جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کی جاسوسی
15 اکتوبر 2020 (19:59) 2020-10-15

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کی شوگر ملز کی انکوائری سے پہلے حکومت کے تحقیقاتی اداروں نے جہانگیر ترین ٗ ان کے خاندان اور کاروبار کے بارے میں جاسوسی کی۔ 

سوشل میڈیا پر اپنے چینل کے ذریعے ایک سنیئر صحافی نے  پی ٹی آئی کے رہنما   جہانگیر ترین کے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ  شوگر انکوائری سے پہلے حکومت کے 2 تحقیقاتی یونٹس نے جہانگیر خان ترین ، ان کے خاندان اور کاروبار کے بارے میں جاسوسی کی۔وزیراعظم عمران خان کے اردگرد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے سابق جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین کے درمیان غلط فہمی پید اکرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے معاملات خراب ہوئے۔

یو ٹیوب چینل پر  مزید بتایا گیا کہ جہانگیر ترین اور وزیر اعظم عمران خان کے تعلق کی وجہ سے پارٹی میں بہت سے دھڑے ایسے تھے جو ان میں ڑیں ڈالنا  چاہتے تھے اور انہوں نے اس کیلئے خاص منصوبہ بندی کے تحت یہ کام کیا ہے اور وہ اس میںکامیاب بھی ہوگئے اور   جہانگیر ترین کو عمران خان سے دور کر  دیا۔

یاد رہے کہ  شوگر انکوائری رپورٹ میں جہانگیر ترین کی شوگر ملز پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ چینی کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھا کر جہانگیر ترین کی شوگر ملز کو اربوں  روپے کا فائدہ پہنچایا گیا ہے


ای پیپر