سرخیاں ان کی……؟
15 اکتوبر 2020 (12:43) 2020-10-15

٭…… حکومت کو جلد گھر بھیج دیں گے…… پی ڈی ایم

٭……بلاشبہ ہماری قومی سیاست میں جہاں خاندانی، شیجع و ذہین اور معاملہ فہم حکمران ابھرے وہیں کم ہمت، کم فہم، اور کرپٹ ترین حکمران بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہیں۔ سچ پوچھیں تو اکثر دوستوں، دانشور، صحافیوں کی محفلوں میں یہ بات دہراتا رہتا ہوں کہ تقریباً ہر حکومت اقتدار میں آتے ہی انتشار و افتراق کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی، حلف اٹھاتے ہی حکمران حکومتی نشے میں مخمور نئی طرز کی زندگی اور عوام مجبور مقہور وہی گھسی پٹی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں عوام اور حکومت کے درمیان باہمی فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ دوسری، یہ کہ خبط عظمت کے مارے کمزور اور کم فہم حکمرانوں کے جہازوں سے اترے مشیران حکومت کرنے لگتے ہیں۔ ایسی حکومت جس میں ان کا مفاد اولین ترجیح ہوتا ہے اور اسی مقصد کے لئے وہ اپنا تمام تر وقت ٹی وی چینلز اور قومی اخبارات میں من گھڑت اعدادوشمار کے ساتھ تعمیر و ترقی کے ایسے ایسے قصے حکمرانی کے نشے میں چور حکمرانوں کو سناتے ہیں کہ ان کا نشہ اور بڑھ جاتا ہے اور انہیں ہوش اس وقت آتا ہے جب وہ اپنے بادشاہ سلامت کا نام استعمال کرتے کرتے کھرب پتی بن چکے ہوتے ہیں اور عوام کے نا صرف چولہے بجھ چکے ہوتے ہیں بلکہ ان کے گھروں میں بھوک، بیماری، جہالت کے بھوت ناچنے لگتے ہیں اور ایسے موقع پر اصلاح احوال کے لئے کوئی کوشش بھی کارگر نہیں رہتی۔ پھر مشیران اپنے اپنے کام دِکھا کے پُھر سے اڑ جاتے ہیں اور حکمران اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچ کراپنے دور اقتدار کویاد کرنے اور اس کے حصول کے 

لئے پھر سے نئے نعرے ترتیب دیتے لگتے ہیں۔ معذرت خواہ ہوں تمہید کچھ طویل ہو گئی۔ تو بات ہو رہی تھی حکومت کو جلد گھر بھیج دیا جائے گا۔ اپوزیشن نے مورچے سنبھال لئے ہیں مگر میں سوچ رہا ہوں خاطر جمع رکھئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ تو اسی سلسلے کی کڑی ہے جو گزشتہ پچاس برس سے جاری و ساری ہے۔ یہ تو گندی اور بدبخت سیاست کے پھیر میں اُلجھی ایک ایسی کتھا ہے جس کا مفہوم ہی آزادی کے نام پر قومی بربادی ہے بلکہ اب تو لگتا ہے جیسے ہمارے ملک میں سیاست کا مطلب ہی کم بخت ”کرسی“ ہے۔ ورنہ ناتو ہماری سیاست میں مثالی، مدبر اور باعزت سیاستدانوں کی اور نہ ہی معاملہ فہم مصالحت پسند عوامی لیڈروں کی کمی ہے۔ لہٰذا ہر ذی شعور کی آج بھی خواہش ہے کہ ہم لٹھیں ہوا میں لہرانے اور مرنے مارنے کی سیاست کرنے کو ترک کریں اور ٹھنڈے دل و دماغ سے کم از کم یہ ضرور سوچیں کہ آشیانے شجر پے ہی اچھے لگتے ہیں۔ شجر ہو گا تو آشیانے ہوں گے اور آج آپ جو کچھ ہیں اسی سایہ دار، پھلدار شجر کی بدولت ہیں ورنہ آپ کی حقیقت کسے معلوم نہیں ہے۔ آج دنیا کا ہی نہیں تہذیبوں کا بھی رنگ ڈھنگ بدل رہا ہے۔ آپ بھی خود کو بدل کے دیکھیں۔ آپ ناصرف اپنے منفی رویے بلکہ اپنی منفی اور مادہ پرست سیاست کو ترک کر کے دیکھیں کہ شاید ہماری قومی حالت بھی بدل جائے اور اس کے لئے اولین فرض تو حکومت وقت کا ہے کہ وہ اگر دو قدم ہٹلرمودی کے بڑھانے پر چار قدم آگے بڑھا سکتی ہے تو اپنی اپوزیشن کے ساتھ یہ مثبت رویہ اختیار کیوں نہیں کر سکتی جبکہ اس کی حالت بھی پتلی ہے اور وہ قوم کے قیمتی ترین دو سال بھی ضائع کر چکی ہے۔اسی طرح اپوزیشن کا بھی فرض ہے کہ اس کے سامنے دو راستے ہیں۔ جس طرح میری یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ میں نے ہندوستان کے باعزت، باشعور اور معروف و مستند صحافی کلدیپ نیئر کو ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ ایک یہ کہ دونوں لڑ کر تباہ و برباد ہو جائیں۔ دوسرا یہ کہ میز پر بیٹھیں اور باہمی مذاکرات سے اپنے مسائل حل کریں۔میری اس سوچ کو کس قدر سراہا گیا تھا وہ بھی ریکارڈ کاحصہ ہے۔ اسی طرح آج میں اپنی اپوزیشن جس میں گراں قدر اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار آئیڈیل سیاستدان موجود ہیں۔ ان سے میری اپیل ہے کہ وہ قومی سیاست میں مفاہمت کی نئی تاریخ رقم کریں۔ اصولوں کی قندیل تھامیں اور قوم کو اندھیروں سے نکالنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ مفادپرستی ترک کریں۔ قوم کی بیساکھیاں نہ بنیں قوم کے بہادر بیٹے بن کر اس کے بازو بنیں اور ایک نئے یقین اور عمل کے ساتھ مثبت سیاست کا آغاز کریں کیونکہ مہذب معاشروں میں اپوزیشن اللہ کا انعام ہوتی ہے۔ وہ حکومت سے زیادہ باعزت سمجھی جاتی ہے بلکہ وہ ایک ایسی Shadow Govt کی شکل ہوتی ہے جو اپنے جوہری ویژن، مستقبل بینی اوراعلیٰ ترین صلاحیتوں سے حکومت وقت کو راہ دکھاتی ہے۔ یہ مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ہے ویسے بھی اگر نیت میں کھوٹ نہ ہو تو حصول منزل آسان ترین ہو جاتی ہے ورنہ ہاتھ آئی منزل بھی کھو جاتی ہے اور دوسرا راستہ وہی روایتی سیاست کا ہے۔ جو شریف خاندان، بھٹو خاندان، ضیاء، مشرف اور عمران خان یعنی جو جمہوریت پسندوں اور آمریت پسندوں نے اختیار کیا تھا جس کی مثال یہی کافی ہے کہ جو کل جناب عمران خان نے کیا تھا آج اُن کے خلاف ہونے جا رہا ہے۔ لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہمیں بدلنا چاہئے۔ اپنی سیاست کی توقیر اور عزت کی تکڑی بھی بدلنی چاہئے اور اب ہماری سیاست سے نفرت کی آگ کے بجائے رنگ اور روشنیاں پھوٹنی چاہئیں تاکہ اندھیرے ختم ہوں اور منزل آسان ہو۔ 

اک دل ہے کہ بسایا نہیں جاتا ہم سے

لوگ صحراؤں کو گلستاں بنا دیتے ہیں 


ای پیپر