کاشف پاکستانی
15 ستمبر 2018 2018-09-15

دو سال قبل ٹریننگ کے سلسلے میں امریکہ میں چند ہفتے رہنے کا اتفاق ہوا۔شام کے بعد اکثر فارغ اوقات میں پاکستانی کمیونٹی میں بیٹھک بھی رہتی تھی۔ ان میں سے کچھ شناساں چہرے بھی تھے اور کچھ نئے چہرے بھی مگر ان کے دل میں پاکستان کے لیے محبت اور وارفتگی کا عالم ایسا تھا کہ کہیں نہ کہیں اپنے اندر ہی کمی محسوس ہوتی تھی۔ انہیں نئے چہروں میں کاشف بھی تھا۔ چہرے اور لہجے میں اتنی سادگی اور پاکستان کو لے کر اس کے معصومانہ سوال ہر لحاظ سے اسکی طرف میری توجہ مرکوز کررہے تھے۔ لہجے میں ملک سے محبت کی جذباتیت کا عنصر صاف نظر آتا تھا۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ بھائی جان میں 2008 سے ورجینیا میں مقیم ہوں۔ میرے تعلق لاہور کے علاقے چوہنگ سے ہے اور پاکستان سے جڑی ہر خوشی اور غم کو دل سے محسوس کرتا ہوںلیکن چند برسوں سے پاکستان آنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ بس ٹیلی وژن پرپاکستانی نیوز چینلز لگا کر دیکھ لیتے ہیں تو دل بہت دکھی ہوتا ہے۔ آپ تومیڈیا میں ہیں کچھ اصل حقیقت آپ ہی بتائیں کیا واقعی پاکستان میں 20 20گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، کیا واقعی دہشت گردوں نے پاکستان میں اپنے پنچے گاڑے ہوئے ہیں، کیا ایسا ہی ہے کہ کراچی میں ایک شخص عمدہ گاڑی یا موبائل کے ساتھ آزادنہ گھوم نہیں سکتا۔ کاشف کے کئی سوالوں میں ایک سوال یہ بھی ہوتا تھا کہ کیا ہم اپنا مستقبل اب پاکستان میں تلاش نہ کریں؟ 2 سال پہلے کے حالات کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنے علم کے مطابق حقیقت کے قریب تر کاشف کے کئی سوالوں کے جواب بھی دیے اور حوصلہ بھی کہ نہیں پاکستان اس سے اب بہت مختلف ہے۔ امریکہ یا کوئی اور ملک پاکستانیوں کی عارضی سرائے تو ہوسکتا ہے لیکن مستقبل اپنے ملک میں ہی ڈھونڈنا ہوگا۔ خیر کچھ عرصے بعد میںپاکستان واپس آگیا مگر کاشف اور دیگر دوستوں سے مسلسل رابطے میں رہتاتھا۔ یہی وجہ تھی کہ گزشتہ دو سالوں میں کاشف دو بار پاکستان آیا اوردونوں بار پاکستان کے نہایت روشن چہرے کو پرامید انداز میں کاشف کی آنکھوں میں بھی دیکھا۔
کچھ روز قبل میرے معصوم دوست کاشف کی کال آئی۔ ابتدائی خیر خیریت کے بعدمیں نے پوچھا کاشف میاں پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان صاحب نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ایک ایک ہزار امریکی ڈالر کی امداد طلب کی ہے تاکہ پاکستان میں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے نئے ڈیم تعمیر کیے جاسکیںتو کیا تم نے 1000 ڈالر وزیراعظم فنڈ میں جمع کروادیے۔ ہمیشہ کی طرح بڑے جذباتی انداز میں کاشف بولا سلمان بھائی پاکستان کی خاطر تو میں اپنی جان دے سکتا ہوں یہ ہزار ڈالر کیا چیز ہے۔ میں ڈیم فنڈ میں پیسے دینے کا مکمل ارادہ رکھتا ہوں لیکن کیا میرا ایک پیغام پاکستان کے وزیراعظم کو پہنچاسکتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کوشش کی جاسکتی ہے۔ کہنے لگا کہ وزارت عظمیٰ سے قبل عمران خان صاحب ہر جلسے اور تقریر میں فرماتے تھے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو دنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت کرواو¿ں گا،بیرون ملک سے لوگ سرمایہ کاری کرنے پاکستان آئیں گے، پاکستان کی سب سے بڑی طاقت تارکین وطن ہیں انکی مدد سے معیشت کی گاڑی کو چلاو¿نگا۔ میری گزارش ہے کہ وزیراعظم صاحب سبز پاسپورٹ کی دنیا عزت کرے گی انشائ اللہ حکومت کو اس کے لیے تھوڑا وقت بھی چاہیے ہوگا لیکن سبز پاسپورٹ کی عزت کروانے کا آغاز سب سے پہلے پاکستان سے کریں۔ کاشف کا کہنا تھا ہم پورا سال پردیس میں دن رات کام کرتے ہیں پھر چند ہفتوں کے لیے خوشی اور غمی میں شریک ہونے کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ لیکن پاکستانی ائیرپورٹس پر آمداور روانگی کے وقت جو ہمارے ساتھ سلوک ہوتا ہے اتنا تو کبھی نیویارک اورواشنگٹن ایئرپورٹ پر امریکی بھی نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر پاکستان میںایئرپورٹ حکام میں جن میں خصوصاً FIA اور کسٹم اہلکار پاکستانیوں کے ساتھ اس قدر حقارت والا سلوک کرتے ہیں کہ وطن آنے کی آدھی خوشی ایئرپورٹ پر ہی غرق ہوجاتی ہے۔ بدتمیزی سے بولنا تو ان کے لیے عام بات ہے۔ سب سے پہلے ایئرپورٹ سٹاف زبردستی ہمارا سامان اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو یوںکہیے یہاں سے زبردستی 'دیہاڑیوں' کا آغاز ہوجاتا ہے۔ ہم پیسے دینے کو بھی تیار ہوتے ہیں لیکن ہمیں کوئی رسید تو ملے تاکہ سکون ہو ہمارا دیا ہوا پیسہ پاکستان کے خزانے میں جارہا ہے۔ مگر بار بار پوچھنے اور مانگنے پربھی ہمیں رسیدیں نہیں دی جاتیں بلکہ ملک کا نام بدنام کرتے ہوئے کہا جاتاہے یہ پاکستان ہے جناب یہاں ایسا ہی چلتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے پورے کا پورا ایئرپورٹ سٹاف ہی ملا ہوا ہے۔ اگر بخشش میں ایک ہزار کا نوٹ بھی دیں تو کہتے ہیں آپ تو شرمندہ کررہے ہیں آپ باہر سے آئے ہیں کم از اکم1000 ڈالر تو دیں۔ اور امریکہ جاتے ہوئے لاہور ایئرپورٹ پر آئیں تو لگتاہے ہم لوگ کوئی بہت بڑے گینگسٹر ہیں۔ ہم سے عجیب و غریب اتنے سوال کیے جاتے ہیں کہ طبیعت بے زار ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر سوال کیا جاتا ہے سگریٹ ہے آپ کے پاس سامان میں تو اس لیے اتنے پیسے جمع کروادیں۔ ہم کہیںاگر بھائی اجازت نہیں ہے تو ہم باہر اپنے دوست کو دے آتے ہیں تو کہتے ہیںنہیں نہیں بس تھوڑی جیب گرم کردیں تھوڑا خرچہ پانی دے دیں۔ اسی طرح اگرآپ کو سامان چیک کرانا ہو تو اس کی بھی ایئرپورٹ پر فیس 2000 ہزار روپے اینٹھی جاتی ہے۔ میں کہوں یہ تو FIA کی جاب ہے تو جواب دیتے ہیں دیناپڑتا ہے۔ ہم سے پوچھتے ہیں کتنے دن پاکستان میں رہے تو ہر مہینے کے حساب سے اپنے ہی ملک میں رہنے کے 3000 روپیہ ٹیکس بھی ایئرپورٹ پر لیا جاتا ہے اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ لاکھ مانگنے کے باوجود رسید بھی نہیں دیتے۔
اپنا لیپ ٹاپ لے کر جارہا ہوں تو کہتے ہیں 100 ڈالر اسکا ٹیکس دو۔ کاشف کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر سرکاری محکموں کی جانب سے روا رکھے گئے سلوک پر عمران خان صاحب کی حکومت کو تھوڑی توجہ دینی چاہیے۔ ہم اپنے ملک میں سکون کی تلاش میں آتے ہیں۔ 1000 ڈالر نہیں ہم اپنی ساری کمائی اس ملک پرنچھاور کرنے کے لیے تیار ہیں مگر ہمیں ہمارے ملک میں عزت تو دو۔ امریکہ کے کسی ایئرپورٹ پر ہمارے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوتا چنانچہ سبز پاسپورٹ کی عزت بیرون نہیں اندرون ملک میں ہونی چاہیے۔ کاشف کی گفتگو سن کر میں بھی بہت شرمندہ ہوا۔ واقعی اخلاق کے کسی دائرہ میں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ آپ وزیراعظم یا چیف جسٹس ہو کر کسی شخص سے ملک کے لیے فنڈ بھی مانگ رہے ہیں اور اسی شخص کو اس کے ملک میں آتے ہوئے پہلے استقبالیہ میں انہیں اتنا ذلیل اور خوار ہونا پڑتا ہے۔ وزیراعظم صاحب نئے پاکستان میں صرف سوچنا نہیں بہت کچھ کرنا بھی ہوگا۔


ای پیپر