پی ڈی ایم: حکومتی بلڈ پریشر میں مسلسل اضافہ
15 اکتوبر 2020 (12:52) 2020-10-15

پاکستان کی قومی سیاست کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی رموز و اوقاف کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بطور سیاستدان جب آپ اقتدار میں ہیں تو آپ کا سکرپٹ اور ہوتا ہے اور جب آپ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو آپ کا بیانیہ مکمل طور پر پہلے سے مختلف بلکہ الٹ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ اپوزیشن میں رہ کر بجلی کا بل نذر آتش کرتے ہیں اور بینکوں کے ذریعے ترسیل زر کی مخالفت کرتے ہیں تو آپ کا یہ طرز عمل عین حب الوطنی ہوتا ہے مگر جب آپ اقتدار میں آتے ہیں اور کوئی دوسرا اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج کی بات کرتا ہے تو وہ ملک و قوم سے غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ 

پاکستان تحریک انصاف چونکہ پہلی بار اقتدار میں آئی ہے اس لیے اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت مخالف دھرنے اور ریلیوں پر کیا ردعمل ظاہر کرنا ہے۔ آج سے کوئی نصف صدی پہلے انگلستان میں یہ ٹرینڈ ہٹ ہو گیا کہ اپنے مخالفین کو زچ کرنے کا محفوظ ترین طریقہ یہ ہے کہ اسے غدار قرار دے دیں۔ اس رجحان نے سیاست میں شدت پسندی کو فروغ دیا مگر انگریز دماغ سمجھدار تھے، آہستہ آہستہ انہوں نے اس سے چھٹکارا حاصل کر لیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی دشمن کو غدار بنانے کا یہ ہتھکنڈا ایشیا اور افریقہ کی طرف منتقل ہو گیا جہاں یہ پوری شدو مد سے جاری ہے۔ تحریک انصاف نے بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مخالفین پر غداری کے الزامات ثبت کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ 

اس پس منظر میں صاف نظر آ رہا ہے کہ اپوزیشن کے سیاسی اتحاد اور مظاہروں کے اعلان اور پارلیمنٹ سے استعفوں کی دھمکی کے بعد حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول رہے ہیں جوں جوں وقت آگے بڑھے گا حکومتی بے چینی میں اضافہ ہوتا جائے گا اور جہاں بھی لاء اینڈآرڈر کا مسئلہ ہو گا یا پر تشدد کارروائی ہو گی چاہے یہ سیاسی کارکنوں کی طرف سے ہو یا پولیس کی طرف سے، اس کا سب سے زیادہ پریشر حکومت پر ہی آئے گا۔ 

پاکستان تحریک انصاف کی طرف حکمرانی بذات خود حکومت مخالف مظاہروں کی قدرتی وجہ ہے۔ ملک میں مہنگائی کا زلزلہ اور اس کے آفٹر شاکس تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ حکومت کی لنگر خانے کھولنے کی سکیم کو اگر گلی گلی تک پھیلا دیاجائے تو بھی کامیابی نہیں ہو گی۔ دنیا کی کوئی حکومت آج تک غریبوں میں امداد تقسیم کرنے سے مسائل حل نہیں کر سکی لہٰذا یہ نمائشی لنگر خانے ہمیں کہیں نہیں پہنچا سکتے۔ اپوزیشن کے سیاسی مفادات اور مطالبات سے قطع نظر یہ حکومت تو اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے چہ جائیکہ اس موقع پر کوئی بیرونی فیکٹر اونٹ کی بوجھ سے چور کمر پر آخری تنکا ثابت ہو۔ 

ان حالات میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ یا PDM کی سربراہی مولانا فضل الرحمن جیسے سیاستدان کے ہاتھ آ گئی ہے جو اپنی سیاسی کرتب گری میں خاصے معروف ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ سیاسی لین دین میں اپنے سائزسے زیادہ حصہ وصول کیا ہے کیونکہ وہ مذاکرات کے ماہر ہیں۔ آصف زرداری کو سمجھوتوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے لیکن مولانا فضل الرحمن ٹیبل پر اسے ہمیشہ مات دیتے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی جیسی جماعتوں کے ہوتے ہوئے PDM کی سربراہی فضل الرحمن کے ہاتھ آنا کسی کرشمے سے کم نہیں۔ مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں پارٹیوں نے بہت سوچ سمجھ کر مولانا کو آگے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت چاہتی تھی کہ ن لیگ یا پیپلزپارٹی میں سے کوئی اس اتحاد کا سربراہ بنے گا تو پارٹیوں پر کرپشن کے الزامات کی وجہ سے حکومت کے لیے اس تحریک کے خلاف پراپیگنڈا آسان ہو جائے گا کہ یہ دونوں پارٹیاں چور ہیں یا ایک دوسرے کی کرپشن بچا رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ 

یہاں ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ماڈریٹ اسلام کی بات کرتی ہے یہ ایک اعتدال پسند پارٹی ہے۔ یہ بات اس کو دینی جماعتوں سے ممتاز کرتی ہے۔ پارٹی کے پاس مدرسوں کا ایک مربوط نیٹ ورک ہے جو اس کا سیاسی اثاثہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے 2011ء کے مینار پاکستان کے جلسے کے بعد اس پارٹی کا کسی سے اگر نظریاتی مقابلہ تھا تو وہ بلا شبہ جے یو آئی ہی تھی۔ 

تحریک انصاف نے گزشتہ انتخاب میں سب سے زیادہ نقصان بھی جے یو آئی کو پہنچایا تھا جب مولانا فضل الرحمن اپنی ذاتی نشست بھی ہار گئے تھے۔ تحریک انصاف اسلام اور اعتدال پسندی کی بات کرتی ہے دونوں پارٹیاں نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے اتنی ہی قریب ہیں جتنی ن لیگ اور پیپلزپارٹی آپس میں ہیں۔ 

دوسری طرف ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی مجبوری تھی کہ انہیں مولانا کو اتحاد کا سربراہ بنانا پڑا کیونکہ ان کے سیاسی قد و قامت کے برابر اور کوئی لیڈر نہیں تھا۔ مولانا نے بھی صورت حال کا فائدہ اٹھایا اور ایک چھوٹی جماعت ہوتے ہوئے بھی اتنے بڑے اتحاد کے سربراہ بن گئے جس کی واحد وجہ ان کا سیاسی پروفائل اور کرپشن سے مبریٰ کیریکٹر تھا۔ یہ الگ بات کہ احتساب بیورو ان کے خلاف ذرائع آمدن سے متجاوز لائف سٹائل کی تحقیقات کر رہا ہے۔ پی ٹی آئی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کاش PDM کا سربراہ فضل الرحمن کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو حکومت کے لیے آسانی ہو جاتی۔ 

تحریک انصاف کی مدت میں ابھی نصف سے زیادہ عرصہ باقی ہے مگر پی ڈی ایم تحریک ان کو ٹف ٹائم دینے پر کمربستہ ہے۔ اس وقت عوام حکومت سے اتنے دلبرداشتہ ہیں کہ وہ کسی بھی تحریک کا حصہ بننے کو تیار ہیں۔ ان حالات میں PDM کی پنجاب، سندھ اور پورے ملک میں ریلیاں حکومت کی آنکھیں کھول دیں گی اور خطرہ یہ ہے کہ پی ٹی ا ٓئی حکومت بوکھلاہٹ میں کوئی ایسے احکامات جاری نہ کر دے جس سے ملک انارکی کی طرف چلاجائے۔ حکومتی وزراء حتیٰ کہ وزیراعظم کی باڈی لینگوئج بتا رہی ہے کہ وہ سب گھبرائے ہوئے ہیں اور ان کی گھبراہٹ کی وجہ اپوزیشن اتحاد نہیں بلکہ حکومت کی اپنی ناقص کارکردگی ہے۔ ان حالات میں پس پردہ سمجھوتے یا فیصلے بھی نظرثانی کیے جا سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں حکومت کا جاری رہنا مشکل ہو جائے گا جبکہ اگلے انتخابات تک گیم مکمل طور پر الٹ سکتی ہے۔ حکومت بہت تیزی سے عوام کے اندر اپنی مقبولیت کھو رہی ہے۔ 

حکومتی تدبیر تو یہ ہے کہ کسی طرح مولانا فضل الرحمن کو بھی لگے ہاتھوں غداری یا بغاوت کا مرتکب قرار دلوا دیا جائے اور موجودہ نیب کے ہوتے ہوئے یہ کوئی بعید از امکان بھی نہیں ہے مگر اس کے نتائج بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اسی اثنا میں سابق ڈی جی ایف آئی اے جنہوں نے ریٹائرمنٹ سے تھوڑا عرصہ قبل استعفیٰ دے دیا تھا، ان کا حالیہ بیان حکومت کے لیے شرمناک ثابت ہوا ہے۔ محترم بشیر میمن کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال انہیں اعلیٰ ترین حکومتی شخصیت (ان کا اشارہ وزیراعظم کی طرف ہے) نے انہیں مجبور کیا کہ مریم نواز پر دہشت گردی کا مقدمہ بنایا جائے۔ بشیر میمن کا کہنا ہے کہ میں نے مقدمہ درج کرنے سے انکار نہیں کیا تھا۔ صرف اتنا پوچھا کہ کس قانون کے تحت ہم ان پر دہشت گردی کا کیس درج کریں۔ اس کے بعد بشیر میمن صاحب نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر گھر کی راہ لی۔ ان کا حالیہ بیان موجودہ حکومت کے فرشتہ سیرت ہونے کے تاثر کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔


ای پیپر