سیاحت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے
15 اکتوبر 2020 (12:38) 2020-10-15

موسم بہار کی بات ہے جب میں نے پہلی بار فرانس کے پُرکشش ساحل پر قدم رکھا۔ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر چلتے ہوئے، میں بحیرہ روم کے گہرے نیلے رنگوں میں کھو جاتی۔ فرانس کا ہر شہر اپنے آپ میں ایک فنکارانہ خوبصورتی رکھتا ہے۔ اتنی خوبصورتی کہ میں خود کو مصوری کے زندہ شاہکار میں گھومتا محسوس کرتی، خوبصورت منظر، خوشبودار باغات اور متمدن معاشرہ ہر سُو نظر آتے۔ یہ تعجب کی بات نہیں کہ فنکار اور مصنفین جیسے پبلو پکاسو، ہنری میٹسی، فرانسس بیکن، ایدھ وارٹن اور پیئر، اگسٹ رینوئر اس علاقے سے متاثر ہوئے۔

1924 میں، امریکی ناول نگار ایف سکاٹ فٹزجیرالڈ اپنے اہلخانہ کے ساتھ فرانسیسی ساحل پر چلے گئے تھے تا کہ وہ اپنی تحریر پر توجہ دے سکیں۔ وہ نیو یارک کے لانگ آئی لینڈ میں واقع اپنے مہنگے اور پُر تعیش گھر میں انتھک کوشش کے باوجود تخلیقی کام کرنے میں ناکام رہے تھے۔ فرانس کے جنوب میں ان کا رہائش پذیر ہونا نتیجہ خیز ثابت ہوا، کیوں کہ وہاں ہی انہوں نے ”دی گریٹ گیٹسبی“ لکھا، جو 20 ویں صدی کے بہترین امریکی ناولوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ادھر امریکی صحافی اور ناول نگار ارنسٹ ہیمنگ وے ان بہت سارے غیر ملکیوں میں شامل ہیں جو 1920 کی دہائی کے دوران پیرس میں مقیم تھے۔ ہیمنگ وے کو ان کے سرپرست شیرووڈ اینڈرسن نے فرانسیسی دارالحکومت کے مشہور ادبی اور فنکارانہ حلقوں سے تعارف کرایا تھا۔ اس نے جرٹروڈ اسٹین، سلویہ بیچ اور جیمس جوائس کے ساتھ تیزی سے دوستی کی، یہاں تک کہ انہوں نے مصور جوآن میرو اور پکاسو سے بھی تعلق بنا لیا۔ ان دوستیوں نے ہیمنگوے کے ہنر کو ایک مصنف کی حیثیت سے بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی تصنیفات ”اِن آور ٹائم“ اور ”دی سن آلسو رائزز“ کی اشاعت کے لئے راہ ہموار کی۔ 1964 میں ان کی پیرس کے حوالے سے شاندار یادداشت ”اے مووایبل فیسٹ“ شائع ہوئی۔وجدان کی تلاش یا تجدید کے لئے بیرون ملک رہنا کوئی نیا تصور نہیں ہے۔ در حقیقت 17 ویں اور 18 ویں صدی کے دوران بہت سے نوجوانوں نے فنون لطیفہ کی تعلیم کے لازمی حصے کے طور پر کئی سال متعدد یورپی شہروں میں گزارے۔ متعدد مشہور مصنفین اور فنکاروں نے اپنی تخلیق میں مدد دینے کا سہرا بیرون ملک رہنے کا سر باندھا ہے کہ انہیں اس سے تجربات کا ایک انوکھا ذخیرہ حاصل ہوا۔

آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں یہ ضروری ہے کہ لوگوں کو عالمی شہری بننے کے لئے تیار کیا جائے جو ذہین، مہذب اور حساس انداز میں دوسروں سے رابطہ قائم کر سکیں۔ بیرون ملک رہنا لوگوں کو بہت سے انوکھے اور ناقابل فراموش تجربات میں مستغرق ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

مسافر مقامی زبان کی باریکی کو سمجھنے کے لئے کسی زبان کے سکول میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ متعدد ممالک معروف میوزیم اور آرٹ گیلریوں کے ساتھ، ثقافتی طور پر بھی متمول ہیں، جو ذہنوں کو موہ لیتی ہیں۔ سیاحت تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف ممالک کی مشترکہ تاریخ کو سمجھنے اور امن و خوشحالی کو برقرار رکھنے میں سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ کتابوں کی دکانیں اور لائبریریاں اپنے اندر بہترین خیالات، علم اور کہانیاں رکھتی ہیں۔ مزید برآں لوگ فطرت کے ناقابل فراموش تجربات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، جیسے سوئٹزرلینڈ میں پیدل سفر، لیک کومو میں تیراکی یا پروونس میں لیوینڈر فیلڈ میں ٹہلنا۔ شاید سب سے اہم بات کہ ہم زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے بہترین افراد سے مل اور دوستی کر سکتے ہیں۔ یہ تمام تجربات کسی کی بھی زندگی کو سنوارنے اور خوبصورت یادوں میں کھونے کے لئے کافی ہے۔بیرون ملک رہنے کا ایک پُر لطف پہلو نت نئے کھانوں کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی شیف اور ٹی وی سٹار جولیا کی کہانی سے مناسب کوئی اور نہیں۔ ان کو اپنے سفارتکار شوہر کے ساتھ پیرس میں رہائش کے دوران فرانسیسی کھانوں سے رومانس ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ روین شہر کے لا کورن ریسٹورنٹ میں اپنے پہلے فرانسیسی کھانے کو کبھی نہیں بھول پائیں۔ انہوں نے پیرس میں فوڈ کلچر سے وابستہ ماسٹر شیف میکس بگنارڈ کے زیر انتظام لی کارڈن بلو سکول میں ایک سالہ تربیتی پروگرام کے لئے داخلہ لے لیا۔

فارغ التحصیل ہونے کے فوراً بعد انہوں نے اپنے دوستوں سیمون بیک اور لوزیٹ برتھول کے ساتھ مل کر امریکی مارکیٹ میں کلاسیکل فرانسیسی کھانوں کا ایک ریستوران بنایا۔ ”ماسٹرنگ دی آرٹ آف فرنچ کوکنگ“ کی دو جلدیں 1961 اور 1970 میں شائع کی گئیں۔ انہوں نے ”فرانسیسی شیف“ کے عنوان سے اپنا ٹیلیویژن پروگرام شروع بھی کیا۔ امریکہ میں فرانسیسی کھانے متعارف کرانے اور امریکی گھرانوں میں مزیدار کھانا پکانے کی ابتدا کا سہرا انہی کے سر ہے۔پرانی اور نئی دونوں دنیاؤں کے اشرافیہ اور دانشوروں نے نئی نئی جہتوں کی تلاش کے راز کو سیاحت میں کھوجا ہے۔ دنیا کی خوبصورتی سے روشناس ہونے اور نظریات کے بہاؤ سے لازوال شاہکاروں کی تشکیل کے لئے دنیا کی سیر ضروری ہے۔ ہمیں ابن بطوطہ کے الفاظ پر توجہ دینی چاہئے، جنہوں نے ایک بار کہا تھا: ”سفر آپ کو بے آواز رکھتا ہے، پھر آپ کہانی سنانے والا ہوتے ہیں۔“

(بشکریہ: عرب نیوز۔ ترجمہ: میاں اشفاق)


ای پیپر