دیکھئے، اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
15 اکتوبر 2020 (12:58) 2020-10-15

کل جمعہ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والے ’پی ڈی ایم‘ نامی متحدہ حزب اختلاف کے جلسہ عام سے اسٹیبلشمنٹ اور عمران حکومت کے خلاف جو ملک گیر تحریک زبردست اٹھان کے لئے پَر تول رہی ہے…… اس کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں ہر سیاسی مکتبہ فکر اور بیشتر صاحبان الرائے کی جانب سے مختلف اور متعارض سوالات اٹھائے جا رہے ہیں …… تحریک نے ابھی جنم نہیں لیا لیکن اس کے بارے میں ایک مباحثہ ہے جو ملک کے ایک کونے سے لے کر دوسرے تک جاری ہے…… وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاسوں کا سب سے بڑا موضوع اس تحریک سے پیدا ہونے والا امکانی چیلنج اور اس سے نمٹنے کے لئے حکومت کی پالیسی کے مختلف پہلو ہوتے ہیں …… حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کی لیڈر شپ اور ان کے کارکن اسے کامیاب بنانے اور حکومتی رکاوٹوں کا توڑ کرنے کے لئے سرگرداں ہیں …… اخبارات میں چھپنے والی خبروں اور تبصروں و تجزیوں کا بڑا موضوع اسی تحریک کی اصل نوعیت اور قومی سیاست پر پڑنے والے ممکنہ مثبت اور منفی اثرات ہیں …… ٹیلی ویژن چینلوں پر اس حوالے سے روزانہ نت نئی بحثیں جنم لے رہی ہیں اور وہ جسے سوشل میڈیا کہتے ہیں، جس کے ذریعے بسا اوقات ایسی آراء اور خفیہ خبروں کا اظہار ہو جاتا ہے کہ اخبارات اور ٹیلی ویژن پر چھپنے اور نشر ہونے والا سارا مواد ماند پڑتا نظر آتا ہے…… ’ایف آئی اے‘ کے حال میں ریٹائر ہونے والے ’ڈی جی‘ بشیر میمن کا یوٹیوب سے جاری ہونے والا تازہ انٹرویو دیکھ لیجئے سب پر چھا گیا…… اس سے تحریک کے جذبوں کو نئی مہمیز اور اخلاقی جواز ملا…… اس سب پر اکتفا نہیں مقتدر حلقوں اور ان کی خاص حکمرانی کے تحت کام کرنے والی ایجنسیوں کے یہاں بھی اپوزیشن کی اس تحریک جس کا ابھی باقاعدہ آغاز بھی نہیں ہوا گہری تشویش کی باعث بنی ہوئی ہے، گھبراہٹ طاری ہے…… ماضی میں بھی ہمارے ملک کے اندر بہت سی تحریکوں نے جنم لیا…… حکومتیں اُلٹا کر رکھ دیں …… ملکت خداداد کی تاریخ بدل ڈالی لیکن ان میں سے کسی نے بھی اڑان بھرنے سے پہلے ہی قوم کے بہترین اذہان کو اس طرح اپنی گرفت میں لیا ہو اور ایوان ہائے اقتدار سے لے کر گلی محلوں تک لوگوں کی توجہات اپنی جانب مبذول کرا لی ہوں …… ایک دن باقی رہ گیا ہے دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا……

مریم نواز کا جو گوجرانوالہ کی ریلی یا جلسے کی سرخیل ہوں گی اور مابعد جلسوں اور جلوسوں کی ممتاز یا کافی حد تک کرشماتی شخصیت، کہنا ہے آئندہ ماہ جنوری تک یہ تحریک عمران حکومت کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گی…… اس کے برعکس مخالفین خاص طور پر حکومتی طبقوں اور ان کے زیرسایہ آراء دینے والوں کی رائے ہے ماضی میں کب کوئی حکومت محض جلسوں اور جلوسوں کی طاقت کے آگے ٹھہر نہیں سکی ہے یہ تو دوسرے عوامل ہوتے ہیں جو اگر مل جائیں تو خطرہ بنتے ہیں …… اس ضمن میں تیسری رائے یہ پیش کی جا رہی ہے احتجاجی ریلیوں، جلسوں اور جلوسوں کے فوری نتیجے میں حکومت کے ستون جن پر وہ کھڑی ہوتی ہے گر نہیں جاتے…… لیکن ان کے اندر دراڑیں ضرور پڑ جاتی ہیں …… چھت بھی یقینا کمزور ہو جاتی ہے جیسا کہ ایوب خاں کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کا صدارتی امیدوار بن کر بظاہر طاقتور فوجی حکومت کو جھنجھوڑ کر رکھ دینا اور 2014 میں عمران جمع طاہرالقادری کے دھرنوں کا نوازشریف کی منتخب حکومت کے انہدام کا نقطہ آغاز ثابت ہونا سب کے سامنے ہے…… لہٰذا سردست موجودہ تحریک کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا…… کتنا زور دکھائے گی اور کتنا شور مچائے گی…… پنجاب چونکہ پہلی مرتبہ ایسی کسی تحریک کا اس کے جنم دن سے ہی DRIVING FORCE بن جانے کا عزم باندھے ہوئے ہے لہٰذا اس نئی تاریخی کروٹ کی وجہ سے تحریک آغاز سے پہلے ہی سارے ملک کے لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بن گئی ہے…… اسی واسطے اس کے بہت جلد فیصلہ کن بن جانے کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں ……

دوسرا اہم ترین سوال جو تحریک کے پیچھے کارفرما محرکات کا مکمل ادراک حاصل کرنے کی خاطر اٹھایا جا رہا ہے کہ ملک کے سب سے زیادہ طاقتور عناصر جنہیں مقتدر قوتوں کا نام دیا جاتا ہے اور ہر طرح کی 

احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کہہ کر ان کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے…… ان کے پس پردہ اور حقیقی عزائم کیا ہیں …… آسانی سے سمجھ میں آنے والا جواب یہ ہے طاقتور عناصر عمران حکومت کی پشت پر کھڑے ہیں …… وہی اس کو لے کر آئے ہیں …… ابھی تک اس تجربے کو محض دو سال لگے ہیں …… اتنی جلد وہ اپنے ہی Brain Child کا کیونکر ساتھ چھوڑ دیں گے…… مقابلتاً دوسری رائے ہے جوا کسی کا نہ ہوا …… انہیں اپنا مفاد عزیز ہے کسی صورت میں اسے عمرانی انتظامیہ کی خواہ وہ ان کی اپنی تخلیق ہو بھینٹ چڑھا کر رکھ دینا پسند نہیں کریں گی لہٰذا اگر تحریک زور پکڑ گئی تو آج نہیں کل حکومت کی پشت پناہی سے ہاتھ اٹھا لیں گی…… اسی کے ساتھ اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے اگر اسٹیبلشمنٹ نے منہ موڑ لیا تو حکومت جانے میں یقینا دیر نہیں لگے گی لیکن آگے چل کر خصوصی رسوخ والے کرتب دکھاتے ہوئے ماضی کی مانند سب سے زیادہ حصہ وصول کریں گی جو نظر بیشک نہ آئے لیکن محسوس بہت ہو گا…… مارشل لاء خواہ نہ لگائیں اپنی روایتی طاقت، درون مے خانہ والا رسوخ اور کارہائے حکومت میں مسلسل مداخلت کے شغل کو جاری رکھیں گی تو پھر اس ساری تگ و دو کا فائدہ؟ اگر تاریخ کے پہیے نے آگے رواں ہونے کی بجائے ایک ہی نقطے گھومتے رہنا ہے…… آخری اور خاصی حد تک اہم سوال یہ بھی ہے امریکہ کس کا ساتھ دے گا…… بھٹو مرحوم کا ہاتھی میرے در پے آزار ہے والا فقرہ سب کو یاد ہے …… اس ضمن میں کچھ لوگوں کا خیال ہے واحد سپر طاقت کو افغانستان سے اپنی افواج کا جلد از جلد انخلا بہت عزیز ہے…… وہ اس ضمن میں عمران حکومت کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے لہٰذا اتنی جلد ایسی حکومت کو غرق مے تاب نہ ہونے دے گی…… مگر مقابلے میں ایک خیال یہ بھی پیش کیا جا رہا ہے امریکہ میں خاص طور پر جب وہاں آج کی مانند ری پبلکن صدر ہو ہمیشہ معاملات ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کئے جاتے ہیں اسے ہی حقیقی طور پر طاقتور گردانا جاتا ہے…… لہٰذا اسے زیادہ فکر نہیں ہو گی کہ عمران انتظامیہ نامی سویلین ڈھانچا برقرار رہتا ہے یا نہیں …… تاہم 3 نومبر کا دن جس روز نئے امریکی صدر کا فیصلہ ہو جائے گازیادہ دور نہیں …… اس روز کی شام طے ہو جائے گا اگلا صدر بھی موجودہ ری پبلکن یعنی ڈونالڈ ٹرمپ ہوں گے یا ان کے مدمقابل ڈیموکریٹ جوبائیڈن…… چند روز کی بات ہے انتظار کر لیجئے……

لیکن قارئین باتمکین ان تمام تر قیاس آرائیوں اور بحث مباحثے کے غبار میں اصل دو سوال جن پر اس تحریک کی علانیہ بنیاد رکھی گئی ہے گم ہوتے نظر آ رہے ہیں …… یا انہیں ثانوی حیثیت دے کر زیادہ زیربحث نہیں لایا جا رہا…… ان میں پہلا اور بنیادی مسئلہ آئین مملکت کی بالادستی کو عملاً یقینی بنانا ہے…… اسلامی جمہوریہ پاکستان کے متفق علیہ دستور کو اس کے ایک ایک لفظ اور روح کے مطابق نافذالعمل بنانا اور منوانا ہے…… قائداعظمؒ نے تو اپنی بنائی ہوئی مملکت کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر حلف اٹھاتے ہوئے اعلان کیا تھا میں ملک کا جو آئین بنے گا اس کا وفادار رہوں گا…… یعنی آئین وہ چیز ہے ابھی وجود میں نہیں آئی تھی بانی پاکستان نے اس کا اتباع اپنے اوپر لازم ٹھہرا لیا تھا جبکہ ہم ناخلفوں نے دستور کے بن جانے اور بظاہرنافذ ہو جانے کے بعد بھی اس مقدس قومی دستاویز کو بار بار بوٹوں تلے روند کر رکھ دیا…… ملک کا ٹوٹ جانا گوارا کر لیا مگر طاقتور حلقوں نے اس کے اتباع سے گریز کی راہ اختیار کئے رکھی…… یہی ہماری حرماں نصیبی کا بنیادی سبب ہے…… مسلسل ٹھوکریں کھائیں قدم قدم پر ہزیمت برداشت کی مگر آئین مملکت کی جگہ اپنی بالادستی پر حرف نہ آنے دیا…… موجودہ تحریک نے 20 ستمبر کو منعقد ہونے والی جس ’اے پی سی‘ سے جنم لیا ہے اس کی کلیدی تقریر میں لندن میں بیٹھے تین مرتبہ منتخب ہونے والے سابق وزیراعظم نوازشریف نے پُرزور الفاظ میں اس قومی المیے کا اس طرح کھل کر اظہار کیا کہ ایوان ہائے اقتدار و حکومت میں زلزلہ سا محسوس ہوا چنانچہ شریک کانفرنس ملک بھر کی نمائندگی کرنے والی تمام کی تمام سیاسی لیڈرشپ نے مشترکہ اعلامیے میں طے کیا وہ سویلین یا آئین کی بالادستی کی منزل کو حاصل کر کے دم لیں گے…… اب جو تحریک اُڑنے کے لئے پَرتول رہی ہے تو اس مسئلے کو ناصرف زندہ رکھنا چاہئے بلکہ آنے والے ہر قدم پر یہ فکر دامن گیر رہنی چاہئے کہ تمام تر جدوجہد کا اصل مقصد اوجھل نہ ہو اور یار لوگ ماضی کی مانند جمہوری عناصر کی تیارکردہ دیگ پر اپنا مصالحہ چھڑک کر اسے اچک کر نہ لے جائیں …… اگر یہ نہیں بابا تو باقی سب کہانیاں ہیں!…… اسی سے جڑا ہوا دوسرا اور اتنا ہی اہم قضیہ اس حد تک شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد ہے جن کے نتائج تمام شریک جماعتوں اور پوری قوم کے لئے قابل قبول ہوں ……  اس خواہش کا اظہار تو جملہ فریقین کی جانب سے ہر سطح پر کیا جاتا ہے مگر عملاً نتائج کو کم تسلیم کیا جاتا ہے…… اسی کے باعث نئی حکومت اور نئے چہرے لیلائے اقتدار کے ہم نشین ہو بھی جائیں دعوے بھی بہت کریں لیکن ملک اور قوم کو اعتماد کسی صورت حاصل نہیں کر پاتے عدم استحکام برقرار رہتا ہے ایک کے بعد دوسرا بحران سروں پر آن کھڑا ہوتا ہے…… شفاف انتخابات اور پُرامن انتقال اقتدار موجودہ تحریک کے دو بنیادی مقاصد میں سے ایک ہیں …… ان کی خاطر جو فول پروف نظام وضع ہونا چاہئے اس پر غوروفکر کی کم زحمت کی جاتی ہے…… یہ سوال اس جانبدار طریقے سے قومی مباحثے کا حصہ نہیں بن رہا جو ان دنوں جاری ہے آخر کیوں …… جبکہ اسے تمام سوالات کے سرفہرست ہونا چاہئے…… اس کی ذمہ دار وہ جماعتیں بھی ہیں جو موجودہ تحریک کی قیادت کر رہی ہیں اور جنہیں دھاندلی زدہ انتخابات کے منفی نتائج سے سب سے زیادہ دوچار ہونا پڑتا ہے…… لازم ہے اس کی جانب ابھی سے پوری طرح متوجہ ہوا جائے…… اگر آگے چل کر حکومت اور ’اے پی سی‘ کی قیادت میں مذاکرات کی نوبت آتی ہے تو ان کا مرکزی موضوع بھی شفاف ترین انتخابات کے انعقاد کی خاطر مشترکہ نظام العمل پر اتفاق رائے حاصل کر کے اس کا سختی کے ساتھ نفاذ ہے نا کہ کوئی اور اس کے بغیر تحریک کامیاب ہو کر بھی بری طرح ناکا م ہو گی……


ای پیپر