکالتے رہتے ہیں، ویسے ”اختیارات“ کے حوالے سے ہمارے صدر پاکستان جن ”بے اختیاریوں“ سے دوچار ہیں میرے خیال میں اس عہدے کے مقابلے میں ”ڈینٹسٹ “ ہونا کہیں اہم اور بہتر ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کچھ عرصے بعد جناب عارف علوی وزیراعظم عمران خان سے یہ اجازت ہی طلب کرلیں گے کہ ”انہیں پارٹ ٹائم کلینک کرنے دیا جائے تاکہ ان کی گزربسرذرا اچھی ہو جایا کرے“۔ کل ایک دوست فرمارہے تھے نئے صدر مملکت عارف علوی اپوزیشن اور حکومت میں فاصلے مٹانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں،.... میں نے انہیں ایک واقعہ سنایا، ایک محلے میں لڑائی ہوگئی، لوگ آپس میں گتھم گتھا تھے، قریب کھڑے ایک صاحب اونچی اونچی آوازیں لگارہے تھے ”اس کے دانت توڑ دو، اس کے دانت توڑدو“....کسی نے پوچھا ”حضور آپ صلح کروانے کے بجائے، کیوں انہیں دانت توڑنے کے مشورے دے رہے ہیں ؟“۔ وہ صاحب بولے ” میں اصل میں ڈینٹسٹ ہوں، .... یادرہے ہمارے صدر مملکت بھی ڈینٹسٹ ہیں !


ای پیپر