جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
15 اکتوبر 2020 (12:25) 2020-10-15

حکومت کے سخت اقدامات اور وزیر اعظم کے نوٹس در نوٹس کے باوجود مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آرہا،وزیر اعظم جس چیز کا نوٹس لیتے ہیں وہ نایاب ہو جاتی ہے،اب تو لوگ ان سے التجا کرتے ہیں کہ وہ نوٹس نہ ہی لیا کریں۔آج کل چاول کی جنس کے حالات کمزور ہیں،اگلے دن مجھے چاول کا کاروبار کرنے والے کچھ تاجر ملے،کہنے لگے ہم تو دعا کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم چاولوں کا بھی نوٹس لیں تاکہ یہ بھی مہنگے ہوں۔ وزیر اعظم نے چینی اورآٹے کا نوٹس لیا،دونوں اشیا کمیاب اور مہنگی ہو گئیں وزیر اعظم عمران خان نے اب مہنگائی کنٹرول کرنے کی ذمہ داری ٹائیگر فورس کو سونپ دی ہے، خدا خیر کرے۔ مہنگائی پر قابو پانے کا اختیار اور فرض منصبی انتظامیہ کا ہوتا ہے۔

سوال یہ کہ کس قانون اور اتھارٹی کے تحت فورس کے ارکان گراں فروشوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائیں گے،انتظامیہ کے متعلقہ حکام کا تعاون بھی ایک مسئلہ ہو گا،اہم ترین یہ کہ ٹائیگر فورس کے ارکان قانون سے عدم واقفیت اور ناتجربہ کاری کے باعث موثر ثابت نہ ہو سکیں گے،مہنگائی کے خاتمہ کیلئے اگر اب بھی مصنوعی اقدامات کئے گئے تو مہنگائی کے عفریت کو قابو کرنا ممکن نہ ہو گا اس کیلئے حقیقی اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے،ورنہ بقول ساغر صدیقی

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی

اس عہد کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے

مہنگائی اگر چہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے مگر ہمارے ہاں اس لئے بھی شائد زیادہ محسوس ہوتی ہے کہ روپے کی بے قدری انتہا کو ہے،بیروزگاری بھی ایک وجہ ہے،معیشت کا دستاویزی نہ ہونا بھی مہنگائی کی بڑی وجہ ہے،ساری دنیا میں پرچون فروشی کو صنعت کا درجہ حاصل ہے،مگر ہماری ہاں ریٹیلرز کے حوالے سے کوئی نظام نہیں ہے،ہر کوئی اپنی مرضی کا مالک ہے جس کا جو دل چاہتا ہے ریٹ وصول کرتا ہے،اور کسی اتھارٹی کا کوئی قانون ان پر لاگو نہیں،مہنگائی کوکنٹرول کرنے کیلئے پرائس اینڈ کنٹرول کے حوالے سے ایک باقاعدہ سسٹم کی ضرورت ہے دنیا بھر میں کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹینسی کو اس حوالے سے اہمیت حاصل ہے،لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں کسی بھی قسم کی مصنوعات کی قیمت متعین کرنے کا کوئی نظام نہیں ہے۔وزارت صنعت کے ماتحت یہ ادارہ ہر چیز کی لاگت،منافع اورفریٹ کا حساب لگا کر قیمت کا تعین کرتا ہے جبکہ پاکستان میں صنعتکار خود قیمت متعین کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور مرضی کا منافع حاصل کر تا ہے،جو مہنگائی کی ایک اور وجہ ہے،ان ڈائرکٹ ٹیکسز بھی مہنگائی کی ایک وجہ ہے،اکثر ٹیکس صنعت کار تو صارف سے وصول کر لیتے ہیں مگر حکومت کے خزانے میں جمع نہیں کراتے یا اس میں گھپلے بازی کرتے ہیں اس طرح بعض کرپٹ ملازمین کی جیب بھر جاتی ہے ڈاکہ

عوام کی جیب پر پڑتا ہے اور قومی خزانے کو بھی کچھ نہیں ملتا۔

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے مگر بد قسمتی سے کسی حکومت نے اس شعبہ کو صنعت کا درجہ دینے کی کوشش نہیں کی،چھوٹا کسان اور صارف ہمیشہ سے آڑھتی اور مڈل مین کے رحم و کرم پر رہے،چھوٹا کاشتکار فصل فوری فروخت کرنے کیلئے مڈل مین سے ایڈوانس لیکر اپنے ہاتھ کٹواتا رہا،آڑھتی صارف کو لوٹتے رہے ہیں یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اب کسان دوست اقدامات اٹھا رہے ہیں،ان کو اپنے اعلانات کے مطابق کسان کو جدید اور بہتر پیداوار دینے والے بیج اور کھاد کیساتھ پانی کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی،جدید زرعی مشینری کی خریداری پر ٹیکسوں میں چھوٹ دینا ہو گی،یا حکومتی سطح پر مشینری منگوا کر کسان کو سستے دام کرایہ پر مہیا کر کے بھی مسلہ حل کیا جا سکتا ہے۔

آج چینی اورآٹے کی قلت کی وجہ بھی چند لوگوں کی اجارہ داری ہے،یہ لوگ کارٹل بنا کر متفقہ فیصلے کرتے ہیں اور عوام کو لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے،بلکہ اس کیلئے ماحول بناتے ہیں،ان کی مرضی سے آٹا اور چینی سمگل بھی ہوتی ہے اور بر آمد بھی کی جاتی ہے،انہی کی مرضی سے بعد ازاں قلت پر انہی کے ذریعے درآمد بھی ہوتی ہے یہ کارٹل درآمد اور برآمد پر حکومت سے سبسڈی بھی لیتے ہیں اور عوام سے بھی دہرا منافع کماتے ہیں،اس مافیا کو توڑنے اور غیر موثر کر نے کی ضرورت ہے،زراعت کی ساتھ اگر دیہی علاقوں میں پولٹری،فش فارم،کیٹل فارم،گوٹ فارم اور شتر مرغ پالنے کی صنعت کی حکومتی سطح پر سر پرستی کی جائے تو نہ صرف کسان خوشحال ہو گا بلکہ زراعت بھی ترقی کرے گی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور مہنگائی پر قابو پانا ممکن ہو سکے گا۔

حکومت اگر زرعی اجناس کی درآمد و بر آمد پر فوری پابندی لگا دے،پر تعیش اشیاء کی درآمد مکمل طور پر روک دے،اور برآمدات میں اضافہ کیلئے صنعت کاروں کو مراعات دے تو مختصر عرصہ میں معیشت مستحکم ہو سکتی ہے،اس وقت ہزاروں ٹن آٹا،گندم اور چینی افغانستان سمگل ہو رہی ہے۔ فلور ملوں کے مالکان اپنا کوٹہ چکی والوں کو مہنگے داموں بیچ رہے ہیں، اس سلسلہ کو فوری روکنا ہو گا،فلور ملوں کو دی جانے والی گندم اور پیسے گئے آٹے کی پڑتال کو بھی رواج دینا ہو گا،چینی کی ملوں کی پیداوار اور فروخت پر گہری نگاہ رکھنا ہو گی،معیشت کی بہتری کیلئے کچھ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو نا پسندیدہ ہونگے مگر اب وہ ناگزیر ہو چکے ہیں۔


ای پیپر