مزدور تحریک کا نیا جنم!
15 اکتوبر 2020 (12:31) 2020-10-15

 ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں مزدور تحریک منظم بھی تھی اور پُر اثر بھی۔ ملک میں مہنگائی کا مسئلہ ہو، بے روز گاری کی بڑھتی ہوئی شرح ہو، سامراج کا تسلط ہو، کشمیر کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ، پاکستان کے مزدور ان تمام مسائل پر سڑکوں پر آتے اور حکمرانوں کو مسائل کے حل پر مجبور کرتے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مزدور تحریک نے اپنا نظم بھی کھو دیا اور اثر بھی۔ مزدور تحریک کے زوال کے اسباب میں اگرچہ مزدور بھی ایک حد ذمہ دار ہیں، لیکن سامراج اور اس کے حاشیہ برداروں نے بھی اپنا پورا کردار ادا کرتے ہوئے ایسی پالیسیاں بنائی جن سے مزدور تحریک تنزلی کا شکار ہوتی رہی۔ اس تمام واقعے میں بنیادی کردار افغان جنگ کا ہے، جس میں فوائد تو ملکی اشرافیہ اور بین الاقوامی ٹھیکیداروں نے سمیٹے لیکن پاکستان کے عوام اور مزدوروں کے حصے میں نقصان ہی آئے اور نقصانات کا یہ سلسلہ آج بھی اسی طرح سے جاری ہے۔ مہنگائی اور بے روز گاری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی بنیادی ترجیح کشکول اور پرائی جنگیں لڑنا رہے ہیں۔ ملک میں صنعت اور تجارت کا فروغ کبھی بنیادی ترجیح نہیں رہا ہے، اور ظاہر ہے کہ جب ’آمدن‘ کی یہ مدیں ختم ہو جاتی ہے تو خزانہ خالی اور عوام بد سے بدحال ہوتے چلے جاتے ہیں۔   

آج عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔ لیکن حکومت ہے کہ اس کا طفلانہ پن ختم ہونے کے بجائے دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔  بجائے اس کے کہ مہنگائی کے ذمہ دار دواؤں کی فیکٹریوں اور آٹا اور چینی مالکان پر گرفت کرتی، ٹائیگر فورس کو بازاروں میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بھیج دیا ہے۔ کیا حکومت نہیں جانتی کہ مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے؟اگر نہیں تو کسی بھی عام شہری سے پوچھ لے وہ بتا دے گا کہ یہ بڑے بڑے کارخانے دار اور ذخیرہ اندوز مڈل مین مہنگائی کے ذمہ دار ہیں۔ اسی طرح ڈالر کی قیمت میں ہونے والا اضافہ ملک میں مہنگائی کے اضافے کا بنیادی سبب ہے۔ ہر ماہ بجلی کی قیمت میں خاموشی سے اضافہ کردیا جاتا ہے۔

اخبارات اور ٹی وی چینلز ملک میں آٹا بحران اور اشیائے خور و نوش کی مہنگائی پر حکومت کی توجہ دلائے جارہے ہیں  جس پر حکومت نے نہایت غور و فکر کے بعد مہنگائی کا حل یہ نکالا ہے کہ سابقہ صدوراور وزرائے اعظم کی مراعات کا جائزہ لے کر ان میں کمی کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔        

بے روزگاری کا حال ہے کہ ماسٹر ڈگریوں کے حامل نوجوان بیس بیس ہزار کی نوکریوں کی تلاش میں سڑکوں پر ہیں اور دوسرے وہ لوگ سڑکوں پر ہیں جنہیں سیٹھوں نے منافع میں نقصان کی وجہ سے ملازمتوں سے نکال دیا ہے۔ گزشتہ تین روز سے ڈنڈوٹ سیمنٹ کمپنی کے ملازمین نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد پریس کلب کے باہر دھرنے اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ پاکستان مزدور محاذ کے مرکزی سیکرٹری جنرل شوکت علی چوہدری جو ڈنڈوٹ سیمنٹ فیکٹری کے ملازمین کے مظاہرے کے روح رواں ہیں، بتاتے ہیں کہ یہ فیکٹری ایک سال قبل تھری اسٹار گروپ میاں منصور احمد اور  101 گروپ  کے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے خریدی تھی۔شوکت چوہدری بتاتے ہیں کہ ڈنڈوٹ سیمنٹ کی سی بی اے کے مطابق پچھلے چھ ماہ کے عرصے میں فیکٹری سے 13لاکھ ٹن سیمنٹ نکالا ہے۔ اس کے باوجود فیکٹری مالکان نے فیکٹری کی غیر قانونی بندش سے ناصرف بے روزگار کیا بلکہ پچھلے دس سال سے ریٹائرڈ اور فوت ہونے والے ملازمین کے واجبات بھی ادا نہیں کئے مزید یہ کہ سابقہ انتظامیہ اور سی بی اے یونین کے درمیان پرانے معاہدوں کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ احتجاج کرنے والے ملازمین کے مطالبات ہیں کہ ڈنڈوٹ سیمنٹ فیکٹری کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، فیکٹری سے نکالے جانے والے ملازمین کو بحال کیا جائے اور فیکٹری کی غیر قانونی بندش کو فوری طور پر ختم کیا جائے، اگر ان مطالبات پر عمل درآمد نہ ہوا تو وہ اپنے بیوی بچوں سمیت پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔ پچھلے ہفتے بھی گورنمنٹ ایمپلائز الائنس نے اسلام آباد میں اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے ایک بڑا اجتماع کیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے، دوسرا مطالبہ ملازمین کی ترقیوں کے شفاف طریقہ کار اور تیسرا مطالبہ تنخواہوں اور ترقیوں کے ساتھ الاؤنسزمیں بھی اضافے کا تھا۔     

قیام کے پندرہ بیس برس تک صنعت کا پھیلاؤ حکومتی سرپرستی میں ہوا  اور اسی مقصدکے لیے پاکستان انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ لیکن جیسے جیسے صنعت کا پھیلاؤ بڑھا صنعتوں کو نجی شعبے کے حوالے کیاجانے لگا، جس کے نتیجے میں ریاست اور سرمایہ داروں کا اتحاد وجود میں آیا جسے ستر کی تحریک میں بنیادی طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔لیکن اس کے بعد بھی جب 1971 ء میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو ا تو اقتصادی بحران سے نبرد آزما ہونے کے لئے بنیادی صنعتیں قومیانے کی پالیسی اختیار کی گئی۔پھر 1990ء میں پرائیویٹائزیشن اور کُھلی منڈی کافروغ شروع ہوا لیکن نجی سرمایے کے فروغ کی نسبت سے مزدور کی سہولیات نہ ہونے کے برابر رہیں۔ رہی سہی کسر ٹھیکیداری نظام نے پوری کردی جس سے مزدوروں کی  تنظیم سازی برے طریقے سے متاثر ہوئی۔صنعتیں سرکاری سرپرستی میں ہوں خواہ نجی شعبے کے پاس، محنت کش مزدور زبوں حالی کا شکار ہی رہے ہیں۔ اس سارے تناظر میں دیکھا جائے تو مزدور جدوجہد کے حوالے سے حالیہ دو مظاہرے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔  

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے سبب،آج ملک کو ایوب خان کے آخری دور کے حالات کا سامنا ہے۔آج حزبِ اختلاف حکومت کے خلاف متحد ہے اور سیاست کی بنیادی اقدار اور اصولوں کا نفاذ ان کا مطالبہ ہے۔ ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک کی کامیابی کی بڑی وجہ مزدور اور طالب علموں کا اس تحریک میں ہر اول دستے کے طور پر شامل ہونا تھا۔ لہٰذا اگر حزبِ اختلاف حقیقی طور پر مثبت تبدیلی کے لیے سرگرم ہے تو اسے مزدوروں اور طالب علموں کے مسائل کو بھی اولین ترجیح دے کر اس کے لیے باقاعدہ قابل عمل پروگرام متعارف کرانا ہوگا۔  ایسے میں مزدور تنظیمیں بھی اپنے اندر حقیقی قیادت پیدا کریں کہ ان کے مسائل کے نام پر موقع پرست فائدہ نہ اُٹھا لیں۔


ای پیپر